سوشل میڈیا پر سنجیدگی سے گفتگو کے لیے تین چیزیں ہمیں یاد رکھنی چاہئیں:

اول: جو بات کریں وہ ہماری نظر میں درست ہو۔ کسی کی بات سے متاثر ہو کر نہ کریں۔

دوم: جو بات کرنے کا طریقہ ہو وہ شائستہ، مہذب اور مناسب ہو۔

سوم: رد عمل کی نفسیات سے بچیں۔

جب بھی ہم کسی ایسے موضوع پر گفتگو کرتے ہیں جس میں کسی طبقے کی دکھتی رگ متاثر ہوتی ہے یا مفادات پر زد پڑتی ہے تو وہ اس کے خلاف میدان میں ضرور آتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر قسم کے مفادات غلط ہی ہوں یا دکھتی رگ غلط ہی ہو، یہ نکتہ نظر کا اختلاف بھی ہو سکتا ہے جو کہ برا نہیں ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ ہم مخالف نکتہ نظر رکھتے ہیں تو ہماری بات بھی اسی کے خلاف ہوگی۔

اگر اول اور دوم کی کسوٹی پر آپ کی بات پوری اترتی ہے تو مخالفین کی کثرت یا ان کی شدت سے بالکل متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ ان مخالفین میں کچھ تو وہ ہوں گے جو سنجیدگی سے آپ کی پوسٹس یا اپنی وال پر گفتگو کریں گے۔ آپ بھی سنجیدگی سے ہی ان کا رد کیجیے اگر ضروری ہو۔ لیکن ایک بڑی تعداد وہ ہوگی جو صرف آپ کو چپ کروانے کی کوشش کرے گی۔ اس کے لیے وہ الزام تراشی سے لے کر گالیوں تک کوئی بھی حیلہ اختیار کر سکتے ہیں۔

انبیاء سے بہتر دعوت بھلا کس کی ہوگی؟ لیکن جب وہ دعوت دینے لگے تو قرآن کریم بتاتا ہے: "ان سب کے پاس ان کے رسول کھلے کھلے دلائل لے کر آئے، تو انہوں نے ان کہ منہ پر اپنے ہاتھ رکھ دیے، اور کہا کہ : جو پیغام تمہیں دے کر بھیجا گیا ہے، ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں، اور جس بات کی تم ہمیں دعوت دے رہے ہو، اس کے بارے میں ہمیں بڑا بھاری شک ہے۔ (ابراہیم: 9)"

یہی کام آج بھی بہت سے لوگ کرتے ہیں۔ آپ سیاست پر لکھیں گے تو وہ کہیں گے کہ یہ تمہارا میدان نہیں ہے۔ آپ حالات حاضرہ پر لکھیں گے تو وہ یہ بتانے آ جائیں گے کہ آپ کو فلاں موضوع تک ہی رہنا چاہیے۔ آپ کسی فقہی مسئلے کو بیان کریں گے تو وہ کہیں گے کہ تم فلاں سے زیادہ جانتے ہو؟ گالیاں دیں گے، برا بھلا کہیں گے، حوصلہ شکنی کی کوشش کریں گے، الزام لگائیں گے، طنز کریں گے، جو ان سے ہو سکے گا وہ کریں گے۔ اس میں دین والوں اور بے دینوں کا فرق بھی نہیں رہے گا بلکہ بعض اوقات کچھ دین کا دعوی رکھنے والے دوسروں سے زیادہ عجیب اور بیہودہ حرکتیں کریں گے۔

ایسے لوگوں کو اپنا کام کرنے دیں یا بلاک کر دیں۔ ان کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور عموماً انہوں نے سمجھنا بھی نہیں ہوتا، بس اپنے لیڈر، اپنے مفاد یا اپنے گروہ کی حمایت کرنی ہوتی ہے۔

آپ اپنا کام کرتے رہیے۔ ہماری تحاریر ایک بڑی تعداد میں وہ لوگ پڑھتے ہیں جو کبھی کوئی ری ایکشن نہیں دکھاتے لیکن پیغام لے لیتے ہیں۔ ہمارا کام حق بات حق انداز میں کرنا ہے۔

اول اور دوم کی بات تو ہو گئی۔ سوم بھی ان دونوں کی طرح ہی اہم ہے۔ جب ہماری تحاریر کچھ لوگ پڑھنے لگتے ہیں یا ہماری بات سننے لگتے ہیں تو یہی مذکورہ بالا مخالفین ہماری ذات پر یا بڑوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ ایسے میں قدرتی طور پر انسان چاہتا ہے کہ وہ رد عمل برابر یا زیادہ درجے کا دے۔ ان لوگوں کی ذات یا ان کے بڑوں کو ٹارگٹ کرے، خصوصاً جب وہ کوئی مفاد پرست ٹولہ ہوں اور ان کا ماضی داغ دار ہو۔ اس چاہت کو نفس و شیطان اور بڑھا دیتے ہیں۔ کاٹ دار مضامین ہم لکھ کر دوسرے کو اپنے تئیں "سزا" دے سکتے ہیں۔

یہ چیز کبھی کبھار ضروری ہوتی ہے لیکن عموماً نفسانی خواہش کی بنا پر ہوتی ہے۔ ایسی کوئی بھی تحریر فقط ایک تحریر نہیں ہوتی بلکہ ایک سیلاب ہوتی ہے جو ہماری کافی عرصے کی محنت کو بہا لے جاتا ہے اور پڑھنے والے کے ذہن میں غلط تصور پیدا کرتا ہے۔ ایسے میں ہمیں اپنی حدود مقرر کرنی ہوتی ہیں اور طے کرنا ہوتا ہے کہ کیا لکھنا یا کہنا ہے اور کیا نہیں؟ شریعت، تہذیب اور ذاتی نیت، تینوں چھلنیوں سے اس بات کو گزارنا ہوتا ہے۔ ہر تحریر کا مقصد سامنے رکھنا ہوتا ہے کہ ہم کیا لکھ رہے ہیں اور کیوں لکھ رہے ہیں؟ اور حق کیا ہے اس موضوع میں؟ یہ چیز ہمیں رد عمل کی نفسیات سے محفوظ رکھتی ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر پیغام رسانے کے لیے ہم نے ایک ہی کام کرنا ہے: حق بات کرنا۔ لیکن اس کے تین نکات ہیں: بات درست ہو، انداز درست ہو، ردعمل کی نفسیات سے محفوظ ہو۔