امام سفیان الثوری رحمہ اللہ تعالیٰ بادشاہوں سے چھپتے چھپاتے بصرہ پہنچے ، اُس وقت سلطان کے سپاہی اُن کی تلاش میں تھے ۔ ایک شخص کے پاس گئے اور فرمانے لگے : مجھے اپنے کھجوروں کے باغ پر مالی رکھ لو ، اِس کی حفاظت کرونگا ۔ ایک دن عشر اکھٹا کرنے سرکاری افسر آیا تو پوچھنے لگا : اے شیخ! تم کون ہو؟ فرمانے لگے : بس اہل کوفہ میں سے ہوں ۔ وہ افسر پوچھنے لگا : اچھا تو بتاؤ بصرہ کی کھجوریں زیادہ میٹھی ہیں یا پھر کوفہ کی؟ فرمانے لگے : میں نے کبھی بصرہ کی کھجوریں نہیں کھائیں ۔ وہ افسر غضبناک ہو کر کہنے لگا : تم تو بڑے جھوٹے شخص ہو ، اِس وقت زمین پر نیک ، گناہگار حتیٰ کہ آوارہ کتے بھی کھجوریں کھا رہے ہیں اور تم کھجوروں کے باغ میں کھڑے ہو کر کہتے ہو میں نے کبھی کھجور نہیں کھائی ۔ واپسی پر افسر نے اِس بات کا تذکرہ گورنر سے کیا تو وہ چونک پڑا اور کہنے لگا : تمہارا برا ہو ، جلدی سے واپس جاؤ اور اُسے گرفتار کرو ، وہ یقیناً سفیان الثوری ہے ۔ پولیس والے اُس جگہ پہنچے لیکن تب تک امام سفیان الثوری رحمہ اللہ تعالیٰ وہاں سے روپوش چکے تھے ۔
(سیر أعلام النبلاء : ٢٥٩/٧ )
https://chat.whatsapp.com/HVmBQOsLVRYBHRGbA1EiGr