مسلمانوں کے زوال کی ایک بڑی وجہ ______ بداخلاقی 

آج ایک کام سے شاپر کا پیکٹ لینے کے لیے گھر سے نکلا۔ گھر کے قریب ایک مشہور دکان ہے، جو کہ ایک غیر مسلم بھائی کی ملکیت ہے۔ چہ جائیکہ اپنے (مسلمان) بھائیوں سے خریداری کی جائے، اس لیے ایک قریبی دکان پر گیا۔ وہاں ایک صاحب بیٹھے تھے جو بہت چڑچڑے محسوس ہو رہے تھے، جیسے ابھی کسی کی سخت سرزنش کر کے آئے ہوں۔

جب ان سے شاپر کے لیے کہا تو نکال کر دے دیا، لیکن سائز میں کچھ فرق محسوس ہوا۔ فون کر کے دوبارہ سائز کی تصدیق کی۔ اتنے میں انھوں نے کسی کاروباری کو فون کیا اور غصے میں کہنے لگے:
"میں کچھ نہیں جانتا، آندھی ہو یا پانی، میں لڑکا بھیج رہا ہوں، مجھے آج ہی کے آج پیسے چاہیے، بس"

یہ سب باتیں وہ دکان کے لڑکوں سے بھی بڑی بدسلوکی سے کر رہے تھے اور وہ بھی گاہگ کے سامنے! یہ سب دیکھ کر دل کو افسوس ہوا۔ ہمارے پنج وقتہ نمازی بھائیوں کا حال اگر یہ ہے تو عام لوگوں کا کیا حال ہوگا؟

بہرحال، یہ سب سن کر میں خاموشی سے سامان لے کر اپنی راہ پر چل پڑا۔ لیکن جس مقصد کے لیے وہ شاپر لیا تھا، اس میں سائز بڑا نکلا۔ اب ڈرتے ڈرتے دوبارہ سائز بدلوانے گیا کہ کہیں میری بھی کلاس نہ لگ جائے۔ اور پھر وہی ہوا جو سوچا تھا وہی بےرخی، وہی سخت لہجہ، جیسے مجھ پر احسان کیا جا رہا ہو۔
ایسا ہرگز نہیں کہ تمام مسلمان تاجر ایسے ہی ہوتے ہیں، لیکن وہی مثل ہے کہ "گیہوں کے ساتھ گھن بھی پستا ہے۔"
میری تمام مسلمان تاجر بھائیوں سے مؤدبانہ اور عاجزانہ گزارش ہے کہ اپنے اخلاق درست کریں۔ آج مسلمانوں کے زوال کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے غیروں کے طور طریقے اپنا لیے ہیں اور سنتِ نبوی کو ترک کر دیا ہے، جبکہ غیروں نے سنتِ نبوی کو اپنانا شروع کر دیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
إن الله رفيق يحب الرفق في الأمر كله
"بے شک اللہ تعالیٰ نرمی فرمانے والا ہے، اور ہر کام میں نرمی کو پسند فرماتا ہے۔"
(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
ایک اور حدیث میں ہے:
وخالق الناس بخلق حسن
"لوگوں سے عمدہ اخلاق کے ساتھ پیش آؤ۔"
(سنن الترمذی، حدیث حسن صحیح)
ایسی اور بھی بہت سی احادیث صحیحہ میں موجود ہیں۔
میری اس تحریر کا مقصد ہرگز کسی کی تحقیر یا تذلیل نہیں، بلکہ اصلاحِ حال کی ایک سچی کوشش ہے۔ اگر ہمارے اخلاق ایسے ہی رہے تو دنیا ہم سے متاثر ہونے کے بجائے ہم سے بدظن ہو جائے گی ۔

ذلك ذكرى للذاكرين

✍️ طاسین عثمانی کانپوری