عشق مجازی ایک بہت ہی سنگین اور احمقانہ گناہ ۔
✍🏻 محمد عادل ارریاوی
_____________________________________
محترم قارئین ہمارے معاشرے میں ایک نہایت ہی گھٹیا اور بےہودہ رسم پیدا ہو گئی ہے جسے آج کل گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کے نام سے جانا جاتا ہے یہ رسم انسانیت کو ایسے گمراہ راستوں پر لے گئی ہے کہ شمار کرنا بھی مشکل ہے ہر دو افراد میں تیسرا شخص لازمی ملوث ہوتا ہے میرے بھائیو انسان کا دل بہت قیمتی ہے اسے ایسے شخص کے حوالے کرنا جسے پرواہ بھی نہ ہو خود پر ظلم ہے ناجائز حرام اور یک طرفہ محبتیں کبھی سکون نہیں دیتیں یہ صرف دل کی آزمائش اور روح کی بے چینی بڑھاتی ہیں اللہ نے کسی ایک انسان میں ہماری تقدیر قید نہیں کی دنیا میں بے شمار بہتر رشتے ہیں اور اللہ ہر بندے کے لیے اس کا مناسب جوڑا لکھ چکا ہے جو شخص اللہ کی رضا کے لیے حرام راستہ چھوڑ دیتا ہے اللہ اس کے لیے ایسی پاکیزہ اور محبت بھری زندگی کا دروازہ کھول دیتا ہے جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا اس لیے اپنا دل سستا نہ کرو اپنی خودداری کو کسی کے قدموں میں نہ رکھو اور یاد رکھو کہ اصل عزت اصل محبت اور اصل سکون صرف حلال رشتے میں ہے۔
ایک مرتبہ حضرت شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرما رہے تھے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ اپنے شیخ شاہ عبد الغنی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ کانپور گئے ایک ڈاکٹر آیا چالیس سال کے قریب عمر تھی اس کا کسی ڈاکٹرنی پر دل آگیا تھا اور اس سے شادی کرنا چاہتا تھا مگر اس ڈاکٹرنی کا دل کسی اور پر آیا ہوا تھا وہ اس کو لفٹ نہیں کراتی تھی بات بھی نہیں سنتی تھی وہ روتا رہتا تھا اس نے آکر میرے شیخ سے عرض کیا کہ حضرت ایک ڈاکٹرنی سے میر ادل مل گیا ہے میں چاہتا ہوں کہ میری شادی ہو جائے مگر وہ مجھ سے بالکل بے التفاتی بے توجہی برتتی ہے اس کو مجھ پر ذرا بھی رحم نہیں آتا اور یہ کہہ کر رونے لگا اس پر ایک عالم اضطراب طاری تھا اس کا جملہ اب تک یاد ہے اس نے کہا کہ میرے قلب پر عالم اضطراب طاری ہے میں پریشان و غم زدہ ہوں اور رونے بھی لگا حضرت نے کہا کہ اچھا میں دعا کرتا ہوں بعد میں حضرت نے فرمایا کہ ظالم کسی دوسری لڑکی سے شادی کیوں نہیں کرتا کیا عورتوں کی کوئی کمی ہے اسی کے پیچھے پڑا ہوا ہے ایسے معشوق کو دولاتیں مارو جو تم کو خاطر ہی میں نہ لائے کیا یہ کوئی مقصود ہے ؟ اللہ خیر کرے میرے بھائیو ایسی نیک لڑکی سے شادی کرو جو تم کو محبت سے قبول کرلے بعض لوگ فرد واحد پر فدا ہو جاتے ہیں نتیجہ یہ کہ کبھی تو وہ لڑ کی راضی نہیں ہوتی جیسے ایک بڑے میاں نے کہا کہ میری بیوی کا انتقال ہو گیا ہے میں دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں لیکن عجیب معاملہ ہے جس لڑکی کو میں پسند کرتا ہوں وہ مجھ بڈھے سے راضی نہیں ہوتی اور جو بڑھیا ہم سے راضی ہوتی ہے اس سے ہم راضی نہیں ہوتے کم عمر والی ہم سے راضی نہیں ہوتی اور بڈھی کو ہم پسند نہیں کرتے تو ایسی دنیائے بے وفا سے دل لگانے والا کیسا ہے ؟
حضرت شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے اس واقعے سے یہی سمجھ میں آتا ہے کہ انسان جب اپنے دل کو بے جا اور بے فائدہ محبتوں میں باندھ دیتا ہے تو وہ محبت نہیں بلکہ آزمائش بن جاتی ہے ایسی آزمائش جو انسان کے دل کا سکون چھین لیتی ہے اس کی خودی کمزور کر دیتی ہے اور اسے ایسے شخص کا محتاج بنا دیتی ہے جو اس کے دکھ درد تک سے بے خبر ہو میرے بھائیو اس دنیا میں ہزاروں لوگ ہیں اللہ ربّ العزت نے ہر شخص کے لیے کوئی نہ کوئی جوڑا بنایا ہے خود کو اس ایک انسان کی زد میں نہ رکھو جو تمہیں دیکھ کر بھی ان دیکھا کر دیتا ہے خدارا جھوٹی محبت کے نام پر اپنے دل کو رسوا نہ کرو میرے پیارو بات کو سمجھو اور دل میں اتار لو جس شخص کا کسی لڑکی کے ساتھ ناجائز تعلق بن گیا ہو اور وہ صرف اللہ کی رضا کے لیے اس گناہ سے توبہ کرکے اُس راستے کو چھوڑ دے تو یقین رکھو اللہ اُس کے نصیب میں ایسا پاکیزہ بہترین اور محبت بھرا جوڑا لکھ دیتا ہے جس کا اس نے کبھی خواب میں بھی گمان نہ کیا ہوتا خداراخود کو پہچانو اسلام میں ایسے تعلقات کا کوئی جواز نہیں یہ سراسر حرام اور نقصان دہ ہیں گناہ کا راستہ کبھی سکون نہیں دیتا۔
اللہ ربّ العزت ہم سب کو ہدایت دے اور ہمارے دلوں کو پاکیزگی وفاداری اور حلال محبت کی نعمت عطا فرمائے آمین یارب العالمین