تحریر : ہانیہ فاطمہ قادری
دنیا، ایک عارضی قیام گاہ ہے، جہاں خوشی اور غم کے رنگ یکساں نہیں رہتے۔ کبھی موسمِ بہار دل کو مسرور کرتا ہے، تو کبھی خزاں کی ہواؤں میں محرومی کی ٹھنڈک چبھنے لگتی ہے۔ کبھی کامیابی کی مسکراہٹ چہرے پر سجتی ہے، تو کبھی ناکامی کے آنسو رخساروں کو تر کرتے ہیں۔ یہ سب گردشِ ایام کی نشانیاں ہیں، جو نہ صرف انسان کی آزمائش کا ذریعہ بنتی ہیں بلکہ اس کی اصل بندگی کا معیار بھی طے کرتی ہیں۔
ان تمام کیفیات میں اگر کوئی کلمہ دل کو تسلی دیتا ہے، ایمان کو جِلا بخشتا ہے، اور انسان کو خالقِ حقیقی سے جوڑ دیتا ہے، تو وہ ہے:
الحمدللہ
یہ صرف ایک لفظ نہیں، بلکہ ایک کامل عقیدہ، ایک زندہ فلسفۂ حیات، اور ایک بندۂ مؤمن کی روح کی پکار ہے۔ یہ جملہ انسان کو سکھاتا ہے کہ اللہ کی طرف سے جو بھی حال نصیب ہو — نعمت ہو یا آزمائش — وہ سراپا خیر ہے، اور اسی پر قناعت و شکر ہی انسان کو مومنِ کامل کے درجے تک لے جاتا ہے۔
الحمدللہ کی قرآنی عظمت
اللہ رب العزت نے اپنے کلامِ مقدس کی ابتداء ہی اس جملے سے فرمائی:
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (الفاتحہ: 1)
گویا پورے قرآن کا آغاز بندے کو شکرگزاری کا سبق دے کر ہوتا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایک مؤمن کی روحانی بلندی کا پہلا زینہ الحمدللہ ہے۔
الحمدللہ کا مفہوم صرف زبانی شکر نہیں، بلکہ دل کا اعتراف، عقل کی رضا، اور عمل کی تابع داری بھی اس میں شامل ہے۔ ایک مؤمن جب یہ جملہ ادا کرتا ہے تو گویا وہ کہتا ہے:
اے میرے رب! ہر حال میں تو ہی لائقِ حمد ہے،کیوں کہ تو علیم ہے، حکیم ہے، اور تیرے فیصلے میرے فہم سے بالا اور میرے حق میں بہترین ہیں۔
الحمدللہ کی حدیثی فضیلت
رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: الْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ
الحمدللہ میزان کو بھر دیتا ہے۔(صحیح مسلم؛ ۲۲۳)
یعنی روزِ قیامت انسان کے اعمالِ صالحہ میں سب سے وزنی کلمات میں سے ایک الحمدللہ ہوگا۔ یہ وہ مبارک جملہ ہے جو دنیا میں انسان کو عاجزی، شکر، قناعت اور رضا سکھاتا ہے، اور آخرت میں اس کے لیے بھاری اجر کا باعث بنتا ہے۔
ایک اور روایت میں نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:
جس بندے کو اللہ تعالیٰ کوئی نعمت عطا فرمائے اور وہ کہے: ‘الحمدللہ’ تو اس کا شکر ادا ہو جاتا ہے۔
(ابن ماجہ؛ ۲۸۰۸)
مصیبت میں “الحمدللہ” کا مقام
جب انسان پر مصائب آتے ہیں تو عموماً شکوہ، مایوسی اور بے چینی اس کے دل و زبان پر غالب آ جاتی ہے۔ لیکن ایک سچا مؤمن، جب “الحمدللہ” کہتا ہے، تو گویا وہ مصیبت کو بھی حکمتِ الٰہی کا حصہ سمجھ کر قبول کر لیتا ہے۔ یہی وہ ایمان ہے جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا قول ہے:
اگر میں کسی آزمائش میں مبتلا ہو جاؤں اور اس پر الحمدللہ کہنے کی توفیق پا جاؤں، تو وہ مصیبت میرے لیے نعمت بن جاتی ہے۔
یہ وہ شعور ہے جو انسان کو صبر و رضا کی بلند چوٹی تک پہنچا دیتا ہے۔
خوشی میں الحمدللہ کا اثر
خوشی اور نعمت کا لمحہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان اکثر غفلت کا شکار ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی محنت یا قابلیت کو اس کامیابی کا ذریعہ سمجھ بیٹھتا ہے، اور اللہ کو فراموش کر دیتا ہے۔ لیکن جو بندہ ہر نعمت کے وقت الحمدللہ کہتا ہے، وہ حقیقت میں اللہ کی طرف نعمت کو منسوب کرتا ہے، اور یہی شکرگزاری اللہ کو محبوب ہے۔
قرآنِ کریم میں ہے:
لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمُْ وَ لَىٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ (ابراہیم: 7)
ترجمہ کنز العرفان: اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گااور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب سخت ہے۔
الحمدللہ: مکمل طرزِ زندگی
الحمدللہ کوئی وقتی کلمہ نہیں، بلکہ مؤمن کی زندگی کا مستقل مزاج اور دائمی نظریہ ہے۔ جو شخص ہر حالت میں الحمدللہ کو اپنا شعار بنا لیتا ہے، وہ مایوسی، حسد، شکوہ اور اضطراب جیسے مہلک امراض سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ وہ ہر حال میں راضی، ہر نعمت پر قانع، اور ہر مصیبت میں صابر رہتا ہے۔
ایسا بندہ اللہ کی رضا کے قریب، اور دنیا کی فانی کشمکش سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ حالات کی سختیاں یا آسانیاں، دونوں ہی عارضی ہیں، مگر ان میں بندے کا “ردِّعمل” دائمی اثر رکھتا ہے۔ اور اگر وہ ردِّعمل “الحمدللہ” ہو، تو وہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی کی ضمانت بن جاتا ہے۔
ایسا شخص جب تنہا ہوتا ہے، تب بھی الحمدللہ کہتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ تنہا نہیں — ربّ العٰلمین اس کے ساتھ ہے۔ جب اُس پر لوگ تنقید کرتے ہیں، دنیا کے در بند ہو جاتے ہیں، تب بھی اس کی زبان پر یہی ورد ہوتا ہے کہ:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی کُلِّ حَال
یعنی ہر حال میں تعریف تیرے لیے ہے، اے میرے رب!
یہی الحمدللہ اسے روحانی طاقت بخشتا ہے، بے یقینی کے طوفانوں میں یقین کا کنارا عطا کرتا ہے، اور دل میں اس یقین کو بٹھا دیتا ہے کہ میرا رببہتر جانتا ہے، اور وہ جو کرتا ہے، بہتر کرتا ہے۔ اسی لیے…
جب خوشی ملے تو “الحمدللہ” کہہ،اور جب غم آئے، تب بھی “الحمدللہ” کہہ،کیونکہ الحمدللہ صرف شکر نہیں — ایک مکمل طرزِ حیات ہے۔
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ قَلْبِي مُعَلَّقًا بِحَمْدِكَ، وَلِسَانِي رَطْبًا بِذِكْرِكَ، وَاجْعَلْنِي مِنَ الشَّاكِرِينَ وَالرَّاضِينَ فِي كُلِّ حَال، آمین یَا رَبَّ العَالَمِین۔
📚قادریہ اکیڈمی للبنات احمدآباد گجرات 📚
+۹۱ ۸۷۳۴۰۰۵۸۶۶