تحریر: ہانیہ فاطمہ قادریہ
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور دنیا میں محض کھیل تماشے کے لیے نہیں بھیجا، بلکہ ایک عظیم مقصد کے تحت پیدا فرمایا۔ اس مقصد کا خلاصہ ہے: اللہ کی عبادت، رسولِ اکرم ﷺ کی اطاعت، اور آخرت کی تیاری۔ ایک سچے مسلمان کی زندگی کا اصل ہدف صرف دنیاوی کامیابی حاصل کرنا نہیں، بلکہ جنت کا حصول ہونا چاہیے۔ اسی لیے ایک مومن دل سے یہ تمنا رکھتا ہے کہ وہ راہِ جنت کا مسافر بنے۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم واقعی اس راہ پر گامزن ہیں؟ یا صرف یہ گمان رکھتے ہیں کہ چونکہ ہم مسلمان ہیں، اس لیے ہمیں جنت خودبخود مل جائے گی؟ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج بہت سے لوگ صرف نام کے مسلمان ہیں۔ ان کے نام تو اسلامی ہیں، مگر ان کا عمل، اخلاق، کردار اور طرزِ زندگی اسلامی تعلیمات کے برخلاف ہوتا ہے۔
اسلام صرف نام رکھنے کا مذہب نہیں، بلکہ مکمل طرزِ حیات ہے۔ اگر ہم نماز کے پابند نہیں، جھوٹ بولتے ہیں، والدین کی نافرمانی کرتے ہیں، دوسروں کے حقوق تلف کرتے ہیں، تو ہم کیسے دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ہم جنت کے مسافر ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے سورۃ العصر میں واضح فرما دیا کہ محض ایمان کافی نہیں، بلکہ عملِ صالح، حق کی تلقین اور صبر بھی ضروری ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے بھی فرمایا: جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔
(بخاری و مسلم)
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ ایمان کا اثر انسان کی زبان، عمل، سلوک اور اخلاق میں ضرور ظاہر ہونا چاہیے۔ ورنہ ایمان کا دعویٰ کھوکھلا سمجھا جائے گا۔
جنت کا راستہ بظاہر آسان لگتا ہے، لیکن وہ صرف عبادتوں سے نہیں بلکہ مکمل دین پر عمل کرنے سے طے ہوتا ہے۔ سچ بولنا، صلہ رحمی، حلال روزی کمانا، حرام سے بچنا، انصاف کرنا، اور لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنا یہ سب راہِ جنت کے نشانات ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جب کوئی بندہ جنت کے راستے پر چلنے کا عزم کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے راستے آسان کر دیتا ہے۔
(صحیح مسلم)
بعض لوگ صرف زبانی دعوے کرتے ہیں کہ وہ جنتی ہیں، حالانکہ ان کے اعمال اس کے برعکس ہوتے ہیں۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگی ہمارے لیے عملی نمونہ ہے۔ حضرت بلال، حضرت خباب، اور دیگر صحابہ نے جنت کی خاطر سخت آزمائشیں برداشت کیں، مگر دین پر ثابت قدم رہے۔ ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ جنت کی راہ میں قربانیاں دینا ہی اصل کامیابی ہے۔ ہمیں بھی ان کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔
آخر میں ہم یہی کہیں گے کہ راہِ جنت کا سفر صرف دعووں سے طے نہیں ہوتا بلکہ اخلاص، سچائی، نیک اعمال، صبر، قربانی، اور تقویٰ سے طے ہوتا ہے۔ اگر ہم واقعی جنت کو اپنی آخری منزل سمجھتے ہیں تو ہمیں اپنی پوری زندگی قرآن و سنت کے مطابق گزارنی ہوگی۔
آئیے! آج ہم پکا ارادہ کریں کہ ہم صرف نام کے نہیں، بلکہ عمل کے مسلمان بنیں گے، اور اپنی آخرت کی تیاری کریں گے۔ یہی راہِ جنت ہے، اور یہی کامیابی کا راستہ ہے۔
اللهم اجعلنا من عبادك الصالحين، و اجعلنا من أهل الجنة، و ارزقنا السير على صراطك المستقيم۔ آمین یا رب العالمین۔
📚قادریہ اکیڈمی للبنات احمدآباد گجرات📚