تحریر: ہانیہ فاطمہ قادریہ
آج کا زمانہ ڈیجیٹل ترقی کا دور ہے۔ موبائل فون، انٹرنیٹ، اور خاص طور پر سوشل میڈیا نے زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کیا ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب، ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز پر موجودگی ایک عام سی بات بن چکی ہے، خاص طور پر نوجوان لڑکیوں کے لیے۔ مگر یہ عام بات رفتہ رفتہ ہمارے دینی، اخلاقی اور معاشرتی اقدار کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ اسلام نے عورت کو جو مقام، عزت، اور وقار عطا فرمایا ہے، سوشل میڈیا کے غلط استعمال کے سبب وہ متاثر ہو رہا ہے۔ اس مضمون کا مقصد یہی ہے کہ ہم سوشل میڈیا کے ان پوشیدہ فتنوں کو پہچانیں، اور ان سے بچنے کے لیے خود کو دینی شعور کے ساتھ آراستہ کریں۔
سوشل میڈیا کا پہلا بڑا فتنہ تصاویر اور ویڈیوز کی نمائش ہے۔ خواتین کی جانب سے اپنی سیلفیاں، فیشن، میک اپ یا ڈانس کی ویڈیوز اپلوڈ کرنا نہ صرف حیاء کے خلاف ہے بلکہ یہ نامحرموں کی نظروں کا مرکز بن کر گناہ کا سبب بنتا ہے۔ جس چہرے کو اللہ نے چھپانے کا حکم دیا، اُسے دنیا کے سامنے لانا گویا اللہ کے حکم کو پسِ پشت ڈالنا ہے۔ اس کے علاوہ دوسرا خطرناک فتنہ ہے نامحرم سے چیٹ، کمنٹس، اور دوستی۔ اکثر لڑکیاں لائکس، تعریفی کمنٹس اور انسٹا ڈی ایمز کے جھانسے میں آ کر گناہ کی طرف بڑھ جاتی ہیں۔ شیطان بہت چالاک ہے، وہ ایک معمولی پیغام سے دلوں میں وسوسہ ڈال کر انسان کو آہستہ آہستہ بربادی کی طرف لے جاتا ہے۔
تیسرا بڑا فتنہ شہرت، فالوورز اور تعریف کا لالچ ہے۔ کچھ لڑکیاں صرف اس لیے اپنی آواز، چہرہ، یا لباس دکھاتی ہیں کہ انہیں لائکس ملیں، لوگ ان کی تعریف کریں، یا وہ مشہور ہو جائیں۔ یہ دنیاوی شہرت وقتی ہوتی ہے، لیکن اس کے پیچھے دل و دماغ کی نیت متاثر ہو جاتی ہے۔ ایسا انسان پھر خلوصِ نیت اور اللہ کی رضا کو بھول کر صرف لوگوں کی واہ واہ کا اسیر بن جاتا ہے۔ یہ روحانی بیماری آہستہ آہستہ دین سے دوری، نفس پرستی، اور گمراہی کی طرف لے جاتی ہے۔
لہٰذا آج کی عورت، خاص طور پر مسلمان لڑکی کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو سوشل میڈیا کے فتنوں سے محفوظ رکھے۔ غیر ضروری پوسٹیں، تصاویر، اور ویڈیوز سے پرہیز کرے۔ اپنی شناخت کو باوقار، پردہ دار اور حیادار رکھے۔ اسے چاہیے کہ وہ ہر آن لائن قدم اٹھاتے وقت یہ سوچے: کیا میرا رب مجھ سے راضی ہوگا؟سوشل میڈیا پر موجود ہونا منع نہیں، لیکن اس کا استعمال احتیاط، تقویٰ، اور علم و حکمت کے ساتھ ہونا چاہیے۔ جس چیز سے دل میں بےچینی یا روحانی کمزوری محسوس ہو، وہی ہمارے لیے فتنہ ہے، اور فتنہ سے بچنا ایمان کا تقاضا ہے۔
آخر میں، ہمیں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ اصل عزت، کامیابی اور مقام رب کی رضا میں ہے، نہ کہ سوشل میڈیا کے فالوورز، کمنٹس، یا ویوز میں۔ ایک باحیا، نیک، پردہ دار عورت دنیا کے سامنے تو نہیں، لیکن اللہ کے فرشتوں اور صالحین کی دعاؤں میں ضرور پسندیدہ ہوتی ہے۔ تو آیئے، اپنے رب کی رضا کے لیے جئیں، اور دنیا کی واہ واہ کے فریب سے بچیں۔
اے اللہ!ہمیں اپنی نگاہوں، دلوں، اور نیتوں میں پاکیزگی عطا فرما۔
ہماری بیٹیوں، بہنوں اور ماؤں کو سوشل میڈیا کے فتنوں سے محفوظ رکھ۔ہمیں دنیا کی واہ واہ سے بچا کر، صرف اپنی رضا کا طلبگار بنا دے۔ اے ربِ کریم!ہمیں وہ شرم و حیا عطا فرما، جو حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کی سنت ہو، اور وہ غیرت عطا فرما، جو مومن کی پہچان ہو۔ آمین یا رب العالمین۔
📚قادریہ اکیڈمی للبنات احمدآباد گجرات 📚