آج کے اس جدید دور میں لوگ جتنا زیادہ دنیاوی معاملات میں ترقی کر رہے ہیں، اتنا ہی شعائر اسلام، احکام شریعت کو پس پشت ڈالتے جا رہے ہیں۔Modernity کے چکر میں یہ بھی بھولتے جا رہے ہیں کہ ہم کس کے بندے ہیں اور اس کے ہم پر کیا حقوق ہیں؟؟
ان سب کے باوجود بھی اگر کوئی شریعت اسلامیہ پر عمل پیرا ہونے کی کوشش بھی کرتا/ کرتی ہے، تو اس کو بھی عمل کرنے سے منع کیا جاتا ہے۔
ذرائع ابلاغ سے خبر موصول ہوئی کہ یہ ایک بہن شادی میں بھی پردے کو لے کر کتنا زیادہ فکرمند ہے اور ہر ممکن کوشش بھی کر رہی ہے کہ کیسے بھی کرکے ان کا پردہ نہ اترے، لیکن احباب و رشتے دار اس سے پردہ کو منع کرتے ہیں.
افسوس صد افسوس! کہ آج نکاح کرنے کا مطلب ہے کہ لڑکے والوں کی ہر من چاہی خواہشات کو پورا کرنا۔ الا ما شاء اللہ تعالی! وہ کہیں کہ بیٹھوں، تو بیٹھوں، وہ کہیں کہ چلو، تو چلو، وہ کہیں کہ رکو تو رکو، اور اگر ان کی ان خواہشات کو پورا نہ کیا جائے تو بس "رشتہ Cancel۔"
آج نکاح اتنا مشکل ہو گیا ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی لڑکی والے لڑکے والوں کی ہر بات کو مانتے ہیں،بھر چاہے اس میں رب العالمین کی نافرمانی ہی کیوں نہ ہو۔
ملت اسلامیہ کے والدین سے گزارش ہے کہ "خدارا! اپنی بیٹی یا بیٹے کا رشتہ کرتے وقت رب کی رضا کا ضرور خیال رکھیں، بھلے ہی رشتہ میں تاخیر ہو۔ "کیا معلوم کہ اس تاخیر میں ہی رب کی رضا، آپ کی بیٹی یا بیٹے کی آنے والی زندگی اور آخرت کی بھلائیاں چھپی ہوئی ہوں۔
رب العالمین سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین بجاہ خاتم النبیین و نبی الملاحمﷺ