اخلاص و للہیت ؛ دور حاضر کا کھویا ہوا جوہر


از قلم: محمد سلمان قاسمی کریم نگری


زمانۂ رواں میں جہاں ہمارے اعمال کا ظاہری پہلو شہد سے زیادہ میٹھا ہے وہیں ہمارے اعمال کا باطنی پہلو حنظل سے زیادہ تلخ ہے،اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہم اخلاص کی نعمت سے تہی دامن ہے اور رسمیت کے علم کو تھامے ہوئے ہیں اور جب رسمیت اور ظاہر پرستی اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو پھر معاشرہ اخلاقی و ذہنی انحطاط اور جمود کا شکار ہوجاتا ہے،اعمال بےروح ہوجاتے ہیں، غیر محسوس طریقے سے لوگ حقیقی دین اور اخلاقی تعلیمات کو بالائے طاق رکھ کر حصول منصب وجاہ کے لئے ہر طرح کی بے راہ روی اختیار کرنے لگ جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں حالات بگڑ جاتے ہیں اور مسلمان کسمپرسی کے سمندر میں اتنا غرق ہو جاتے ہیں کہ ساحل تک رسائی دشوار محسوس ہونے لگتی ہے، یہ بات کسی سے مخفی نہیں کہ حالات کے بگڑنے کا تعلق مسلمانوں کے اعمال سے ہے۔اسلامی تاریخ میں جب بھی مسلمانوں کو زوال کا سامنا ہوا تو اس کی بنیادی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ ان کے اعمال میں رسمیت کی آمیزش اور اخلاص کی کمی تھی چنانچہ اس عہد فتن میں اگر ہم حالات پرعمیق نظر ڈالیں گے تو یہ بات عیاں ہوجائے گی کہ آج ہمارے اعمال میں وہ روح نہیں ہے جس روح کے ذریعے سے صحابہ کرام نےخداتعالی کی غیبی مدد و نصرت کا مشاہدہ کیا اور حالات کے رخ کو موڑ ڈالا تھا۔


ہم میں سے کوئی اس بات سے ناآشنا نہیں ہیں کہ اللہ رب العزت کے نزدیک انسان کے عقائد و اعمال کی قبولیت کا تعلق نیت و اخلاص سے ہے اعمال کی کثرت و قلت کا اعتبار نہیں ہے بلکہ عمل کی روح کا اعتبار ہے،محض اعمال کے ظاہری ڈھانچے کو سنوارنے سے کچھ نہیں ہوگا جب تک کہ اس عمل کے اندر جان اور روح نہ پیدا کی جائے،کوئی بھی عمل خواہ وہ عبادات سے متعلق ہوں یا معاملات سے یا پھر خدمت خلق، رفاہ عامہ اور سیاسی و تنظیمی امور سے متعلق ہو اگر ہم اخلاص و للہیت کی نعمت سے تہی دست ہوں گے تو رسمیت کی دیمک ہمارے اعمال کو کھا جائے گی جس کی وجہ سے اللہ رب العزت کے یہاں وہ اعمال قبول بھی نہیں ہونگےچنانچہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ اخلاص و للہیت کی تاکید کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ *وما أمرٓوا الا ليعبدوا الله مخلصين له الدين* اور انہیں اس کے سوا کوئی اور حکم نہیں دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی عبادت اس طرح کرے کہ بندگی کو یکسو ہو کر صرف اسی کے لئے خاص رکھیں۔ اس آیت میں صاف طور پر بتایا گیا ہے کہ ہر عمل کو اللہ کے لئے خاص رکھا جائے جسمیں کوئی دنیوی مفاد اور غرض شامل نہ ہوں۔ اسی طرح مختلف احادیث نبوی میں اعمال کی قبولیت کے لئے اخلاص کے ناگزیر ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا"إن الله لايقبل من العمل إلا ما كان له خالصا وابتغي به وجهه"(رواه النسائي رقم:٣١٤٢)ترجمہ:اللہ تعالی اعمال میں سے صرف اسی عمل کو قبول فرماتے ہیں جو خالص انہی کے لئے ہو اور اس میں صرف اللہ تعالی ہی کی خوشنودی مقصود ہو.ایک دوسری حدیث میں اخلاص کے ذریعہ سے فتنوں کے دفع ہونے کا ذکر ہے چنانچہ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ھوئے سناکہ" اخلاص والوں کے لئےخوشخبری ہو کہ وہ اندھیروں میں چراغ ہیں ان کی وجہ سے سخت سے سخت فتنے دور ہو جاتے ہیں ہیں (رواہ البیہقی ٣٤٢/٥)


تیسری حدیث میں اللہ کی مدد اور نصرت کے نزول کا سبب اخلاصِ نیت کو بتایا گیا ہے،چنانچہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:إنما ينصر هذه الأمة بضعيفهابدعوتهم وصلاتهم واخلاصهم"کہ اللہ تعالی اس امت کی مدد اس کی قابلیت اور صلاحیت کی بنیاد پر نہیں فرماتے بلکہ کمزور لوگوں کی دعاؤں نمازوں اور ان کے اخلاص کی وجہ سے فرماتے ہیں،(رواہ النسائی 3180) مذکورہ بالا احادیث سے ہیں سے واضح ہو جاتی ہے کہ اخلاص و للہیت یہ ایک ایسا جوہر ہے جس سے ایک بہترین معاشرہ قائم ہوسکتا ہے جس کے ذریعے سے فتنوں کی بیخ کنی ہوتی ہے۔ اخلاص کی عملی مثال ہمیں اس سے پتہ چلتی ہے کہ ایک مرتبہ فقیہ ابو اللیث سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا اچھا کہ مخلص کسے کہتے ہیں؟ تو حضرت نے فرمایا کہ کیا تم نے چرواہے کو دیکھا ہے؟ کہ جب چرواہا بکریوں کے درمیان نماز کے لیے بیٹھتا ہے تو کیا اس کے دل میں یہ چاہت ہوتی ہےکہ بکریاں میری تعریف کریں گی؟ ہرگز نہیں اسے ذرا بھی توقع نہیں ہوتی کہ یہ بکریاں میری تعریف کریں گی, تو جس طرح ایک چرواہا بکریوں کے درمیان بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے اور اس کے دل میں بکریوں سے تعریف کی کوئی چاہت اور امید نہیں ہوتی اسی طرح مخلص بندہ جب لوگوں کے درمیان بیٹھ کر اللہ کی عبادت کرتا ہے تو اسے بھی لوگوں سے کوئی توقع نہیں ہوتی کہ یہ میری تعریف کریں گے.


مذکورہ بالا سطور سے یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ اعمال کی قبولیت میں اخلاص نیت کا کتنا بڑا دخل ہے اور اس کے برخلاف ریاکاری کی وجہ سے اجر و ثواب سے کتنی محرومیت ہے،یہی وجہ ہے کہ اعمال کر لینا بڑا آسان ہے لیکن اس معیار کے اعمال کرنا جو اللہ تعالی کو پسند آجائے یہ انتہائی دشوار کام ہے، لیکن جب ہمارے قلوب میں اخلاص کا پودا اگتا جائے گا تو اس کے ثمرات بھی محسوس ہونے لگیں گے۔کیونکہ اخلاص نیت کے ذریعے سے عبادات میں روحانیت، علم میں نورانیت، تعلیم و تدریس میں پختگی و برکت، دعوت وتبلیغ میں قبولیت، تصنیف و تالیف میں اثر و رسوخ، آپسی تعلقات میں جوڑ اور ایثار و محبت پیدا ہوتی ہے نیز سیاسی و تنظیمی کوششوں میں کامیابی مخلصین کا ہمیشہ انتظار کرتی رہتی ہے،غرض معاشرے میں ہر طرح کا انتشار واختلاف ختم ہوجاتا ہے اور اتحاد و اتفاق اخوت ومودت جیسے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں،اور پھر مخلصین کی زبان میں اللہ رب العزت ایسی تاثیر پیدا کرتے ہیں کہ جس سے وہ پتھر دلوں کو موم، خشک آنکھوں کو نم، دشمنوں کو دوست اور فاسقوں فاجروں کو تہجدگزار وتقوی شعار بنالیتے ہیں، چنانچہ ہمارے اکابر و اسلاف کے رگ و پے میں اخلاص سرایت کر گیا تھا،جس کے نتیجے میں ان کے ساتھ سخت سے سخت حالات میں بھی اللہ تعالی کی مدد شامل حال رہی اور انھوں نے حالات کا بھرپور سامنا کیا اور بدلتے حالات کے رخ کو موڑ ڈالا۔یہی وہ مخلصین تھے جنکے لئے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا مخلوق کو راضی کرنے سے کہیں زیادہ اہم تھا اگر انکے لئے ساری دنیا ناراض ہو جائے کوئی غم نہیں لیکن خدا تعالیٰ کی ناراضگی انکو برداشت نہیں ہوتی تھی کسی نے کہا خوب کہا ہے:


کیا تجھے علم نہیں تیری رضا کی خاطر

میں نے کس کس کو زمانے میں خفا رکھا ہے


لہذاضرورت اس بات کی ہے کہ آج ہم اپنے اعمال اور دل کے اندر اخلاص کا وہ دیا جلائیں جو بگڑتے حالات کی تاریکیوں میں روشنی کا کام کرے اور اپنے آپ کو خدا ترسی، آخرت کوشی، اخلاص و للہیت حسن نیت جیسے اوصاف سے آراستہ کریں،تاکہ کہ ہمارے ساتھ بھی ان ناسازگارحالات میں اللہ کی مددشامل حال رہے جس طرح ہمارے اکابر کے ساتھ رہ چکی ہے،نیز اخلاص و للہیت کے کھوئے ہوئے جوہر کو دوبارہ اپنے دلوں میں اجاگر کریں تاکہ اللہ رب العزت کی خوشنودی حاصل ہو جائے اور ہم دنیا و آخرت میں کامیاب ہوجائیں۔ اللہ تعالی ہم سب کی رسمیت کے مرض سے حفاظت فرمائیں اور اخلاص کے ساتھ تمام احکام کو بجا لانے کی توفیق نصیب فرمائے،آمین


اخلاص کی ثروت دے کردار کی رفعت دے

گستاخ نگاہوں کو کچھ اشک ندامت دے