*اے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا اللہ نے آپکو کس معیار کی عورت بنایا تھا؟*

کائنات آج بھی حیران ہے، فرشتے آج بھی حیران ہیں، اور اہل ایمان آج بھی سر جھکا کر سوچتے ہیں کہ وہ کون سی ہستی تھی جس کی چال بھی رسول خدا ﷺ سے ملتی تھی،ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا چلتی تھیں، ایسا لگتا تھا جیسے پیغمبر اسلام ﷺ چل رہے ہوں،جس کی حیا ایسی تھی کہ یہودی اور عیسائی بھی نگاہیں جھکا لیتے تھے، کم عمری میں شادی، کم عمری میں ماں بننا، جوانی میں دنیا سے رخصت ہو جانا مگر کردار ایسا کہ رہتی دنیا تک زندہ راتوں کو قرآن، سجدوں میں آنسو، اور زبان پر یہ درد بھری دعا یا اللہ تو نے راتیں چھوٹی کیوں بنا دیں، میری عبادت مکمل نہیں ہو پاتی،چکّی پیستے ہوئے ہاتھوں میں چھالے، غربت کا آخری درجہ، حسنین کریمین رضی اللہ تعالٰی عنھما کی پرورش، شوہر کی خدمت مگر کبھی شکوہ نہیں، کبھی شکایت نہیں،کبھی نہیں کہا علی تم اتنا کام کیوں کراتے ہو،کبھی نہیں کہا علی فاقہ کشی کیوں کراتے ہو،کبھی نہیں کہا علی تم مجھے جانتے نہیں میں خاتون جنت ہوں، کبھی نہیں کہا علی میری خواہش اس چیز کی ہے،نہیں کہا کبھی نہیں کہا۔

حضرت علی خود فرماتے ہیں جب حضرت فاطمہ ؓ عنہا دلہن بن کر میرے گھر آئیں تب میرے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا کیونکہ میں ایک غریب انسان تھا،اور یہ بات اللہ کے نبی ﷺ بھی جانتے تھے،ایک سوکھا ہوا روٹی کا ٹکڑا تھا جس کو فاطمہ نے پانی میں بھگو کر کھایا تھا،شادی کے تین دن کے بعد تک میرے گھر فاطمہ رہیں لیکن کوئی خاص لقمہ انکے پیٹ میں نہیں گیا،تین دن بعد پیغمبر اسلام تشریف لیکر آئے فاطمہ نبی کریم ﷺ کو دیکھ کر رونے لگیں اور روتے ہوئے گھر کے ایک کونے میں چلیں گئیں،اللہ کے نبی نے ارشاد فرمایا فاطمہ بیٹا کیا ہوا ہے علی نے کچھ بولا ہے،لیکن قربان انکے قدموں سے لگنے والی دھول پر، فاطمہ نے علی کی کوئی شکایت نہیں کی اور پیغمبر اسلام پوچھتے رہے،کچھ دیر بعد حضرت علی آئے اللہ کے آخری نبی نے ارشاد فرمایا اے علی تم نے فاطمہ سے کیا کہا کیوں فاطمہ رو رہیں ہیں تب حضرت علی نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ میں نے فاطمہ کو کچھ نہیں کہا ہے لیکن یا رسول اللہ ﷺ تین دن ہو گئے فاطمہ کو علی کے گھر آئے ہوئے ابھی تک کوئی پیٹ بھر کر غذا فاطمہ کے پیٹ میں نہیں گئی،اللہ کے نبی نے ارشاد فرمایا فاطمہ بتا دیا ہوتا میں کھانا بھیج دیتا،قربان حضرت فاطمہ اور تربیت مصطفیٰ ﷺ پر کہا اے انبیاء کرام علیہم السلام کے سردار آپنے ہی تو کہا تھا بیٹا علی غریب ہے اسکی کوئی شکایت مت کرنا،آپ نے ہی تو کہا تھا بیٹا علی کا تم پر زیادہ حق ہے اب اسکی اجازت بغیر قدم مت نکالنا،اب میری جرأت کیسے گوارہ کر سکتی تھیں میں علی کی مفلسی کا عالم آپکو بتاتی،میرے نبی نے ارشاد فرمایا فاطمہ آج تم نے اپنے باپ کا حق ادا کردیا،خدارا قربان حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا پر جسکی گود سے اسلام کو پروان ملا،جسکی گود سے کربلا کو سکون ملا جسکی گود سے امت محمدیہ کو عروج ملا جسکی گود سے اسلام کے علمبردار ملے جسکی گود سے جنتی جوانوں کے سردار ملے،جنکی گود سے یزید کے سامنے کھڑے ہو کر تاریخ کا وہ عظیم خطبہ دینے والی حضرت زینب ملیں جس نے کافروں کی عمارتوں کو اکھیڑ کر رکھ دیا،اور زمانے کو بتا دیا جب ماں تربیت مصطفٰی پاکر اور فاقہ کر کے اور اسلام کا نظریہ فکر آپنی آنکھوں میں بھرکے بچوں کو دودھ پلاتی ہے پھر وہ بچے کربلا کے میدان کو ہلانے والے ہو جاتے ہیں اور زمانے کو بتاتے ہیں:

دشت تو دشت ہیں دریا بھی نا چھوڑے ہم نے

بحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نے۔

اب میں عرض کرنا چاہوں گا اپنی ان بہنوں کی بارگاہ میں جو صرف ناشتہ نا ملنے پر پوری زندگی کے لیےاپنے شوہر کو موضوع سخن بنا لیتی ہیں،خدارا آپ بھی تو کنیز فاطمہ ہو آپ بھی تو نبی اکرم ﷺ کے رولسیس کو فولو کرنے والی ہو آخر صرف ناشتے میں کچھ کمی رہ جائے آپ پوری زندگی کے لیے شوہر کو موضوع سخن بنا لیتی ہو،خدارا سمجھیں شوہر کی حالت کو ممکن ہے کہ وہ کما حقہ آپکو ناشتہ نا کرایا ہو،لیکن کیا آپ دوسرے وقت میں اس سے کہہ کر اس سے بہتر ناشتہ نہیں کر سکتی؟ ضرور کر سکتی ہو،اگر بندہ مینیج کرنے والا ہو تب گھروں میں جھگڑے نہیں ہوتے بلکہ ہونے والے تمام جھگڑے ختم ہو جاتے ہیں لیکن مینیج کرنا ضروری ہے،اور (ھنّ لباس لّكم و انتم لباس لّهنّ) کا یہ بھی ایک مفہوم ہے۔

خدارا ذرا اُس عظمت کو دیکھیے جس کے سامنے دنیا کے تمام القاب ہیچ ہیں،وہ چاہتیں تو کہہ سکتی تھیں، میں نبی آخرالزماں ﷺ کی بیٹی ہوں، میں وجۂ کائنات کی لختِ جگر ہوں، میری ماں خدیجۃ الکبریٰؓ ہے، میں علی المرتضیٰؓ کی زوجہ ہوں، میں حسنینؓ جیسے جنت کے نوجوانوں کے سرداروں کی ماں ہوں، میں جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہوں، میں خیرالنساء ہوں، میں افضل النساء ہوں، میں جنت الفردوس کی شہزادی ہوں مگر نہیں اس شان، اس عظمت، اس بلندی کے باوجود نہ کبھی غرور، نہ تکبر، نہ حکمرانی بلکہ عاجزی، صبر، خدمت اور شکر عظمت کا تاج سر پر تھا مگر سر ہمیشہ جھکا رہا یہی فاطمی شان ہے۔

آج کی عورت نعرے اٹھائے سڑکوں پر کھڑی ہے، کبھی کہتی ہے میں کھانا نہیں پکاتی، کبھی کہتی ہے میرا جسم میری مرضی اور ادھر خاتون جنت وہ تھیں جن کے پاس حکم دینے کا پورا حق تھا، مگر انہوں نے خدمت کو عزت بنایا، صبر کو طاقت بنایا، حیا کو پہچان بنایا، اور خاموشی کو وقار سوال یہ نہیں کہ حقوق کیا ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے اپنا اصل مقام کیوں چھوڑ دیا؟ ہم نے پردے کو بوجھ، تربیت کو زحمت اور بے حیائی کو ترقی کیوں سمجھ لیا؟

وہ معاشرہ جہاں عورت کو زندہ درگور کیا جاتا تھا، وہیں اسلام نے فاطمہؓ جیسی عظمت کو جنم دیا اور آج ہم خود اپنے مقام سے اتر کر دوسروں کے بچھائے ہوئے فکری جال میں کیوں پھنس رہے ہیں؟ ہم سیدہ فاطمہؓ کے قدموں کی خاک کے برابر بھی نہیں، پھر ہمیں کس بات کا غرور ہے؟ اصل آزادی سڑک پر نہیں، سجدے میں ہے،اصل عزت نعروں میں نہیں، کردار میں ہے، اصل کامیابی جسم کی نمائش میں نہیں، ایمان کی روشنی میں ہے آؤ اسلام کی مقدس شہزادیوں فاطمی راستہ اپنائیں حیا، صبر، وقار، غیرت اور خدمت کا راستہ،تاکہ پھر کوئی حسنین کریمین جیسی ہستیاں ہمارے جسم میں پروان چڑھیں پھر کوئی سلطان صلاح الدین ایوبی جیسے بیٹے امت کو ملیں،اللہ کریم ہمیں سوچنے سمجھنے کی توفیق بخشے آمیـــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔

*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*