شادی کیلئے نیک سیرت باحیاء عورت کا انتخاب کریں


✍🏻بقلم محمد عادل ارریاوی

______________________________

محترم قارئین ہر انسان کو چاہیے کہ شادی کیلئے ہمیشہ نیک سیرت با حیا عورت کا انتخاب کریں یعنی جب انسان ازدواجی زندگی کا آغاز کر رہا ہو تو اُسے چاہیے کہ وہ جس عورت کا انتخاب کرے اور جسے اپنا رفیق سفر بنائے اور جس سے ازدواجی تعلق قائم کرے تو وہ عورت نیک صالح اور باحیا ہو عموماً دیکھنے میں آتا ہے بعض لوگ صرف حسن و جمال کو دیکھتے ہیں بعض صرف دولت اور پیسے کو اور بعض خاندان کو دیکھتے ہیں۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک خوبصورت واقعہ ملاحظہ کریں ۔

واقعہ یہ ہے کی ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غلام اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مدینہ طیبہ کی گلیوں میں رات کی تاریکی میں گشت فر رہے تھے میں بھی ساتھ تھا آپ جب گشت کرتے کرتے تھک گئے تو ایک دیوار کے کنارے بیٹھ گئے اچانک گھر سے آواز آئی کوئی عورت اپنی بیٹی سے کہہ رہی ہے بیٹی اٹھ دودھ میں پانی ملا دے بیٹی کہتی ہے اماں آپ کو امیر المؤمنین کا حکم معلوم نہیں؟ ماں بولی امیر المؤمنین نے کیا حکم دیا ہے؟ بیٹی نے کہا کہ امیر المؤمنین نے حکم دیا ہے کہ دودھ میں پانی نہ ملایا جائے ماں بولی تو پانی ملا دے تجھے کونسا امیر المؤمنین اس وقت دیکھ رہا ہے ؟ بیٹی بولی نہیں اماں ایسا نہیں ہو سکتا کہ میں لوگوں کے سامنے تو امیر المؤمنین کی اطاعت کروں اور خلوت میں ان کی نافرمانی کروں حضرت عمر رضی اللہ عنہ ماں بیٹی کی باتیں سن رہے تھے غلام سے فرمایا اسلم اس دروازے پر نشان لگا دو اور اس جگہ کو یاد رکھو صبح ہوئی تو آپ نے اسلم سے کہا کہ جاؤ دیکھ کر آؤ یہ باتیں کرنے والی عورتیں کون تھیں اور آیا ان کے شوہر ہیں یا نہیں ؟ حضرت اسلم فرماتے ہیں میں نے اس جگہ آکر معلومات حاصل کیں تو پتہ چلا کہ دودھ میں پانی ملانے کا مشورہ دینے والی عورت ماں ہے اور منع کرنے والی بیٹی ہے جو غیر شادی شدہ ہے اور گھر میں مرد کوئی نہیں ہے یہ معلومات حاصل کر کے میں نے امیر المؤمنین کو اطلاع دی آپ نے اپنے صاحبزادوں کو جمع کیا اور فرمایا تم میں سے کسی کو شادی کی ضرورت ہو تو بتلائے میں اس کی شادی اس لڑکی سے کر دیتا ہوں اگر مجھے نکاح کی ضرورت ہوتی تو میں خود اس لڑکی سے نکاح کرتا حضرت عبداللہ اور حضرت عبد الرحمن دونوں نے عرض کیا کہ ہماری تو پہلے ہی بیویاں موجود ہیں مزید کی ضرورت نہیں حضرت عاصم بولے ابا جان میری شادی نہیں ہوئی اس لیے اس سے میری شادی کر دیں چنانچہ آپ نے اپنے صاحبزادے عاصم کی شادی اس لڑکی سے کر دی اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک بیٹی عطا کی اس بیٹی سے خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ پیدا ہوئے اس لحاظ سے وہ لڑکی حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کی نانی ہوئی حضرت عاصم نا نا ہوئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ پڑنانا ہوئے ۔( تاریخ مدینہ دمِشق ص ۲۵۳)

تو دیکھیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بائیس لاکھ مربع میل کے بادشاہ تھے اگر چاہتے تو کسی دولت والی پیسے والی حسن و جمال والی لڑکی کا انتخاب کر لیتے لیکن انہوں نے رشتے کے انتخاب میں نہ حسن کو دیکھا نہ حسب و نسب کو دیکھا بلکہ سیرت کو دیکھا اور سیرت میں بھی تقویٰ کو دیکھا اس بچی کا ایک جملہ سنا ہے صرف اس جملے نے اتنا اثر کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بیٹے کا ان کے ساتھ نکاح کرا دیا اور پھر اس سے ایک بچی پیدا ہوئی اور اس سے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ جیسے نیک صالح حکمران پیدا ہوئے معلوم ہوا نیکی کبھی ضائع نہیں ہوتی اور یہ بھی معلوم ہوا کہ رشتے کے انتخاب میں حیاء اور سیرت کو دیکھا جاتا ہے اس لیے ہمیشہ شادی کیلئے ایسی عورت کا انتخاب کیا جائے جو حسن سیرت والی ہو جو آنکھوں کی ٹھنڈک پہنچانے والی ہو۔

اللہ ربّ العزت ہم سب کو نیک صالح باحیاء عورت عطاء فرمائے آمین یارب العالمین