ایک مخلصانہ تذکیر، درد دل کے ساتھ...
آج کل کا دینی نوجوان، جب علومِ شریعت کے کسی مرحلے سے فارغ ہوتا ہے، بالخصوص فقہ و افتاء کی بظاہر تکمیل کے بعد، تو عموماً سب سے پہلے جو تبدیلی آتی ہے، وہ دل کے اندر نہیں، بلکہ واٹس ایپ کے نیم میں آتی ہے!
جیسے ہی اسناد ہاتھ آتی ہیں، "مفتی" کا تمغہ چمکتا ہوا نام سے پہلے جُڑ جاتا ہے۔
واٹس ایپ، فیس بک، انسٹاگرام — ہر جگہ یہی تمنا:
"دین کی خدمت کا آغاز بھی ہو، تو پہلے اپنے نام کو چمکا کر ہو!"
لیکن...
اے دین کے مسافر! رُک جا، ذرا سوچ!
کیا تو نے کبھی تنہائی میں بیٹھ کر یہ غور کیا ہے کہ:
"مفتی" صرف ایک لقب ہے؟
یا یہ ایک ایسا منصب ہے جس کے نیچے امت کی عزتیں، عقیدے، مسائل اور نسلوں کا مستقبل دبا ہوا ہوتا ہے؟
"مفتی" بننا آسان ہے، لیکن "امت کا مفتی" بننا...
یہ تو خوف، علم، حلم، اخلاص، اور گہری بصیرت کا میدان ہے۔
ہمارے اکابر کیا کرتے تھے؟
جنہوں نے دین کے دریا بہا دیے، جن کے اقوال آج بھی فتووں کی بنیاد ہیں —
وہ "مفتی" کہلانے سے ڈرتے تھے، جھجکتے تھے، گھبراتے تھے۔
حضرت مفتی کفایت اللہ دہلویؒ
حضرت مفتی محمد شفیع عثمانیؒ
حضرت مفتی محمود الحسن گنگوہیؒ
یہ سب اس وقت بھی "مولوی"، "خادمِ دین"، "طالب علم" کہلوانا پسند کرتے تھے،
جب ان کی زبان سے نکلا ایک جملہ قانونِ شرع سمجھا جاتا تھا۔
ان کا اصول تھا:
"مفتی ہونے کا اعلان خود سے نہ کرو... اگر امت کی زبان پر آ جائے، تو سر جھکا کر قبول کرو۔"
اکابر کی روایت اور آج کی حقیقت
شیخ الاسلام حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ:
"ہمارے ملک میں مفتی کورس کا کوئی تصور ہی نہیں تھا، جب ہم دونوں بھائیوں نے درس نظامی مکمل کیا، تو ہمارے والد صاحب نے فقہ میں مہارت پیدا کرنے اور فتویٰ دینے کے لیے ہمیں ایک نصاب بنا کر پڑھایا۔ اس کے بعد دوسری شرط یہ رکھی کہ اس نصاب کو پڑھنے کے بعد آپ نے بیس تیس سال کسی ماہر مفتی کی نگرانی میں مشق کرنا ہے۔ اس تربیت کے بعد بڑے مشورہ کریں گے، اگر ان کو تسلی ہوئی تو آپ کو 'مفتی' لقب مل سکتا ہے، ورنہ نہیں۔"
وہ مزید فرماتے ہیں:
"آج بھی دارالعلوم کراچی میں کئی سفید ریش علماء کو 'مفتی' لکھنے کی اجازت تا حال نہیں مل سکی۔ گویا نصاب کے ساتھ 'مفتی' بننے کے لیے دو چیزیں لازم تھیں:
(1) کم از کم بیس سال تربیت و تمرین
(2) بڑوں کا اعتماد۔"
استاد جی کا شکوہ ہے کہ آج کل تو تخصص کی کلاس میں داخلہ لیتے ہی بعض طالب علم اپنے نام کے ساتھ "مفتی" لکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہی بے احتیاطی ہے کہ ہر جگہ "مفتی" ملتا ہے۔ حضرت مفتی شفیع رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ:
"دارالعلوم دیوبند میں جب کوئی سائل مسئلہ پوچھنے آتا تو ہر مفتی یہ کہہ کر اس کو دوسرے کے پاس بھیجتے کہ میں چھوٹا ہوں، اس عالم سے پوچھئے وہ مجھ سے بڑا ہے۔ آج کل ہر کوئی خود کو بڑا کہتا ہے۔"
اصل المیہ یہ ہے کہ صرف یک سالہ یا دو سالہ نصاب باقی رہ گیا، تربیت کی شرط کو حذف کر دیا گیا، اور بلا کسی امتحان و اطمینان کے، ہر کوئی خود کو ہی "مفتی" لکھنا شروع کر دیتا ہے۔
ہمارے اکابر فرماتے ہیں:
"مفتی اللہ تعالیٰ کا خلیفہ ہوتا ہے، اس کے مہر سے عام آدمی کے لیے کوئی چیز حرام بھی ہو جاتی ہے اور حلال بھی۔ یاد رکھئے! اہلیت کے بغیر جب کوئی کسی منصب و عہدہ کو سنبھالتا ہے تو ادارے ہی نہیں، بلکہ معاشرے برباد ہو جاتے ہیں۔ مفتی کوئی عہدہ نہیں، بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ جتنا مقدور ہو، خود کو بلا ضرورت اس ذمہ داری سے بچانا چاہیے۔"
اے طالبِ افتاء!
"مفتی" وہ نہیں جو جلدی فتویٰ دے، بلکہ وہ ہے جو فتویٰ نہ دینے کے خوف سے راتوں کو سو نہ سکے۔
وہ جو کہے:
❝ یہ مسئلہ مجھے علم نہیں، میں سیکھ کر بتاتا ہوں ❞
وہ جو ہر فتویٰ سے پہلے اپنے دل میں قبر، سوالِ منکر نکیر، اور روزِ حساب کو یاد کرے۔
واٹس ایپ پر "مفتی" لکھنا حرام نہیں...
لیکن اگر اس کے نیچے:
غرور ہو،
شہرت کی ہوس ہو،
جلدبازی میں فتوے بازی ہو —
تو یہ علم کی تباہی، روح کا زوال، اور امت کے اعتماد کی رسوائی ہے۔
التماس یہ ہے:
منصب سے پہلے مزاج سیکھو
القاب سے پہلے لب و لہجہ سیکھو
شہرت سے پہلے خاموشی میں جیو
اور فتویٰ کو کھیل نہیں، امانت سمجھو!
دعا ہے کہ
ہم سب "فتویٰ" کو فخر نہیں، فکر بنائیں،
اور "مفتی" کا لقب تب ہی اپنائیں، جب:
قلب میں خوفِ خدا ہو
زبان پر صداقت ہو
اور زندگی میں اخلاص کی گواہی ہو۔