مضمون (54)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بعثتِ رسول ﷺ سے قبل عرب کے حالات — تحقیقی و مدلل مطالعہ
***************
رسولِ اکرم ﷺ کی بعثت ایک عظیم تاریخی موڑ تھی جس نے ملّتوں کو تاریکی سے روشنی کی طرف ہدایت دی۔ ان کی بعثت سے قبل عرب ایک ایسا معاشرہ تھا جو جہالت، شرک، معاشرتی انارکی، اخلاقی پستی اور تہذیبی انہدام میں مبتلا تھا۔ دین بگڑ چکا تھا، عبادتیں خرافات بن چکی تھیں، اور انسانیت کا وقار پامال تھا۔ اس تحقیق کا مقصد بعثتِ نبوی سے قبل عرب کی حقیقی صورتِ حال کا جائزہ لانا اور اس کا تقابل اس انقلاب سے کرنا ہے جو مصطفیٰ ﷺ کے ذریعے نافذ ہوا۔
مذہبی حالات: شرک، بت پرستی اور مذہب کی تجارت
عرب کا مذہبی نظام بوسیدہ اور توہم پرستی پر مبنی تھا۔
ہر قبیلے کا اپنا الگ بت ہوتا، اور کعبہ میں 360 بت رکھے تھے۔ عبادت کا تصور شرک و شرم سے آلودہ تھا—یہودیت، نصرانیت، مجوسیت، صابیئت اور مختلف مقامی و بیرونی عقائد—کا گہوارہ تھا، مگر عملی صورتِ حال شرک و بت پرستی پر ہی قائم تھی۔ لوگ خود ساختہ خداؤں کے آگے جھکتے، ان سے حاجتیں مانگتے اور ان کے نام پر قربانیاں دیتے تھے۔ حضرت ابراہیمؑ کی لائی ہوئی توحید کے آثار ناموں تک میں باقی تھے، مگر اس کی حقیقی روح مٹ چکی تھی۔اسی حقیقت کو قرآن کریم یوں بیان کرتا ہے
أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّىٰ
وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَىٰ
أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَىٰ
تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ
سورہ النجم پ27.آیت 19.20/21/22/
ترجمہ :کیا پھر دیکھا تم نے لات کو اور عزی کو اور منات کو. تیسری ایک اور. کیا تمہارے لیئے لڑکے ہیں اور اس کے لیئے لڑکیاں
لات اور عزی :یہ بتوں کے نام تھے. مشرک. جن کی پوجا کرتے تھے _ان کا خیال تھا کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں اور یہ بت ملائکہ کے ہیکل ہیں _کچھ لوگ کہتے تھے کہ جنات کی عورتیں (پریاں) خدا کی بیٹیاں ہیں اور یہ بت ان کے مسکن ہیں.
تفسيرِ مظہری سورۃ النجم آیت 19 کے مفہوم میں اس کا ذکر ہے
یہودی اور نصرانی علماء بھی اپنی خود غرضی میں دین کو تحریف کر چکے تھے:
ارشاد باری تعالیٰ ہے
فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَٰذَا مِنْ عِندِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ۖ فَوَيْلٌ لَّهُم مِّمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَّهُم مِّمَّا يَكْسِبُونَ _سورۃ البقرہ، آیت 79
عورتوں اور کمزور طبقات کی حالت
بعثتِ نبویؐ سے قبل عرب معاشرے میں عورت شدید ظلم و محرومی کا شکار تھی۔ نہ اسے رائے کا حق حاصل تھا، نہ تعلیم کا، اور نہ ہی معاشرے میں کوئی باعزت مقام۔ جاہلیت کے اس دور میں بیٹی کی پیدائش کو ذلت سمجھا جاتا تھا، حتیٰ کہ معصوم بچیوں کو زندہ دفن کر دینے جیسا سنگدلانہ عمل عام تھا۔
اسی خوفناک رویّے کی تصویر قرآنِ کریم یوں بیان کرتا ہے:
﴿وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِالْأُنثَىٰ ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ يَتَوَارَىٰ مِنَ الْقَوْمِ مِن سُوءِ مَا بُشِّرَ بِهِ ۚ أَيُمْسِكُهُ عَلَىٰ هُونٍ أَمْ يَدُسُّهُ فِي التُّرَابِ ۗ أَلَا سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ﴾
(سورۃ النحل: 58–59)سورۃ التکویر آیت 8 /9
بعثتِ رسول ﷺ سے قبل عرب کا معاشرہ جاہلیت، ظلم اور بے راہ روی میں ڈوبا ہوا تھا۔ عورتیں اور کمزور طبقات شدید ظلم کا شکار تھے، حتیٰ کہ بیٹی کی پیدائش پر چہرے سیاہ پڑ جاتے اور اسے زندہ دفن کرنے تک کا سوچا جاتا۔ قرآن نے اس ظالمانہ رویّے کو بے نقاب کیا اور انسانیت کو اس کے خلاف جھنجھوڑا۔
قبائلی جنگیں اور فتنہ انگیزی
عرب معاشرہ مسلسل جنگ و جدال میں مبتلا تھا۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر نسلوں تک لڑائیاں ہوتی رہتیں
کسی کی عزت کا قتل تو کیا، کسی کے اونٹ کا قتل بھی جنگ کی آگ بھڑکا دیتا تھا۔"
ولادتِ مصطفیٰ ﷺ اور معجزاتی آثار
رسول اللہ ﷺ کے ظہور کے وقت ایسے معجزات رونما ہوئے جن سے ایک نئے عصر کا آغاز ہوا:
نوشیروان کے محل کے چودہ کنگروں کا گر جانا
آتشکدہ فارس کا بجھ جانا
دریائے ساوہ کا خشک ہو جانا
"یہ واقعات دنیا کے نظام کے بدلنے کی آہٹ تھے۔"
ولادتِ مصطفیٰ ﷺ — معجزاتی آثار اور اصلاحی انقلاب
رسولِ کریم ﷺ کی ولادتِ پاک وہ عظیم ساعت تھی جس نے کائنات کو نئے نور اور ہدایت کے دور میں داخل کر دیا۔ آپ ﷺ کے ظہور کے ساتھ ہی ایسے معجزاتی آثار ظاہر ہوئے جنہوں نے اعلان کیا کہ اب ظلم، جہالت اور ناانصافی کے اندھیروں کا خاتمہ ہونے والا ہے۔
معجزاتی آثار — ایک نئے دور کی بشارت
1. نوشیروان کے محل کے چودہ کنگوروں کا گر جانا
فارس کی عظیم سلطنت کے شان و شوکت والے محل کے چودہ مضبوط کنگورے اچانک منہدم ہوگئے۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ باطل کی بلند و بالا عمارتیں اب گرنے والی ہیں اور ایک نئی عالمی قیادت جنم لے رہی ہے۔
2. آتشکدۂ فارس کا بجھ جانا
ہزار سال سے روشن رہنے والی آگ اس رات اچانک سرد ہوگئی۔ یہ اس نورِ حق کی آمد کی طرف اشارہ تھا جو ہر باطل روشنی کو بجھا دینے والا ہے۔
3. دریائے ساوہ کا خشک ہو جانا
وہ دریا جسے لوگ مقدس سمجھتے تھے اچانک خشک ہوگیا، گویا وہ اعلان کر رہا ہو کہ اب تقدیرِ انسانی کا رخ بدلنے والا ہے اور دنیا میں وہ ہستی آگئی ہے جس کے قدموں سے ہدایت کے چشمے پھوٹیں گے۔
رسول اللہ ﷺ کا اصلاحی انقلاب — رحمت کا عالمگیر پیغام
ولادتِ مصطفیٰ ﷺ صرف معجزات کا ظہور نہیں تھی، بلکہ انسانیت کی سب سے عظیم اصلاحی تحریک کا آغاز بھی تھی۔
رحمتِ عالم ﷺ ایسی رحمت بن کر آئے جس نے دنیا کو عزت، عدل، اخلاق، امن اور برابری کا درس دیا۔
آپ ﷺ نے:
انسان کو انسان ہونے کا احترام دیا
عورت کو مقام، عزت اور وراثت کا حق دیا
غلاموں کو آزادی اور برابری کے دروازے دکھائے
معاشرے کو عدل و مساوات کا نظام عطا کیا
جہالت زدہ قوم کو اعلیٰ اخلاق کا نمونہ بنا دیا
قرآنِ کریم نے اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا:
"وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ"
“اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔”
(سورۃ الانبیاء آیت 107)
رسول اکرم ﷺ کی بعثت نے عرب کی نہ صرف مذہبی پستی کو ختم کیا بلکہ معاشرتی عدل، مذہبی آزادی، آواز کے حقوق اور اخلاقی اصلاحات کی نئی بنیادیں قائم کیں۔ یہ انقلاب انسانی تاریخ کا نقطۂ عطف ہے، جس کا اثر آج بھی دنیا کی تہذیب، قانون اور اخلاق پر قائم
آپ ﷺ کی ولادت کے معجزات نے آسمان و زمین کو یہ پیغام دیا کہ حق کا سورج طلوع ہوگیا ہے، اور آپ ﷺ کی اصلاحی تحریک نے پوری انسانیت کو یہ سکھایا کہ عدل، رحمت اور اخلاق ہی وہ بنیادیں ہیں جن پر ایک پُرامن اور باوقار معاشرہ قائم ہوتا ہے۔
یوں آپ ﷺ کی آمد محض تاریخ کا واقعہ نہیں، بلکہ انسانیت کی نئی صبح تھی۔
:نوٹ:
اس مضمون کے دیگر تمام حصے معتبر کتبِ سیرت، تاریخی مراجع اور مستند اسلامی مصادر سے ماخوذ ہیں۔
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com
اعتراض کا حق حاصل ہے مگر مدلل ہی ہونا چاہیئے. بے محل گفتگو، بے ربط دعوے اور اِدھر اُدھر کی باتوں کی کوئی گنجائش نہیں۔