اللّٰہ تعالیٰ کا قرآن کریم کو عربی زبان میں نازل کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالی ایک ہے، اللّٰہ کا دین ایک ہے اللہ کی شریعت ایک ہے اسی طرح اللّٰہ تعالیٰ کا منشا یہ ہے کہ اختلاف رنگ و نسل اختلاف ملک و زبان کے باوجود تمام اہل اسلام کو دینی معاشرتی اور اخلاقی طور پر متحد کیا جائے اور یہ عظیم مقصد اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب تمام اہل اسلام کا قبلہ ایک ہو، خاتم النبیین ایک ہو، قران ایک ہو اور ان سب کی رسم زبان بھی ایک ہو تاکہ ان نقطہاۓ وحدت میں تمام اہل اسلام جسد واحد کی طرح متحد ہو جائیں اور سب کا نام صرف مسلمان ہو
(ھُوَ سَمَّاکُمْ المُسْلِمِیْنَ۔ (الحج
اس کے برعکس اگر تمام قوم اور ہر ملک کا قران الگ الگ زبان میں نازل ہوتا تو اس میں تحریف قرآن کے بے شمار راستے کھل جاتے اور قران کریم کے کلام کا کلام محفوظ ہونا جو اس کی ایسی خصوصیت ہے کہ اغیار اور منکرین قران بھی تسلیم کرنے سے گریز نہیں کر سکتے یہ معجزانہ خصوصیت قائم نہ رہتی، اور ایک ہی دین ایک ہی کتاب کے ہوتے ہوئے اس کے ماننے والوں کی اتنی مختلف راہیں ہو جاتی کہ کوئی نقطہ وحدت ہی باقی نہ رہتا بلکہ الگ الگ زبان کے قران کے ماننے والوں کے درمیان اتنا ہی فاصلہ ہو جاتا جتنا آج مسلمان اور یہود و نصاری کے درمیان ہے۔