اعظم خان کا درد بھرا بیان، ملک کے موجودہ حالات اور مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے
سلوک پر ایک سنجیدہ سوال
یہ محض ایک سیاسی رہنما کی فریاد نہیں، بلکہ ہندوستانی مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کے دل میں پیدا ہونے والے احساسِ عدم تحفظ اور ناانصافی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس جملے نے ایک بار پھر ملک کے سامنے ایک بنیادی سوال کھڑا کردیا ہے: کیا ہندوستان میں مسلمان ہونا واقعی کسی کے لیے جرم بن گیا ہے؟ کیا اس ملک کے آئین، قانون اور جمہوری اقدار میں مذہب کی بنیاد پر کسی شہری کے ساتھ امتیازی سلوک کی کوئی گنجائش ہے؟
ایک رہنما کی فریاد یا پورے معاشرے کا درد؟
31 اکتوبر 2026 کو اعظم خان تقریباً گیارہ ماہ بعد رام پور جیل سے باہر آئے۔ انہیں اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم کو دو پین کارڈ رکھنے کے معاملے میں الٰہ آباد ہائی کورٹ سے ضمانت ملی تھی، لیکن جیل کے دروازے سے باہر نکلتے ہی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے انہیں ایک الگ منی لانڈرنگ معاملے میں اپنی تحویل میں لے لیا۔ اسی موقع پر انہوں نے میڈیا کے سامنے سوال اٹھایا کہ آخر ایک مسلمان کے لیے یونیورسٹی اور بچوں کے اسکول قائم کرنا بھی جرم ہے؟
یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اعظم خان کے خلاف درج مقدمات اور ان پر عائد الزامات کی قانونی حیثیت کا فیصلہ عدالتوں کو کرنا ہے۔ کسی بھی شخص کو محض اس کے مذہب کی بنیاد پر بے گناہ یا مجرم قرار نہیں دیا جاسکتا۔ لیکن یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا کسی سیاسی رہنما کے خلاف مسلسل مقدمات، طویل عدالتی کارروائیوں اور بار بار جیل جانے کی صورت حال میں انصاف کے تقاضے پوری طرح پورے ہو رہے ہیں؟ کیا قانون کا استعمال ہر شہری کے لیے یکساں ہے؟ اور کیا سیاسی اختلاف رکھنے والوں کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا رویہ غیر جانب دار رہتا ہے؟
ہندوستان کا آئین اور مسلمان شہری کا حق
ہندوستان کسی ایک مذہب، فرقے یا طبقے کی جاگیر نہیں، بلکہ یہ مختلف مذاہب، زبانوں، تہذیبوں اور ثقافتوں کے ماننے والوں کا مشترکہ وطن ہے۔ اس ملک کی آزادی میں مسلمانوں نے بھی ناقابلِ فراموش قربانیاں دی ہیں۔ علمائے کرام، مجاہدین آزادی، ادیبوں، صحافیوں، تاجروں اور عام شہریوں نے اس ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا خون پسینہ ایک کیا ہے۔
ہندوستانی آئین کی دفعہ 14 ہر شہری کو قانون کے سامنے مساوات اور قانون کے یکساں تحفظ کی ضمانت دیتی ہے۔ دفعہ 15 مذہب، نسل، ذات، جنس اور جائے پیدائش کی بنیاد پر امتیازی سلوک سے روکتی ہے، جبکہ دفعہ 25 ہر شخص کو مذہبی آزادی کا حق دیتی ہے۔
ایسے میں کسی ہندوستانی مسلمان کو اپنے مذہب کی وجہ سے خوف، امتیاز یا محرومی کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔ مسلمان ہونا نہ کوئی جرم ہے، نہ کوئی عیب اور نہ ہی کسی شہری کے بنیادی حقوق میں کمی کی وجہ بن سکتا ہے۔
لیکن افسوس کہ آج ملک کے مختلف حصوں سے ایسی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں جو مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا کرتی ہیں کہ کیا آئین میں دی گئی ضمانتیں عملی زندگی میں بھی سب کے لیے یکساں ہیں؟
مسلمانوں کے خلاف نفرت کا بڑھتا ہوا ماحول
ملک میں گزشتہ کچھ عرصے سے مذہبی شناخت کی بنیاد پر نفرت انگیز بیانات، اشتعال انگیز تقاریر، ہجومی تشدد، عبادت گاہوں کے تنازعات، مسلمانوں کے مکانات اور کاروباروں کے خلاف کارروائیوں اور سماجی بائیکاٹ کی اپیلوں جیسے واقعات نے ایک تشویش ناک ماحول پیدا کیا ہے۔
کبھی کسی مسلمان کے لباس کو نشانہ بنایا جاتا ہے، کبھی اس کے کھانے پینے کو موضوعِ بحث بنا دیا جاتا ہے، کبھی اس کی عبادت اور مذہبی شناخت پر سوال اٹھائے جاتے ہیں اور کبھی اس کی حب الوطنی کو کٹہرے میں کھڑا کردیا جاتا ہے۔
آخر یہ کیسا ماحول ہے جس میں ایک مسلمان شہری کو بار بار یہ ثابت کرنا پڑے کہ وہ بھی اس ملک سے اتنی ہی محبت کرتا ہے جتنی محبت کسی دوسرے مذہب کے ماننے والے کو اپنے وطن سے ہوسکتی ہے؟
کسی بھی جمہوری ملک میں شہری کی حب الوطنی کا پیمانہ اس کا مذہب، نام، لباس یا کھانے پینے کی عادت نہیں، بلکہ اس کا کردار، آئین سے وابستگی اور ملک کے تئیں اس کی ذمہ داریاں ہونی چاہئیں۔
کیا ہر مسلمان ملزم اور مشکوک ہے؟
یہ ایک تلخ سوال ہے، لیکن اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ملک میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اپنے بچوں کے مستقبل، روزگار، تعلیم، کاروبار اور سماجی تحفظ کے حوالے سے فکرمند کیوں ہے؟
اگر کوئی مسلمان کسی جرم میں ملوث ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ضرور ہونی چاہیے۔ قانون کی بالادستی کا تقاضا یہی ہے کہ مجرم کو سزا ملے، خواہ وہ کسی بھی مذہب یا سیاسی جماعت سے تعلق رکھتا ہو۔ لیکن کسی ایک فرد کے جرم کو پوری مذہبی برادری کے کھاتے میں ڈال دینا کہاں کا انصاف ہے؟
اسی طرح کسی شخص کے خلاف مقدمات درج ہونا بذاتِ خود اس کے مجرم ہونے کا ثبوت نہیں۔ جب تک عدالت میں الزامات ثابت نہ ہوں، اسے قانون کے مطابق اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔
اعظم خان کے معاملے میں بھی یہی اصول لاگو ہونا چاہیے۔ اگر ان کے خلاف الزامات ہیں تو ان کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ہوں، عدالت میں مقدمات چلیں اور فیصلے قانون و شواہد کی بنیاد پر ہوں۔ لیکن اگر کسی بھی شخص کے ساتھ سیاسی انتقام یا مذہبی تعصب کی بنیاد پر کارروائی ہوتی ہے تو یہ صرف اس شخص کے ساتھ ناانصافی نہیں بلکہ جمہوری نظام کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔اعظم خان کا معاملہ اور مسلمانوں کی سیاسی بے وزنی
اعظم خان اتر پردیش کی سیاست کا ایک معروف نام ہیں۔ انہوں نے طویل عرصے تک سیاست میں سرگرم کردار ادا کیا، کئی مرتبہ اسمبلی کی نمائندگی کی، ریاستی حکومت میں وزارت کے فرائض انجام دیے اور رام پور میں مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کی سیاسی زندگی پر تنقید ہوسکتی ہے، ان کے فیصلوں سے اختلاف ہوسکتا ہے اور ان کے خلاف درج مقدمات کی قانونی جانچ بھی ہونی چاہیے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی شخص کی سیاسی غلطیوں یا قانونی تنازعات کی بنیاد پر اس کے بنیادی انسانی اور شہری حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
اعظم خان کا یہ کہنا کہ ایک مسلمان نے یونیورسٹی بنائی، بچوں کے لیے اسکول قائم کیے، یہی اس کا گناہ بن گیا، دراصل اس احساس کو ظاہر کرتا ہے کہ مسلمان جب تعلیمی، سیاسی اور سماجی میدان میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے مختلف قسم کی رکاوٹوں اور مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہاں سوال صرف اعظم خان کا نہیں، بلکہ اس پورے نظام کا ہے جس میں ایک مسلمان رہنما کو اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے مذہب کا حوالہ دینا پڑ رہا ہے۔
مسلمانوں کو بھی اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا
اس صورت حال کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جس سے مسلمانوں کو منہ نہیں موڑنا چاہیے۔ صرف شکایت، احتجاج اور جذباتی نعروں سے قوموں کی تقدیر نہیں بدلا کرتی۔ مسلمانوں کو اپنی تعلیمی، معاشی، سماجی اور سیاسی کمزوریوں کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔
تعلیم سے دوری، باہمی اختلافات، قیادت کا فقدان، سیاسی مفادات کے لیے تقسیم، معاشی پسماندگی اور اجتماعی مسائل پر غیر سنجیدگی ایسے عوامل ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو کمزور کیا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنے بچوں کو جدید اور دینی دونوں طرح کی معیاری تعلیم دیں، آئینی حقوق سے واقف ہوں، قانونی معاملات میں بیدار رہیں، اپنے نوجوانوں کو باصلاحیت بنائیں اور جمہوری نظام میں اپنی مؤثر شرکت کو یقینی بنائیں۔
مسلمانوں کو اپنے حقوق کے لیے آواز بھی اٹھانی چاہیے، لیکن اس آواز میں آئین، قانون، دلیل، اتحاد اور قومی یکجہتی کی قوت ہونی چاہیے۔
ملک کو کس سمت لے جایا جارہا ہے؟
ہندوستان کی اصل خوب صورتی اس کے تنوع، مذہبی رواداری اور باہمی احترام میں ہے۔ یہاں مندر کی گھنٹیاں بھی بجتی ہیں، مسجدوں سے اذان کی صدائیں بھی بلند ہوتی ہیں، گرجا گھروں میں عبادت بھی ہوتی ہے اور گردواروں میں انسانیت و خدمت کا پیغام بھی دیا جاتا ہے۔
یہی ہندوستان کی تہذیبی شناخت ہے اور یہی اس کی طاقت ہے۔
اگر کسی ایک طبقے کو خوف زدہ کرکے، اس کی مذہبی شناخت کو مشکوک بناکر یا اسے سیاسی اور سماجی طور پر تنہا کرکے ملک کو مضبوط بنانے کا خواب دیکھا جارہا ہے تو یہ ایک خطرناک غلط فہمی ہے۔ ملک کی مضبوطی کسی ایک مذہب کی بالادستی میں نہیں، بلکہ تمام شہریوں کے مساوی حقوق، انصاف اور باہمی اعتماد میں مضمر ہے۔
حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، سیاسی جماعتیں بدلتی رہتی ہیں، اقتدار کے ایوانوں میں چہرے تبدیل ہوتے رہتے ہیں، لیکن ملک اور اس کا آئین باقی رہتا ہے۔ اس لیے کسی بھی حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کے جان و مال، عزت، مذہبی آزادی اور آئینی حقوق کی حفاظت کرے۔
سوال حکومت سے بھی ہے اور سماج سے بھی!
اعظم خان کے بیان کو محض ایک سیاسی بیان سمجھ کر نظر انداز کردینا شاید آسان ہو، لیکن اس کے پیچھے چھپے ہوئے درد اور احساسِ محرومی کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہونا چاہیے۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ کسی مسلمان کو قانون سے بالاتر رکھا جائے۔ ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ مسلمان ہونے کی بنیاد پر کسی کو خصوصی رعایت دی جائے۔ ہمارا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ جو قانون ایک ہندو، سکھ، عیسائی یا کسی دوسرے مذہب کے ماننے والے کے لیے ہے، وہی قانون مسلمان کے لیے بھی ہو۔ جس انصاف کا حق ملک کے کسی عام شہری کو حاصل ہے، وہی حق مسلمان کو بھی ملے۔
اگر ایک مسلمان مجرم ہے تو اسے سزا ملنی چاہیے، لیکن اگر وہ بے گناہ ہے تو اسے صرف اس کی مذہبی شناخت یا سیاسی مخالفت کی وجہ سے سزا نہیں ملنی چاہیے۔
آج ہندوستان کو ایسے ماحول کی ضرورت ہے جہاں کسی کو اپنے نام، مذہب، لباس یا عبادت کی وجہ سے خوف محسوس نہ ہو۔ جہاں مسجد، مندر، گرجا گھر اور گردوارہ سب محفوظ ہوں۔ جہاں کسی یونیورسٹی کا قیام اس کے بانی کے مذہب کی بنیاد پر متنازع نہ بنے، بلکہ اس کی تعلیمی خدمات کی بنیاد پر اس کا جائزہ لیا جائے۔
آخر میں اعظم خان کے اس جملے پر ایک بار پھر غور کیجیے: ’’میرا جرم یہ ہے کہ میں مسلمان ہوں۔‘‘
ہندوستان کے آئین، جمہوریت اور مشترکہ تہذیب پر یقین رکھنے والے ہر شخص کو اس جملے پر غور کرنا چاہیے۔ کیونکہ اگر آج ایک مسلمان یہ احساس لے کر جی رہا ہے کہ اس کی مذہبی شناخت ہی اس کے لیے مشکلات کا سبب بن رہی ہے تو کل یہ احساس کسی دوسرے کمزور طبقے کے دل میں بھی پیدا ہوسکتا ہے۔
ہمیں ایسا ہندوستان چاہیے جہاں کوئی اعظم خان، کوئی عام مسلمان، کوئی دلت، کوئی قبائلی یا کسی بھی مذہب و طبقے سے تعلق رکھنے والا شہری یہ کہنے پر مجبور نہ ہو کہ اس کا جرم اس کی شناخت ہے۔
کیونکہ ہندوستان کسی ایک مذہب کے ماننے والوں کا نہیں، بلکہ ہندوستان کے تمام شہریوں کا ہے۔ یہاں مسلمان ہونا جرم نہیں، ہندوستانی ہونا ہر شہری کا فخر ہے اور انصاف مانگنا ہر شہری کا آئینی حق!