میرا شہر: بمبئی
01 نومبر، 2026
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
✍️ محمد عثمان ابنِ سعید بمبوی
(متعلم عربی سوم جامعہ ڈابھیل)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا شہر وہی ہے جہاں فُٹ پاتھ پر لوگ آدھے ننگے رہتے ہیں اور ہر صبح اخباروں میں اسکَیموں کے پنگے رہتے ہیں۔ میرا شہر وہی ہے جہاں مال و ثروت کی فراوانی اور عیش و عشرت کی ارزانی کے سامنے نہ جانے کتنے غریبوں کی ناداریاں اور کتنے بے بسوں کی لاچاریاں روزانہ دم توڑ دیتی ہیں۔ میرا شہر وہی ہے جہاں گَردوں سے ہم کلام فلک بوس عمارتوں کے پہلو بہ پہلو زمیں دوز جھونپڑ پٹیوں کا ایک امنڈتا ہوا سیلاب بہتا ہے۔ میرا شہر وہی ہے جہاں ہوٹلوں اور ریستورانوں کی چوکھٹ پر بیٹھی غربت، امیری و تونگری کے نظارے سے پیٹ کی آگ بجھاتی ہے۔ میرا شہر وہی ہے جو مالداروں پر چھپڑ پھاڑ کر دولت کی بارش برساتا اور مفلسوں کو ایک ایک چھیتڑے کے لئے ترساتا ہے۔
یہاں ہر صبح کا آفتاب کسی کے لیے نویدِ مسرت لاتا ہے تو کسی کو پیامِ رحلت دیتا ہے۔ یہاں جب تپتی دوپہر کو مزدور نچڑے تھکے بدن کی تھکن اتارنے لیٹتا ہے تبھی بگڑے ہوئے امیر زادوں کی پَو پھوٹتی ہے۔ یہاں ہر شام کا ایک نیا پیغام اور ہر رات کی ایک الگ بات ہوتی ہے۔ یہاں کمانے کا طریقہ جرائم اور حصولِ شہرت کا وطیرہ کرائم طے پایا ہے۔ بڑے بڑے تاجروں، سرمایہ داروں اور ارب پتیوں کو یہاں محرومی کا کھٹکا لگا رہتا ہے لیکن پھر بھی ملک بھر کے نادار و مفلس یہیں اپنی قسمت آزمانے آتے ہیں۔ یہاں بیس روپے میں آدم زاد شکم سیر ہو سکتا ہے مگر لاکھوں روپے عیش پرستوں اور ناہنجاروں کی دل سیری و ہوس رانی کے لیے ناکافی ہوتے ہیں۔ یہاں کسی کو کسبِ معاش کا فکر ستاتا ہے تو کسی کو بذلِ معاش کا غم کھاتا ہے۔ یہاں کھانے میں 'وڈاپاؤ' تو کھیلنے میں 'قمار بازی کے داؤ' مشہور ہیں۔ چوراہے کے معمولی ہوالدار سے اے.سی.پی. اور ڈی.سی.پی. تک سبھوں کی زبانیں 'رشوت کھلاؤ' کے وِرد سے مرطوب رہتی ہیں۔ یہاں کوئی زندگی بھر کی کمائی رات کو کلبوں اور میخانوں میں جام و ساقی پر نچھاور کردیتا ہے تو کوئی دن بھر دوڑ دھوپ کر کے دوسرے دن چولہا جلانے کے لیے ایندھن جمع کرتا ہے۔ 'عروس البلاد' سے ملقب یہ شہر نہ جانے کتنی تباہیوں اور بربادیوں کی ہر روز بارات نکالتا ہے۔
میرا شہر سمندر کی گود میں واقع ہے پھر بھی یہاں غریب کو صاف پانی میسر نہیں۔ یہاں بازاروں میں قسم قسم کے پھل پھول اور مصنوعات فروخت ہوتی ہیں مگر ہر کسی کو ان سے جائے تمتع نہیں۔ یہاں سڑک پر گاڑیوں کی ٹریفک سے زیادہ خونریزیوں، مکاریوں اور بے حیائیوں کا متعفن و بدبودار ہجوم امنڈتا ہے۔ یہاں خود غرضیوں اور سرمستیوں کی واہ واہیوں میں لاچاریوں اور بے بسیوں کی آہیں نقار خانے میں طوطی کی صدا ثابت ہوتی ہیں۔
بے شمار خامیوں اور بے حساب خرابیوں کے باوصف میرا شہر جوہر شناس بھی بڑا ہے۔ دہلی کے 'شاہ رخ خان' کی اداکاری کو اسی نے چار چاند لگائے۔ گجرات کے 'امبانی' نے اسی سے ترقیات کی راہیں پائیں۔ پنجاب کے 'کپیل شرما' کو اسی نے ہر دل عزیز بنایا۔ پاکستان کے 'عاطف اسلم' کی دِلرُبا آواز کو اسی کے اسٹوڈیو نے چہار دانگِ عالم میں روشناس کرایا۔ پٹودی کے 'سیف علی خان' کو اسی نے چمکایا۔ بِہار کے 'نواز الدین صدیقی' کو اسی نے نوازا۔ غرضیکہ کوئی کشمیر کی وادیوں سے نکلا تو کوئی پنجاب کے سبزہ زار سے اٹھا، کوئی راجستھان کے ریگزاروں سے پہنچا تو کسی نے ہمالیہ کی پہاڑیوں کو چھوڑا اور سب نے بمبئی کی آغوش میں آکر پناہ لی تو درخشندہ ستارہ بن کر ایک عالَم کے دلوں کو فتح کرگئے۔
وہ نوائے عاشقانہ ہو کہ ادائے دلبرانہ
جو دلوں کو فتح کرلے وہی فاتحِ زمانہ
اِن پرکشش و دل فریب الفاظ میں مذکور لکھوکھی فتنہ پروریاں اور شرانگیزیاں ہی سہی لیکن اس شہر کی خاک کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ اس کی پشت پر لاکھوں اہلِ ایمان بستے ہیں، سینکڑوں مساجد اور بیسیوں مدارس و مکاتب چلتے ہیں اور امتِ مسلمہ کی دسیوں عبقری اور خداترس شخصیات کا یہ مسکن ہے۔ نیز ماہِم اور حاجی علی کی مشہور درگاہوں کے علاوہ 'شیخ الحدیث مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری رحمہ اللّٰہ' جیسے خدا کے نہ جانے کتنے برگزیدہ بندے اسی خاکِ پاک کی آغوشِ شفقت میں آسودہ ہیں۔ شاید اِنہیں اصحابِ مزارات کے صدقے میرا شہر اتنی بے حیائیوں اور بے حجابیوں کے باوجود اب تک عذاب و عتاب سے محفوظ و مصئون ہے۔
در کفے جامِ شریعت، در کفے سندانِ عشق
ہر ہوسناکے نہ داند جام و سنداں باختن
$$$