استاد کے آغوش میں ہم چار دوست
2016 ایک ایسا سال تھا، جس میں ہماری دوستی کی ایک ایسی بنیاد رکھی گئی کہ آج ہم دوست ایک دوسرے سے دور ہیں، لیکن دل آج بھی ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
2016 میں ہم نے اپنے گھروں سے رختِ سفر باندھا اور رانولیا کی طرف روانہ ہوئے، تاکہ شیخ النحو، ہمارے مرشد، استادِ محترم مولانا عبداللہ صاحب کے علوم سے مستفید ہو سکیں۔
وہاں رانولیا کوزکلی جامعہ تعلیم القرآن میں ہم نے اپنے علمی سفر کا آغاز کیا۔ آج بھی استادِ محترم کا کافیہ کا سبق کانوں میں گونجتا ہے۔ صبح ہوتی تو ایک طرف استاد جی کے رعب سے ڈر لگتا تھا، اور دوسری طرف اُن کے فصیح و بلیغ انداز میں سبق سننے کے لیے دل بے چین رہتا تھا۔
استاد جی کی نصیحتیں آج بھی دلوں میں بسی ہوئی ہیں۔ ایک بات ہمیشہ دل پر نقش ہے:
"نماز میں سستی نہیں کرنی۔"
اُن کا شفقت بھرے لہجے میں گفتگو کرنا ایسا تھا، جیسے طویل انتظار کے بعد کسی کو اپنی مطلوبہ خبر مل جائے۔ اُن کی گفتگو کا ہمیشہ انتظار رہتا تھا۔
رات کو جب ہم چاروں جامعہ تعلیم القرآن کے صحن میں بیٹھ کر کافیہ کا تکرار کرتے تھے، تو درمیان میں کبھی ہنسی مذاق کی باتیں بھی ہو جایا کرتی تھیں، جن سے دل کی تھکن کم ہو جاتی تھی۔ نیاز اور قاری سعید ایک ساتھ تکرار کرتے تھے، اور میں اور امجد (مرحوم) ایک ساتھ تکرار کرتے تھے۔
ساتھیوں میں قاری محمد سعید نہایت خدمت گزار، دوستوں کو ہنسانے والے اور شگفتہ گفتگو کے مالک ہیں، اللہ تعالیٰ اُنہیں سلامت رکھے۔ قاری نیاز محمد تیز ذہن رکھنے والے اور سبق کو جلدی اخذ کرنے والے تھے، اللہ تعالیٰ اُنہیں سلامت رکھے۔
اور قاری امجد علی مرحوم کیا ہی عظیم انسان تھے۔ نہ کسی سے لڑائی جھگڑا، نہ کوئی گڑبڑ، بس دوستوں کی خوشی میں خوش اور غم میں غمگین ہونے والی شخصیت تھے۔ اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں اُنہیں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
دنیا عارضی ہے۔ آج دس سال بعد جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں، تو وہی مسجد، وہی کافیہ کا تکرار، رات کو دیر تک جاگنا اور آپس کا ہنسی مذاق سب یاد آتا ہے۔
وہ دن گزر گئے، لیکن وہ یادیں آج بھی دل میں زندہ ہیں۔ استاد کی دعائیں، دوستوں کی محبت اور وہ بابرکت صحبت ہماری زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو دوبارہ اسی محبت اور اخلاص کے ساتھ جمع فرمائے، اور ہمارے مرحوم دوست کی کامل مغفرت فرمائے۔ آمین۔