سنو سنو!!
اجازت کے بغیر کاغذ یا کتاب دیکھنا
(ناصرالدین مظاہری)
ہماری زندگی میں بعض آداب ایسے ہیں جنہیں ہم معمولی سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں، حالاں کہ تہذیب، شرافت، امانت داری اور حسن معاشرت کا بڑا حصہ انہی چھوٹی چھوٹی باتوں سے تشکیل پاتا ہے۔ کسی کی چیز استعمال کرنے سے پہلے اجازت لینا بھی ایسا ہی ایک ادب ہے۔ افسوس کہ ہم نے اس ادب کو بہت ہلکا سمجھ لیا ہے۔
کسی کی چیز سامنے پڑی ہے، ہاتھ بڑھایا اور اٹھالی، کوئی کتاب رکھی ہے، کھول کر پڑھنے لگے، کسی کا موبائل سامنے ہے، اٹھاکر پیغامات دیکھنے لگے، کسی کی ڈائری ہے، اوراق پلٹنے لگے؛ گویا کسی چیز تک ہماری رسائی ہی اس کے استعمال کی اجازت بھی ہے۔
میرے اساتذہ نے اس سلسلے میں مجھے دو ایسے سبق دیے ہیں جو آج بھی ذہن میں محفوظ ہیں۔
ایک مرتبہ میرے استاذ حضرت مولانا اطہر حسین صاحب مجھے اپنے ساتھ گھر لے گئے۔ دوسری منزل پر آپ کا کمرہ تھا، جو دارالمطالعہ بھی تھا۔ حضرت نے مجھے وہاں بٹھایا اور تاکید فرمائی کہ کسی کتاب یا کاغذ کو ہاتھ نہ لگانا۔ اسی کمرے میں ایک پرانا پوسٹ کارڈ پڑا ہوا تھا، جو پہلے زمانے میں خط و کتابت کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ میری نظر اس پر پڑی تو میں اسے دیکھنے لگا۔ حضرت نے فوراً توجہ دلائی کہ اسے کیوں دیکھ رہے ہو؟ اجازت کے بغیر کاغذ کا کوئی پرزہ بھی نہیں دیکھنا چاہیے۔
یہ محض ایک پوسٹ کارڈ کا معاملہ نہیں تھا، بلکہ کسی کی نجی چیزوں کے احترام اور اجازت کی اہمیت سمجھانے کا ایک عملی سبق تھا۔
اسی طرح ایک مرتبہ محدث حضرت مولانا زین العابدین اعظمی رحمۃ اللہ علیہ نے مجھے ایک چھوٹا سا کتابچہ دیا اور فرمایا کہ اسے پڑھ کر واپس کردینا۔ میں کتابچہ لے آیا، اسے پڑھا تو بہت پسند آیا، بڑا مفید اور کارآمد محسوس ہوا۔ دل چاہا کہ اس کا ایک نسخہ میرے پاس بھی محفوظ ہوجائے، چنانچہ میں نے اس کی فوٹو کاپی کرالی۔
ایک دن اصل کتابچہ اور فوٹو کاپی دونوں لے کر حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: حضرت! میں نے آپ کی اجازت کے بغیر اس کی فوٹو کاپی کرالی ہے، اب آپ سے اجازت لینے حاضر ہوا ہوں۔ حضرت نے فرمایا: فوٹو کاپی کرانے سے پہلے اجازت لینی چاہیے تھی۔
حضرت کا یہ جملہ میرے لیے ایک مستقل سبق بن گیا کہ اجازت کام ہوجانے کے بعد نہیں، کام کرنے سے پہلے حاصل کی جاتی ہے۔ بعد میں اجازت طلب کرنا اپنی غلطی کا اعتراف تو ہوسکتا ہے، لیکن پہلے سے اجازت حاصل کرنے کا بدل نہیں ہوسکتا۔
یہی ادب ہمارے اسلاف کے یہاں کس قدر راسخ تھا، اس کا اندازہ ایک واقعے سے لگائیے۔
امام عبدالرحمن بن مہدی رحمۃ اللہ علیہ، جو علم حدیث کے بڑے ائمہ میں شمار ہوتے ہیں، ایک مرتبہ امام ابوعوانہ رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ان کی اجازت کے بغیر دیکھنے لگے۔ بعد میں اس پر اتنا احساس ہوا کہ دو مرتبہ استغفار کیا۔
امام ابن مفلح حنبلی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مشہور کتاب الآداب الشرعیۃ والمنح المرعیۃ میں یہ واقعہ نقل کیا ہے:
وَاطَّلَعَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ فِي كِتَابِ أَبِي عَوَانَةَ بِغَيْرِ أَمْرِهِ، فَاسْتَغْفَرَ اللَّهَ مَرَّتَيْنِ۔
عبدالرحمن بن مہدی نے ابوعوانہ کی کتاب ان کی اجازت کے بغیر دیکھ لی تو دو مرتبہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا۔
اسی سلسلے میں امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ بھی قابل ذکر ہے۔ ابوبکر بن عسکر کہتے ہیں کہ میں امام احمد کے پاس بیٹھا تھا، وہاں ہیثم بن خارجہ بھی موجود تھے۔ میں نے امام احمد کی کتاب میں دیکھنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو امام احمد نے اسے ناپسند فرمایا۔
(الآداب الشرعیۃ، ابن مفلح، 2/166)۔
اسی کتاب میں امام مروذی کی روایت بھی ہے کہ انہوں نے امام احمد سے پوچھا کہ کسی شخص کو دوسرے کی گری ہوئی تحریر مل جائے جس میں احادیث اور علمی فوائد ہوں تو کیا وہ اسے نقل کرسکتا ہے؟ امام احمد نے فرمایا:
لَا إِلَّا بِإِذْنِ صَاحِبِهَا۔
نہیں، الا یہ کہ اس کے مالک سے اجازت حاصل کرلے۔
(الآداب الشرعیۃ، ابن مفلح، باب نظر الرجل في كتاب غيره بإذنه أو رضاه)۔
یہ واقعات بتاتے ہیں کہ اہل علم کے نزدیک کسی کی کتاب محض چند اوراق کا مجموعہ نہیں تھی، بلکہ اس کی نجی ملکیت اور ذاتی اختیار کا احترام بھی ضروری تھا۔
اسی مفہوم کی ایک روایت امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے الجامع الصغیر میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کی ہے:
مَنِ اطَّلَعَ فِي كِتَابِ أَخِيهِ بِغَيْرِ أَمْرِهِ، فَكَأَنَّمَا اطَّلَعَ فِي النَّارِ۔
جو شخص اپنے بھائی کی کتاب میں اس کی اجازت کے بغیر جھانکتا ہے، گویا وہ جہنم میں جھانکتا ہے۔
(الجامع الصغیر بحوالہ: المعجم الکبیر للطبرانی)۔
آپ خود سوچیں جب کسی کے گھر میں داخل ہونے کے لیے اجازت ضروری ہے تو اس کی نجی تحریروں، ذاتی کاغذات، خطوط اور رازوں کے احترام کا معاملہ بھی معمولی نہیں ہوسکتا۔
بعض علم دوست حضرات کے یہاں جو کتابیں عام مطالعے کے لیے رکھی جاتی ہیں، ان کو اجازت کے بغیر پڑھا اور دیکھا جاسکتا ہے، کیونکہ وہاں عام اجازت ہوتی ہے، جب کہ بعض کتابیں ذاتی ملکیت ہوتی ہیں اور بعض میں نجی تحریریں، راز اور امانتیں ہوتی ہیں۔ اس لیے حکم اور آداب کا تعلق مالک کی اجازت، کتاب کی نوعیت اور اس کے عرف سے بھی ہے۔
بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ میز پر رکھی ہوئی فائل کھول لی، کسی کا موبائل اٹھاکر پیغامات پڑھنے لگے، میموری میں گھس گئے، کسی کی ڈائری کے اوراق پلٹنے لگے، کسی کی تحریر یا کتاب کی تصویر بنالی، کسی کی کتاب کی فوٹو کاپی کرالی۔ یہ سب افعال اخلاقاً ناپسندیدہ اور بسا اوقات شرعاً ناجائز ہیں۔
میں تو بعض اوقات اجازت مانگنے کو بھی اچھا نہیں سمجھتا، کیا پتہ دوسرا شخص بادل ناخواستہ اجازت دے دے اور اس کے دل پر بوجھ رہے۔ جب کسی کی چیز دیکھنے یا استعمال کرنے کی ضرورت ہی نہیں تو اسے اجازت دینے کی آزمائش میں کیوں ڈالا جائے؟
کسی کے راز کی حفاظت، اس کی ملکیت کا احترام اور اس کی نجی زندگی میں بلااجازت مداخلت سے بچنا بھی شرافت و تربیت کی علامت ہے۔
(بیس جمادی الاولیٰ چودہ سو اڑتالیس ہجری)