سعدیہ فاطمہ عبدالخالق 

 ناندیڑ مہاراشٹر 

8485884176

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      *موٹیویشنل اسپیکر معلم خود بنیں*

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور ساری نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں ، اللّٰہ تبارک وتعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہمیں اشرف المخلوقات میں رکھا ہے ، الحمدللہ ، 

انسان نے بہت پہلے آگ پر قابو پا کر اسے ڈبیا میں بند کر دیا ، 

ہوا پر قابو پا کر ، اسی کو حرکت دے رہا ، 

پانی پر قابو پا کر پانی کا رخ موڑ دیا ، 

انسان جیسا جیسا قیامت کے قریب ترین پہنچ رہا ہے ، ترقی میں ہر دن کئی گناہ اضافہ ہو رہا ہے ، 

وقت کا پہیہ اپنی گردش میں مصروف ہے ، انسان جتنا زیادہ 

بلندیوں کو چھو رہا ہے ، اتنا ہی زیادہ اخلاقی گراوٹ میں زمین میں دھنس رہا ہے ، اخلاقی اقدار کی کمی نے انسان کو خود غرض بنادیا ہے ، متحرک افراد کی کوشش ہوتی ہے کہ موٹیویٹ کے لئے کسی کو تیار کریں ، 

لیکن زندگی کا حال یہ ہے کہ انسان کو پیدا ہوتے ہی موٹیویٹ کی ضرورت پڑتی ہے ، سب سے پہلے وہ اپنی ماں کی آغوش میں حوصلہ پاتا ہے ، پھر باپ کے پیار میں پروان چڑھتا ہے ، گھر کے معتبر اور بزرگ افراد کے نقش قدم پر زندگی بہترین انداز میں گامزن رہتی ہے ، کیونکہ بچہ جو سنتا ہے وہی بولتا ہے اور جو بولتا ہے وہی سیکھتا ، 

اسکول میں داخل ہوتے ہی اس کی زندگی کی تبدیلیاں شروع ہوتی ہے ، حالات جس طرح سے بھی رہے وہ قابلِ قبول رہتے ہیں ، کچھ بگڑتے رہیں اور کسی کی حوصلہ افزائی مل گئی کہ انسان کا رحجان اسی طرف جھکتا ہے اور ہر بات قابلِ قبول کرتا رہتا ہے ، 

 اس قابلِ قبول کے چکر میں کئی لوگوں نے موٹیویٹ کرنے کا ذمہ اپنے سر لے رکھا ہے ، بہت سارے قیمتی وقت کو حوصلہ افزائی کے لئے مختص کر رکھا ہے ، طالب علموں کا حال تو پتہ ہے ، ان سارے اشاروں سے انھیں کیا غرض ، وہ کوئی ایک بات کو گلے لگاتے ہیں اور کچھ وقت بعد انھیں یہ یاد بھی نہیں رہتا ۔۔۔۔۔ اس کی وجہہ یہ ہے کہ سنانے والے کا ,, پیشہ ،، ہے کہ وہ موٹیویٹ کر رہا ہے اور سننے والے کا توشہ کچھ اور ہوتا ہے ، اس حقیقت کو ایک موڑ یہ دیں کہ جو پیشہ ورانہ موٹیویشن میں مصروف ہے ان کو پرے رکھیں ، خود معلم اور سرپرست اپنے اندر جھانک کر دیکھیں ، کہ آپ اپنے پیشے کے دوران روزانہ جو تنبیہ کرتے ہیں ، ان باتوں کے فائدے اور نقصانات مسلسل بتاتے جائیں ، یہی آپ کا موٹیویٹ کرنا رہے گا ، خود معلم اکثر و پیشتر الفاظ کو ترتیب دے کر بہت سے جملوں میں تنبیہہ کرتا ہے ، یہی آپ کا موٹیویشن ہوتا ہے ، اپنے آپ کی صلاحیتوں کو باہر نکالیں ، ذمہ داری اور فرض و فریضہ جان کر ، اپنے اوقات ڈیوٹی میں اللّٰہ کو حاضر ناظر جان کر بچوں کے اندر خوف خدا کو بٹھائیں ، درمیان میں قرآن کا مختصر مختصر حوالہ ڈال کر اخلاق فریضہ کی اہمیت کو واضح کریں ، دیکھئے روزانہ کی ان کوششوں میں اسٹوڈنٹس کے لئے سب سے اچھے موٹیویشنل اسپیکر آپ خود بنیں رہیں گے ، دل میں جب طالب علموں کے لئے احساس ہوگا ، درد ہوگا تو وہ آپ کی بات کو برسوں یاد رکھیں گے ، ڈائریکٹ ، جزا وسزا کا حوالہ دیتے رہیں ، استاد اگر طالب علم کے دل میں واحد لاشریک کے انعامات اور انصاف کا درس اپنے طالب علم کے اندر بسا دے گا توآپ سے بہتر اور ذمہ دار موٹیویٹ کرنے والا کوئی ہو ہی نہیں سکتا ، 

خود آج کے ہر معلم میں یہ صلاحیت موجود ہے ، مگر رک کیوں گئے پتہ ہے ، کیونکہ انھوں نے اپنے اندر کبھی جھانکا ہی نہیں اپنے آپ کو ڈھونڈا ہی نہیں ، 

آج کا ذہین ترین انسان ، مرنے اور مارنے کے انجام سے بھی ناواقف تھا ، جس کے لئے ایک پرندے کے ذریعے زمین دوز کرانے کی کاروائی سے واقف کروایا گیا ، یہی انسان اتنی ترقی کر چکا کہ ہزاروں کو ایک ساتھ مار کر ایک ہی وقت میں زمین دوز کرانے کے فن میں ماہر ہوگیا ہے ، واہ رے واہ یہ موٹیویشن ، واہ رے یہ حوصلہ افزائی ، ایک پرندے سے سیکھ کر کیا سے کیا ترقی ، لیکن یہ فن تیزی سے قبول کرنے والوں میں مغربیت کا کھلم کھلا شمار ۔۔۔۔ اور مشرقیت والے ، 

ہر دن صرف ایک کے کندھے سے ایک ٹیک لگا کر سست روی میں کچھوے کی چال میں بندھے ہوئے ہیں ، صرف دوسروں کے الفاظوں پر اپنی زندگی کو منحصر رکھتے ہیں ، ذہن میں بٹھا لیا گیا ہے کہ کوئی اور ہے موٹیویٹ کرنے والے ۔۔۔۔۔ ہم ویسے کہاں ؟ ۔۔۔۔۔۔ 

 آپ کے روزانہ کے جو الفاظ ہیں طالب علم کے لیے ۔۔۔۔ شاباش ، ماشاءاللہ ، بہت خوب good ,

very good , very nice 

یہاں سے تو آپ شروعات کرہی دیتے ہیں ، اس شاباش اور ویری گڈ میں وہ جگہ پر ہی ، کچھ بلندی پر چلا جاتاہے اور اس جگہ سے واپس کبھی نہیں آتا ، اس سے اوپر جانے کے الفاظ کے انتظار میں ہوتا ہے ، 

 تو پھر سب سے بہترین موٹیویشنل اسپیکر کون ہوا ، 

ہمارے سامنے کمزور کڑیاں بہت ہوتی ہے ، ان کے منفی پہلو کو سخت انکار نہ کرتے ہوئے چاشنی کو گھول کر وہی بات مثبت کرنے کے لئے کہیں ، ۔۔۔۔۔  

,, کیا بات ہے ،،

,, آپ سے ماہر کوئی ہو ہی نہیں سکتا ، ,, ماشاءاللہ ،،

آپ کو دوسروں پر نئے پیسے خرچ کرنے کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی ، 

پیسے خرچ کرکے ہم کسی اور کی زبان سے حوصلہ افزائی کرانے کی ٹھان رہے ہیں ، اس کا مطلب سب سے پہلے پہلے آپ کو موٹیویٹ کی ضرورت پڑھ رہی ہیں ، نہیں ایسا ہرگز نہ ہونے دیں ، اپنے آپ کو تلاش کر کے باہر لائیں ، آپ کا یہ موضوع ثواب جاریہ کا حصہ ہے ، 


ویسے دیکھا جائے تو بہت سے موٹیویٹ کرنے والے لوگ اپنی جگہ بہت صحیح ہے ، لیکن ہم خطیر رقم کے انتظام میں وقت کیوں گنوائیں ، 

خیر ان کے لئے بھی صحیح ہے کہ گھوڑا گھاس سے دوستی کرے گا تو کھائے گا کیا ، اس کے لئے ایک طریقہ یہ بھی رکھو کہ 


,, اپنے صلاحیتوں کے زکوٰۃ و صدقات نکالیں اور وقتاً فوقتاً بغیر معاوضہ کے درس رکھا کریں ،، 

 اللّٰہ بھی خوش ، بندہ بھی خوش ، صاحب ثواب جاریہ کے مستحق ۔۔۔۔۔۔ تیار ۔۔۔۔۔ الحمدللہ


میری خود کی ایک ذاتی رائے یہ ہے کہ کسی بھی طرح کے اپنے مفادات کے لیے خاص کر لڑکیاں ( اسٹوڈنٹس ) کو باہر نہ نکالیں ، یہ وقت ایک لمحہ کی غفلت کا نہیں ہے ، فائیدہ بھی ہوتو ہر ڈھنگ سے سوچیں ، تنقید برائے تعمیر کی سخت ضرورت ہے ، تنقید برائے تخریب نہیں کرنا ہے ، ہر پہلو سے تعمیر اور تخریب پر سو سو بار غور کریں ، 

اللّٰہ تمام موٹیویٹ کرنے والوں کو سلامت رکھے ، انھیں اور ترقی عطاء فرمائے آمین ، 


سب سے بہترین موٹیوشنل بک پلاننگ بک ہے ڈائریکٹ آسمان سے بھیجی گئی ، اس پر آپ اور ہم سب مضبوطی سے جمے رہیں ، ان شاءاللہ اگر ہم محنت اور سچائی سے follow کر لیں تو ہمیں کبھی کسی کے مدد کی ضرورت نہ پڑے گی ، اور خود کو دوسروں کی مدد کرنے کے قابل بناو گے ، 


اللّٰہ ہمیں قرآن مجید کی ہر بات پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ، 


آمین ثم آمین یارب العالمین ، 


فرشتوں سے بڑھ کر ہے انسان بننا

مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ