دورِ حاضر کی مسلم خواتین کا طرزِ زندگی دیکھ کر دل شدید رنج و ملال سے بھر جاتا ہے۔ وہ امتِ مسلمہ کی بیٹیاں، جنہیں حیاء، پردہ، عفت اور تقویٰ کا پیکر ہونا چاہیے تھا، آج نہ جانے کن راستوں پر چل پڑی ہیں۔ نہ پردے کا اہتمام، نہ خوفِ خدا کا احساس، نہ عشقِ رسول ﷺ کی حرارت… گویا دین صرف ایک نام اور ایک شناخت بن کر رہ گیا ہے۔


بازاروں میں بے پردگی عام ہو چکی ہے، فیشن پرستی کو ترقی سمجھ لیا گیا ہے، اور دین و شریعت کے احکام پسِ پشت ڈال دیے گئے ہیں۔ افسوس! بہت سی خواتین کا دن بازاروں کی رونق، موبائل اسکرینوں کی چمک دمک اور فضول مصروفیات میں گزرتا ہے۔ غیبت، شکایت، لڑائی جھگڑے، بے مقصد گفتگو… یہ سب معاشرے کی روزمرہ کہانی بنتے جا رہے ہیں۔ نماز کی پابندی، ذکر اللہ، تلاوتِ قرآن اور نیکی کی کوششیں گویا زندگی سے غائب ہوتی جا رہی ہیں۔ دین کا حقیقی علم حاصل کرنے کا شوق تو بہت پیچھے رہ چکا ہے۔


اور جب ماؤں کا حال یہ ہو تو بیٹیوں کا مستقبل کیسے سنورے؟

آج کی نوجوان بچیاں سوشل میڈیا کی دوڑ میں ایسی گرفتار ہو چکی ہیں کہ حیا و پردے جیسے اوصاف ان کے لیے غیر ضروری محسوس ہونے لگے ہیں۔ ’’ریل‘‘، ویڈیوز، تصویریں، لائڪس اور فالوورز کے چکر میں وہ اپنے دین، اپنے وقار اور اپنی شرم و حیا کو بھولتی جا رہی ہیں۔


رہی بات مرد حضرات کی تو وہ بھی اپنی ذمہ داریوں سے بڑی حد تک غافل ہوتے جا رہے ہیں۔ صبح گھر سے نکلے تو شام کو لوٹے، مگر گھر والوں کی تربیت، بیوی اور بیٹی کی نگرانی، ان کی حفاظت اور ان کی دین داری کے بارے میں کوئی خاص فکر نہیں۔

کیا انہیں یہ احساس نہیں کہ روزِ محشر ان سے سوال ہوگا؟

کیا انہیں معلوم نہیں کہ بیوی، بیٹی، بہن اور ماں ان کی امانت ہیں، اور ان کے دینی بگاڑ کا حساب بھی مردوں سے لیا جائے گا؟


ہمارے دین نے واضح فرمایا ہے کہ عورت کی غلط روش چار مردوں کے لیے وبال بن سکتی ہے:

اس کا شوہر، والد، بھائی اور بیٹا—اگر وہ اسے بے راہ روی سے نہ روکیں، اس کی تربیت نہ سنبھالیں اور اسے دین سے دور رہنے دیں تو اس کی گمراہی میں وہ بھی شریک سمجھے جائیں گے۔


آج کے اس ماحول میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر مسلمان اپنے گھر کی اصلاح کی فکر کرے، اپنی بیٹی کو حیاء اور دین سے جوڑے، اپنی بیوی کی راہنمائی کرے، اپنے گھر کو دین کا مرکز بنائے۔ معاشرے کی مجموعی اصلاح گھر کی تربیت سے ہی شروع ہوتی ہے۔


اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے، ہمیں اپنی ذمہ داریوں کی پہچان دے، اور ہماری نسلوں کو دین و تقویٰ کی راہوں پر گامزن فرمائے۔

آمین۔