عنوان: بولنے والا گھونسلا
کہانی:
دادی جان کے باورچی خانے کی کھڑکی کے ٹھیک سامنے، نیم کے گھنے درخت سے روزانہ صبح ایک عجیب سی آواز آتی تھی: "ٹک… ٹک… زووں!"
نو سالہ زایان روزانہ ناشتے کی میز پر بیٹھ کر اس آواز کو سنتا اور حیران ہوتا۔ نیم پر پرندے تو بہت تھے، مگر یہ آواز کسی پرندے کی چہچہاہٹ جیسی بالکل نہ تھی۔ ایک دن جب وہ اپنے دوست سمیر کے ساتھ صحن میں گیند سے کھیل رہا تھا، تو گیند سیدھی جا کر نیم کی سب سے نیچی شاخ پر اٹک گئی۔
"ٹھہرو سمیر! میں لکڑی سے اتارتا ہوں،" زایان نے کہا اور آگے بڑھا۔ مگر جیسے ہی وہ شاخ کے قریب پہنچا، اوپر سے وہی آواز آئی: "ٹک… ٹک… زووں!"
زایان نے سر اٹھا کر دیکھا تو دنگ رہ گیا۔ وہاں پتوں کے بیچ ایک گھونسلا تھا، مگر وہ عام تنکوں سے نہیں، بلکہ چمکدار سرخ، نیلے اور پیلے رنگ کے پلاسٹک کے ریپرز، چپس کے خالی پیکٹوں اور دھاتی تاروں سے گندھا ہوا تھا! اس انوکھے گھونسلے کے کنارے ایک چھوٹی سی بلبل بیٹھی تھی، جس کے گلے میں پلاسٹک کا ایک باریک دھاگا بری طرح الجھا ہوا تھا اور وہ تکلیف سے پھڑپھڑا رہی تھی۔ "ٹک ٹک" کی آواز دراصل اس کی ننھی چونچ کے تنے سے ٹکرانے کی تھی، جب وہ خود کو چھڑانے کی کوشش کرتی۔
"سمیر، دیکھو! وہ بلبل مصیبت میں ہے،" زایان پریشانی سے بولا۔
سمیر نے کہا، "چھوڑو زایان، پرندے خود ہی اڑ جاتے ہیں، چلو گیند ڈھونڈتے ہیں۔"
"نہیں سمیر، وہ اڑ نہیں سکتی، دھاگا اس کے گلے میں پھنسا ہے،" زایان نے پختہ ارادے سے کہا۔ وہ دوڑ کر اندر گیا اور دادی جان کے کمرے سے ان کے چشمے کی چھوٹی قینچی اور سیڑھی لے آیا۔
سمیر نے نیچے سے سیڑھی مضبوطی سے پکڑی اور زایان احتیاط سے اوپر چڑھا۔ بلبل پہلے تو خوف کے مارے زور زور سے پر مارنے لگی، مگر زایان نے بڑی نرمی سے کہا: "ڈرو مت ننھی دوست، میں تمہیں آزاد کرنے آیا ہوں۔" اس نے کمال مہارت اور احتیاط سے، پرندے کو ذرا بھی تکلیف پہنچائے بغیر، وہ پلاسٹک کا پھندا کاٹ دیا۔
جیسے ہی گردن آزاد ہوئی، بلبل نے زایان کی انگلی پر ایک لمحے کے لیے اپنا سر رکھا، جیسے شکر ادا کر رہی ہو، اور پھر ایک مدھر سی تان اڑاتے ہوئے کھلے آسمان کی طرف اڑ گئی۔
زایان نے درخت سے اتر کر دیکھا کہ گھونسلے کے اردگرد صحن میں اور بھی بہت سا کچرا بکھرا تھا جو ہوا سے اڑ کر وہاں پہنچا تھا۔ اسے احساس ہوا کہ پرندے مجبوری میں یہ خطرناک پلاسٹک اٹھا کر اپنے گھر بنا رہے تھے جو ان کی جان لے سکتا تھا۔
اس نے سمیر کی طرف دیکھا اور کہا: "ہماری ذرا سی لاپروائی ان معصوم جانوروں کی جان خطرے میں ڈال دیتی ہے۔" دونوں دوستوں نے اسی وقت ایک ٹوکری اٹھائی اور پورے باغ اور درخت کے اردگرد سے ہر قسم کا پلاسٹک اور باریک تاریں چن کر کوڑے دان میں ڈال دیں۔ دادی جان نے کھڑکی سے یہ سارا منظر دیکھا تو مسکرا کر دونوں کے لیے گرم گرم حلوہ لے آئیں۔
اب جب بھی صبح کے وقت نیم کے درخت سے میٹھی چہچہاہٹ گونجتی، زایان کھڑکی کھول کر مسکراتا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ شکرگزاری کا گیت اسی بلبل کا ہے۔
سبق:
اللہ کی بے زبان مخلوق پر رحم کرنا اور اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھنا ایک بہترین نیکی ہے۔ ہمارا پھینکا ہوا کوڑا معصوم جانوروں اور پرندوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔