تصور کیجیے! آدھی رات کا وقت ہے۔ سمندرکی خوفناک لہریں چٹانوں سے ٹکرا رہی ہیں۔ ایک قیدی کے ہاتھوں میں بھاری زنجیریں ہیں، پیروں میں بیڑیاں پڑی ہیں، اور سامنے ایک ایسی تاریک کوٹھڑی ہے جہاں نہ روشنی کا گزر ہے، نہ اپنوں کی آواز، نہ آزادی کی کوئی امید!**

وہ چیخنا چاہتا ہے، مگر اس کی آواز ان اونچی دیواروں میں دفن ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے گھر لوٹنا چاہتا ہے، مگر درمیان میں ہزاروں میل پر پھیلا ہوا سمندر حائل ہے۔ اسے معلوم نہیں کہ وہ دوبارہ اپنی ماں کا چہرہ دیکھ سکے گا یا نہیں، اپنی بیوی کی آواز سن سکے گا یا نہیں، یا اپنے بچوں کو گلے لگانا کبھی نصیب ہوگا بھی یا نہیں!

**یہ کوئی خوفناک افسانہ نہیں، بلکہ ہماری تاریخ کا ایک دردناک باب ہے۔** یہ داستان ہے ان بدقسمت قیدیوں کی جنہیں برطانوی حکومت نے انڈمان و نکوبار جزائر کی بدنامِ زمانہ سیلولر جیل میں قید کیا۔ اس سزا کو دنیا ’’کالا پانی‘‘ کے نام سے جانتی ہے۔

لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر ان لوگوں کا جرم کیا تھا؟ کیا انہوں نے کسی کا گھر لوٹا تھا؟ کیا انہوں نے کسی بے گناہ کا خون بہایا تھا؟ نہیں! ان میں بہت سے ایسے مجاہدین تھے جن کا جرم صرف اتنا تھا کہ انہوں نے غلامی کی زنجیروں میں جکڑے اپنے وطن کو آزاد دیکھنے کا خواب دیکھا تھا۔

وہ اپنے وطن سے محبت کرتے تھے، آزادی کی خواہش رکھتے تھے، اور اسی خواہش کی قیمت انہیں تنہائی، سخت مشقت اور ناقابلِ بیان مصائب کی صورت میں ادا کرنی پڑی۔

آئیے، تاریخ کے اس تاریک باب کے ورق پلٹتے ہیں، جہاں ہر کوٹھڑی ایک داستان ہے، ہر دیوار ایک گواہ ہے، اور ہر خاموشی کے پیچھے آزادی کے متوالوں کی ایک دردناک پکار چھپی ہوئی ہے!