عنوان: تکیے کے نیچے چھپی چابی
کہانی:
رات کے عین بارہ بجے تھے جب آٹھ سالہ حارث کے بستر سے مدہم سی سُرسُراہٹ سنائی دی۔ اس نے گھبرا کر آنکھیں کھولیں تو دیکھا کہ اس کا سفید نرم تکیہ ایک کونے سے خودبخود اوپر اٹھ رہا تھا! خوف اور تجسس کے ملے جلے احساس کے ساتھ حارث نے آہستہ سے تکیہ سرکایا۔ وہاں کوئی کیڑا یا چوہا نہیں تھا، بلکہ نیلی روشنی میں چمکتی ہوئی چاندی کی ایک چھوٹی سی چابی رکھی تھی، جس کے ساتھ سفید کاغذ کا ایک ننھا سا پرزہ بندھا تھا۔
کاغذ پر موتی جیسے حروف میں لکھا تھا:
"اگر سچی خوشی تلاش کرنی ہے، تو پچھلے باغ کے سب سے پرانے زیتون کے درخت کا چکر لگاؤ!"
حارث نے دبے پاؤں کھڑکی سے باہر دیکھا۔ باغ چاندنی میں نہا رہا تھا۔ اس نے چابی جیب میں ڈالی، جوتے پہنے اور خاموشی سے پچھلے دروازے سے باغ میں نکل آیا۔ پرانے زیتون کے درخت کے تنے میں لکڑی کا ایک چھوٹا سا کواڑ بنا تھا، جس پر وہی چاندی کا تالہ لگا تھا۔ حارث نے کانپتے ہاتھوں سے چابی گھمائی تو ہلکی سی آواز کے ساتھ کواڑ کھل گیا۔
اندر کوئی سونا، چاندی یا جادوئی کھلونا نہیں تھا، بلکہ تین خوبصورت مخملی لفافے رکھے تھے جن پر مختلف نام لکھے تھے:
پہلے پر لکھا تھا: باغبان بابا کے لیے
دوسرے پر: اسکول کے دربان چچا کے لیے
اور تیسرے پر: چھوٹی بہن مناہل کے لیے
حارث نے حیرت سے لفافے کھول کر دیکھے۔ مالی بابا کے لفافے میں موسمِ سرما کے گرم دستانے اور ایک شکرگزاری کا کارڈ تھا۔ دربان چچا کے لیے ایک خوبصورت گرم مفلر تھا، اور ننھی مناہل کے لیے رنگ برنگی پینسلوں کا ایک سیٹ تھا جو اس کے اسکول میں کھو گیا تھا اور وہ کئی دنوں سے اداس تھی۔ سب سے نیچے ایک چھوٹا سا نوٹ اور تھا:
"یہ تحفے تمہاری جیب خرچ سے نہیں خریدے گئے، بلکہ یہ تمہارے اچھے اخلاق کے امین ہیں۔ صبح کا سورج نکلنے سے پہلے اگر تم نے یہ خوشیاں خاموشی سے ان تک پہنچا دیں، تو اصل جادو تب رونما ہوگا۔"
حارث سمجھ گیا کہ یہ راز کسی مہم سے کم نہیں۔ اس نے فوراََ باغبان بابا کی ٹوکری میں دستانے رکھ دیے، اسکول کے دربان چچا کی چائے کی میز پر مفلر پہنچا دیا اور اپنی چھوٹی بہن کے بستے میں پنسلیں چپکے سے سجا دیں۔
اگلی صبح جب حارث بیدار ہوا، تو گھر اور محلے کا منظر بدل چکا تھا۔ مالی بابا اپنے نئے دستانے پہن کر پھولوں کو پانی دیتے ہوئے مسکرا رہے تھے، مناہل پینسلوں کو سینے سے لگا کر خوشی سے ناچ رہی تھی، اور دربان چچا چہرے پر اطمینان سجائے دعائیں دے رہے تھے۔ جب حارث نے ان سب کے چہروں پر وہ سچی چمک دیکھی، تو اس کے اپنے دل میں ایک ایسی انوکھی اور میٹھی خوشی امڈ آئی جو اس نے پہلے کبھی محسوس نہ کی تھی۔
اس رات جب حارث سونے کے لیے لیٹا اور تکیہ اٹھایا، تو چاندی کی چابی غائب تھی، مگر وہاں ایک خوبصورت گلاب کی پتی رکھی تھی جس پر لکھا تھا:
"تم نے سچی خوشی کا تالہ کھول لیا ہے—اور وہ ہے دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹ لانا!"
سبق:
اصل خوشی چیزیں حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ خاموشی سے دوسروں کے کام آنے اور ان کے چہروں پر خوشی بکھیرنے میں ہے۔