سکروڈہ کا " سفر و ماحضر‘‘

(ناصرالدین مظاہری)

حضرت مولانا عبدالمالک سہارنپوری مظاہر علوم وقف سہارنپور کے شعبۂ مالیات کے انچارج و ذمہ دار تھے اور علامہ محمد یامین سہارنپوری شعبۂ تعلیمات کے مدارالمہام۔ دونوں حضرات اپنے اپنے شعبوں کے شہ سوار تھے، لیکن ایک سفر ایسا بھی پیش آیا جس میں مالیات اور تعلیمات دونوں کو دسترخوان کے ایک نازک مسئلے سے دوچار ہونا پڑا!

سکروڈہ(ہری دوار) والوں نے ان دونوں کو کسی پروگرام میں شرکت کی دعوت دی، تاریخ طے ہوئی اور یہ دونوں بزرگ عازمِ سفر ہوگئے۔ مگر تقدیر کی تقویم میں ایک دن کا فرق تھا؛ مقررہ تاریخ سے ایک دن پہلے ہی سکروڈہ پہنچ گئے! ادھر میزبانوں نے ابھی استقبال کی تیاریوں کا تصور بھی نہ کیا تھا۔ ایک تو زمانہ پرانا، دوسرے سکروڈہ کا پر مشقت سفر؛ الامان والحفیظ!

دونوں بزرگوں نے مصلحتاً وہیں قیام کا فیصلہ کرلیا۔ ایک واقف کار کے یہاں ٹھہرنے کا انتظام بھی ہوگیا، سفر کی مشقت نے بھوک کو بھی ہم رکاب کرلیا ۔ چنانچہ جب کھانے کی بات چلی تو میزبان نے اپنی بے بسی کا اظہار نہایت بے خوفی و جرات کے ساتھ کچھ یوں کیا:

’’دیکھیے جی! کھانے کا تو یہ وقت بھی نہیں، پہلے سے اطلاع بھی نہیں تھی ۔ اب جو حاضر ہے، وہی پیش کردوں گا۔‘‘

یہ جملہ بظاہر معمولی تھا، مگر اس کے اندر ایک پورا دسترخوان پوشیدہ تھا؛ ایسا دسترخوان جس پر انتخاب کی آزادی نہیں، صرف قناعت کی گنجائش تھی۔

تھوڑی دیر بعد کھانا حاضر ہوا۔ گڑ کے میٹھے چاول اور ساتھ ایک پیالے میں پتلا سا سالن!بس ۔ دونوں بزرگ ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔

حضرت مولانا عبدالمالک سہارنپوری جیسے لطیف المزاج بزرگ کے لیے بھی یہ امتزاج ذرا نرالا تھا۔ چاول مٹھاس کے دریا میں غوطہ زن تھے اور سالن اپنی الگ ہی دنیا آباد کیے ہوئے تھا۔ دونوں کے درمیان بعد المشرقین تھا۔

علامہ محمد یامین سہارنپوری نے دیکھا کہ مولانا عبدالمالک ابھی تک اس غذائی "معمہ" کو حل کرنے میں متردد و مصروف ہیں تو فرمایا:

’’سوچ کیا رہے ہو؟ شروع کرو!‘‘

مولانا عبدالمالک نے قدرے تامل سے کہا:

’’گڑ کے میٹھے چاول کا سالن سے کیا جوڑ ہے؟‘‘

علامہ صاحب نے گویا مسئلے کی جڑ ہی کاٹ دی:

’’جوڑ ووڑ چھوڑو، کھالو! میزبان کے یہاں اس وقت یہی ہے۔‘‘

بات ختم! ذوق کی عدالت برخاست، ذائقے کی بحث ملتوی اور بھوک کی درخواست منظورشد !

ایک اور پہلو پر بھی غور فرمائیے۔ حضرت مولانا عبدالمالک سہارنپوری شعبۂ مالیات کے ذمہ دار تھے اور مالیات کا تعلق مال سے ہے۔ مال میں مٹھاس ہو تو گڑ کے میٹھے چاولوں سے بہتر اس کی تمثیل کیا ہوسکتی ہے! دوسری طرف علامہ محمد یامین سہارنپوری شعبۂ تعلیمات کے مدارالمہام تھے۔ تعلیمات کا شعبہ بلاشبہ علم و فضل کا سرچشمہ ہے، لیکن اس کے انتظامی امور میں محنت، مشقت، باریک بینی اور جواب دہی کی تلخیاں بھی کم نہیں ہوتیں۔ چنانچہ ان کے حصے میں پتلا سالن آگیا!

دسترخوان پر دونوں شعبوں کی خوب نمائندگی ہوگئی تھی: مالیات کے ذمہ دار کے سامنے مٹھاس ہی مٹھاس، اور تعلیمات کے ذمہ دار کے سامنے محنت و مشقت کی علامت، پتلا سالن!

بہرحال، دونوں بزرگوں نے ماحضر پر اکتفا کیا اور یہ واقعہ ہماری یادوں میں محفوظ ہوگیا۔

دسترخوان پر یہ چھوٹا سا واقعہ اپنی جگہ، لیکن سکروڈہ کی سرزمین سے میرا اپنا تعلق بھی ایک یادگار سفر کے ذریعے قائم ہوا۔

سنہ 1998ء میں پہلی مرتبہ استاذ محترم مولانا محمد قاسم مرحوم کے ساتھ امتحان کی غرض سے سکروڈہ جانا ہوا۔ بھگوانپور تک تو سفر، سفر تھا؛ اس کے بعد جو مرحلہ شروع ہوا، اسے سفر کہنا لفظِ سفر کے ساتھ کچھ زیادتی معلوم ہوتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے آدمی راستہ طے نہیں کررہا، بلکہ راستہ آدمی کا امتحان لے رہا ہے!

جس جیپ میں ہمیں لادا گیا، وہ جیپ کم اور چلتا پھرتا امتحانی مرکز زیادہ تھی؛ طلبہ کا امتحان ہونے سے پہلے ہمیں اور مسافروں کو امتحانی مرکز سے گزرنا مقدر تھا۔ یہاں مسافروں کے صبر، حوصلے اور دعاؤں کا کا نازک و ناگزیر مرحلہ درپیش تھا!

جیپ میں انسانوں کی تعداد دیکھ کر یوں لگتا تھا جیسے کسی نے سواری کی گنجائش نہیں، صرف مسافروں کی گنتی مقرر کی ہو۔ اندر بیٹھے ہوئے لوگ اپنی انسانی شناخت بھول کر "سامان" ہونے کا احساس قبول کرچکے تھے۔ ادھر کچھ مسافر بونٹ پر بھی براجمان تھے، جیسے جیپ کے اندر جگہ نہ ملنے پر انھیں صدر جمہوریہ کی طرح خصوصی اعزاز سے نوازا گیا ہو۔ ان کے چہروں پر ایسی بے فکری تھی کہ دیکھنے والا سوچے: یا تو یہ لوگ بہت بہادر ہیں یا خطرات سے ان کی واقفیت حد سے زیادہ ہے!

چند ہی منٹ گزرے تھے کہ جیپ دریا میں داخل ہوگئی۔ کہیں پانی میں دوڑتی، کہیں ریت پر پھسلتی، کہیں اچھلتی، کہیں جھٹکے کھاتی۔ اندر بیٹھے مسافروں کی کیفیت یہ تھی کہ جسم جیپ کے ساتھ ہلتا تھا اور روح جانے کس سمت کو روانہ ہوجاتی تھی۔

میں نے بھی خلوص دل کے ساتھ اپنے حصے کا کام سنبھال لیا:

سُبْحَانَ الَّذِيْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِيْنَ وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ۔

پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارے تابع کردیا، ورنہ ہم اسے قابو میں کرنے والے نہ تھے، اور یقیناً ہمیں اپنے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

لیکن جیپ نے جس انداز سے پانی میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ شروع کیا، میرے ذہن میں سفر کی دوسری دعائیں بھی قطار باندھ کر حاضر ہونے لگیں۔

اَللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِيْ سَفَرِنَا هٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوٰى وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰى۔

اے اللہ! ہم اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی، تقویٰ اور ایسے اعمال کا سوال کرتے ہیں جن سے تو راضی ہو۔

پھر جیپ نے پانی اور ریت کے درمیان اپنی رفتار کا ایسا مظاہرہ کیا کہ دل نے اگلی دعا کی طرف رجوع کیا:

اَللّٰهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هٰذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ۔

اے اللہ! ہمارے اس سفر کو ہمارے لیے آسان فرما اور اس کی دوری کو ہمارے لیے سمیٹ دے۔

اب صورتِ حال یہ تھی کہ جیپ آگے بڑھ رہی تھی، دریا اپنا راستہ دکھا رہا تھا اور میرے لب دعاؤں کی اگلی منزلیں طے کررہے تھے۔ یوں لگتا تھا کہ جیپ کے پہیے پانی میں گھوم رہے ہیں اور میری زبان پر دعاؤں کا پہیہ چل رہا ہے!

بالآخر وہ دعا بھی زبان پر آگئی جس کا تعلق سفر کی مشقت، ناگوار منظر اور واپسی پر اہل و مال کی بری حالت سے ہے:

اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ وَسُوْءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ۔

اے اللہ! میں سفر کی مشقت، ناگوار منظر اور مال و اہل و عیال میں بری حالت کے ساتھ واپس لوٹنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔

کمال تو ظالم ڈرائیور کا تھا جو خود بھی باہر لٹک کر ، گاڑی سے ذرا سا اٹک کر گاڑی بھگائے جارہا تھا،اس کو کچھ دکھائی بھی نہیں دیتا ہوگا کیونکہ بونٹ پر تو لوگ باراتیوں کی طرح پاؤں لٹکائے گپ شپ میں مصروف تھے۔گویا گاڑی صرف اللہ کے رحم و کرم پر دوڑی چلی جارہی تھی،مقدر ہوا تو سکروڈہ ورنہ گگگگڈھا۔

الحمدللہ! اللہ تعالیٰ نے سفر کی مشقت تو دکھائی، مگر وَسُوْءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ سے محفوظ رکھا۔ ہم خیریت سے پہنچے اور خیریت ہی سے واپس بھی آئے۔

سکروڈہ کے اس سفر میں ایک طرف میٹھے چاول اور پتلے سالن کا جوڑ تلاش کرنے والے بزرگ تھے، دوسری طرف دریا میں دوڑتی جیپ اور دعاؤں میں پناہ تلاش کرتا ہوا یہ خاکسارو مسکین اور استاذ محترم کی حالت و کیفیت سے ناواقف و بے خبر!

سچ ہے، بعض سفر منزل تک پہنچاتے ہیں، بعض تجربہ عطا کرتے ہیں اور بعض ایسے ہوتے ہیں جن کی یاد آتے ہی آدمی مسکرائے بغیر نہیں رہ سکتا۔

(گیارہ جمادی الاولی چودہ سو اڑتالیس ہجری)