*قسط 3: اللہ کے گھر کے دشمن کی تباہی*

جب ابرہہ نے بار بار ہاتھی کو اٹھانے کی کوشش کی اور ناکام رہا تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کی جانب سے اپنا ایک ایسا لشکر بھیجا جسے شکست دینا کسی کے بس کی بات نہ تھی۔

وہ پرندے چڑیوں سے کچھ چھوٹے تھے اور ہر ایک کے پاس تین تین کنکریاں تھیں، جن پر ابرہہ کے لشکر میں سے ہر شخص کا نام لکھا ہوا تھا۔ ان پرندوں نے ابرہہ کے لشکر کا ایسا حشر کیا جیسا کہ جانوروں کے کھائے ہوئے بھوسے کا ہوتا ہے۔ اسی طرح ابرہہ کی فوج ادھر ادھر گری پڑی تھی، البتہ اس کا ہاتھی محمود بچ گیا۔

ادھر عبدالمطلب اپنے ساتھیوں سمیت حرا پہاڑ پر چڑھ گئے کیونکہ مقابلہ کرنا ان کے بس میں نہیں تھا۔ وہاں چڑھ کر عبدالمطلب نے دعا کی: "اے اللہ! یہ بندہ اپنے لشکر کی حفاظت کر رہا ہے، تو اپنے گھر کی حفاظت فرما۔" وہاں کافی دیر انتظار کیا کہ حملہ کب ہوگا، لیکن حملہ نہ ہوا۔ تو عبدالمطلب نے کہا: چلو جا کر دیکھتے ہیں کہ کیا ہوا؟ جب وہ وہاں پہنچے تو ابرہہ کی فوج بھوسے کی طرح پڑی ہوئی تھی۔

وہاں سے عبدالمطلب کو بہت سا مالِ غنیمت ملا۔ بے شک جو کوئی اللہ تعالیٰ سے دشمنی کرے گا تو اس کا حال ابرہہ جیسا ہوگا۔

اس واقعے کے کچھ عرصہ بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی۔ آپ جس مکان میں پیدا ہوئے وہ صفا پہاڑی کے قریب تھا۔

حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی والدہ شفاء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی تو میں وہاں موجود تھی۔ آپ میرے ہاتھوں میں تشریف لائے۔

آپ کے دادا عبدالمطلب کو اطلاع دی گئی اور کہا گیا کہ یہ عجیب بچہ ہے، یہ سجدے کی حالت میں پیدا ہوا ہے، یعنی پیدا ہوتے ہی اس نے سجدہ کیا اور پھر انگلی آسمان کی طرف اٹھائی۔ تب عبدالمطلب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر کعبہ گئے اور وہاں طواف کیا اور پھر واپس آ کر حضرت آمنہ کو دے دیا۔

اس وقت عرب کے دستور کے مطابق آپ کو ایک برتن سے ڈھانپ دیا گیا لیکن وہ برتن ٹوٹ کر ہٹ گیا، اس موقع پر آپ اپنا انگوٹھا چوستے ہوئے نظر آئے۔ اس کے بعد شیطان چیخا ۔ باقی اگلی قسط میں ان شاء اللہ۔