*مولوی بن کے کھائے گا کہاں سے؟*

آج کے دور میں زمانہ یقیناً بہت تبدیل ہو چکا ہے۔ ہر انسان کا نقطۂ نظر بدل گیا ہے اور بہت آسانی کے ساتھ یہ اعتراض کر دیا جاتا ہے کہ *مولوی بن کر کھائے گا کہاں سے؟ مستقبل میں کیا کرے گا؟ مسجد کی محراب اور مدارس کی آغوش میں زندگی گزار کر چلا جائے گا اس کے علاوہ کیا کرے گا؟ پھر لوگ کالج یونیورسٹی اور بڑے بڑے تعلیمی اداروں کی باتیں کرنے لگتے ہیں کہ وہاں سے بچے پروفیسر انجینئر، ڈاکٹر، پائلٹ، بزنس مین اور طرح طرح کے شعبوں میں کامیاب ہو کر اپنا اور اپنے گھر والوں کا نام روشن کرتے ہیں۔ دنیاوی اعتبار سے اچھی پوسٹوں پر فائز ہوتے ہیں اور معاشرے میں عزت و مقام حاصل کرتے ہیں۔ لیکن ایک مولوی بن کر کیا کرے گا؟ وہی دس سے پندرہ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ اس میں اپنے اخراجات، بیوی بچوں کے اخراجات، علاج معالجے اور دیگر ضروریاتِ زندگی کو پورا کرنا کتنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ اپنے بچے کو ایسا پلیٹ فارم دیا جائے جہاں سے اس کا مستقبل روشن ہو اور وہ ڈی ایم، ایس ایس پی، پی ایچ ڈی اسکالر یا دوسرے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو سکے۔ لیکن ایک مولوی بن کر تو بس *یدور من المسجد إلی الحجرة ومن الحجرة إلی المسجد* یعنی مسجد سے حجرے اور حجرے سے مسجد تک کی زندگی گزار کر دنیا سے رخصت ہو جائے گا۔
اس طرح کے اعتراضات ہماری شخصیات پر کیے جاتے ہیں اور بعض لوگ مدارسِ اسلامیہ کے طلبہ کا مذاق بھی اڑاتے ہیں۔ میں اس موضوع پر زیادہ لمبی چوڑی بات نہیں کرنا چاہتا بلکہ صرف اتنا عرض کروں گا کہ مدارسِ اسلامیہ کے طلبہ اور اسکول کالج و یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے درمیان بے روزگاری کے اعتبار سے ایک غیر جانب دارانہ موازنہ کر کے دیکھیے حقیقت خود سامنے آ جائے گی۔ کبھی سروے کیجیے اور معلوم کیجیے کہ *جن طلبہ نے دس سے بارہ سال مدارسِ اسلامیہ کی ٹوٹی ہوئی چٹائیوں پر بیٹھ کر علم حاصل کیا ہے ان میں کتنے بے روزگار ہیں؟* اور جنہوں نے دس سے بارہ سال یا اس سے بھی زیادہ عرصہ *اسکول کالج اور یونیورسٹی میں گزارے ہیں ان میں کتنے افراد روزگار سے محروم ہیں؟* ایک سروے کے مطابق یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل کی بے روزگاری ٪32.8 ہے اور وہ طلبہ جو دسویں بارہویں اور بے اے کرکے ابھی بھی در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں انکی تعداد بہت ہے۔وہیں آپ دیکھ لیجیے گا کوئی مدارس اسلامیہ میں ٹوٹی ہوئی چٹائی پر بیٹھ کر صرف پانچ سے چھ سال گزارنے کے باوجود بھی کسی نہ کسی مقام پر وہ کام سر انجام دے رہا ہے۔اور اس طبقے میں جو لوگ بے روزگار ہیں انکی تعداد فقط ٪00.2 ہے۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ ڈگری حاصل کر لینے کے باوجود ہر شخص کو ملازمت کی ضمانت نہیں ملتی اور مدارس سے فراغت کے بعد بھی ہر طالب علم کے لیے معاشی کامیابی کا راستہ یکساں نہیں ہوتا۔ لہٰذا کسی ایک طبقے کو حقیر سمجھنے کے بجائے دونوں کے حالات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینا چاہیے۔
اب ذرا اس سوال پر بھی غور کر لیتے ہیں کہ آخر مولوی بن کر کھائے گا کیا؟ حضرت امام یعقوب بن ابراہیم انصاری جن کی کنیت ابو یوسف ہے رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق ایک مشہور واقعہ ہے۔ آپ کی ابتدائی زندگی میں معاشی حالات ایسے تھے کہ آپ ایک شخص کی دکان پر کام کیا کرتے تھے اور اس کے عوض معمولی رقم حاصل ہوتی تھی۔ ایک مرتبہ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے یہاں چند مہمان تشریف لائے۔ چائے پہنچانے کے لیے حضرت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ وہاں حاضر ہوئے۔ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے خدا داد عطا سے آپ کی صلاحیتوں کو پہچانا اور آپ سے ارشاد فرمایا بیٹا کیا کرتے ہو؟ عرض کیا کچھ خاص نہیں ایک دکان پر کام کرتا ہوں اور ماہانہ ایک درہم ملتا ہے اسی سے گھر کا خرچ چلتا ہے۔ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا بیٹا تم میرے پاس علم حاصل کرنے آیا کرو میں تمہیں ماہانہ دو درہم دیا کروں گا۔
حضرت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے۔ مہینہ مکمل ہوا تو آپ کو دو درہم ملے۔ آپ گھر تشریف لے گئے اور والدہ کو وہ رقم دے دی۔ والدہ نے پوچھا بیٹا آج دو درہم کہاں سے مل گئے؟ تمہیں تو ایک ہی درہم ملتا تھا۔ آپ نے جواب دیا کہ ایک بزرگ نے مجھے اپنے پاس پڑھنے کے لیے بلایا ہے اور وہ مجھے دو درہم ماہانہ دینے کو کہتے ہیں۔ یہ سن کر آپ کی والدہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں آپ میرے بیٹے کو مولوی بنا رہے ہیں لیکن یہ *بتائیے کہ یہ کھائے گا کہاں سے؟ کمائے گا کیسے؟ کیا آپ کو میرے بچے کے مستقبل کی فکر نہیں؟* امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا اسے پڑھنے دیجیے یہ وہ کھائے گا جس کا آپ نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔ لیکن والدہ اپنے بیٹے کو واپس لے گئیں اور اسے پھر اسی دکان پر کام کرنے کے لیے لگا دیا۔
کچھ عرصے بعد امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے یہاں دوبارہ مہمان آئے اور چائے منگوائی گئی۔ اتفاق سے وہی نوجوان چائے لے کر حاضر ہوا۔ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے پھر اسے علم حاصل کرنے کی ترغیب دی۔ آپ نے دکان کے مالک سے دریافت فرمایا کہ اس لڑکے کو کتنی اجرت دیتے ہو؟ اس نے بتایا کہ دو درہم ماہانہ۔ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ میں اسے پانچ درہم ماہانہ دوں گا اسے میرے پاس پڑھنے بھیج دیا کرو۔ چنانچہ حضرت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ دوبارہ پڑھنے آنے لگے۔ مہینے کے آخر میں جب آپ پانچ درہم لے کر گھر پہنچے تو والدہ نے حیرت سے پوچھا بیٹا آج اتنی رقم کیسے مل گئی؟ آپ نے بتایا کہ وہی بزرگ مجھے پڑھنے کے لیے بلاتے ہیں اور اب پانچ درہم دیتے ہیں۔ والدہ ایک مرتبہ پھر امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں آپ میرے بچے کو عالم بنا رہے ہیں اسے کاروباری بننے دیجیے۔ اسے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے دیجیے۔ یہ مولوی بن کر کیا کھائے گا اور اپنے بچوں کو کیا کھلائے گا؟ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے انہیں سمجھایا اور فرمایا کہ اس بچے کو علم حاصل کرنے دیجیے اللہ تعالیٰ اسے ایسا مقام عطا فرمائے گا جس کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتیں اس کی فکر نہ کیجیے۔
حضرت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے علم حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا اور ایک وقت ایسا آیا کہ آپ فقہ و اجتہاد کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے۔ آپ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے ممتاز شاگردوں میں شمار ہوئے اور اسلامی فقہ کی تاریخ میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ آپ نے علمِ فقہ کو آگے بڑھانے اور امت کی رہنمائی کرنے میں عظیم خدمات انجام دیں۔ آپ کی علمی قابلیت اور فقہی بصیرت کا اعتراف اس دور کے اہلِ علم نے بھی کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسا بلند مرتبہ عطا فرمایا کہ آپ کا نام آج بھی اسلامی تاریخ میں احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔حضرت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کو اسلامی تاریخ میں عباسی دور کے ممتاز قاضیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ خلیفہ ہارون الرشید کے زمانے میں آپ کو قاضی القضاۃ، یعنی اعلیٰ ترین عدالتی منصب پر فائز کیا گیا۔اور سب سے پہلے جس عظیم شخصیت کو قاضی القضات (یعنی دور حاضر میں سپرنگ کورٹ کا سب سے بڑا جج سمجھیے گا)کا لقب ملا امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کی ذات ہے۔یہ ایک عظیم ذمہ داری تھی جس کے لیے فقہی بصیرت علمی پختگی عدل و انصاف اور شریعت کی گہری سمجھ ضروری تھی۔ حضرت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی اس بات کی روشن مثال ہے کہ مدارس اور دینی تعلیم سے وابستہ شخصیات علمی عدالتی اور سماجی میدانوں میں بھی غیر معمولی خدمات انجام دے سکتی ہیں۔
حضرت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ جب کرسی قضا پر بیٹھے تو آپکی بارگاہ میں ڈرائی فروٹس کا مربہ لایا گیا اسی موقع پر بادشاہ وقت آپکے پاس آئے ہوئے تھے کہنے لگے کھائیے گا ہمیں بھی یہ کھانا کبھی کبھی ملتا ہے اس وقت آپ کو اپنی والدہ کی وہ بات یاد آئی کہ مولوی بن کر کیا کھائے گا؟جب بادشاہ وقت نے کہا ہمیں بھی کبھی کبھی ملتا ہے یہ مربہ تو امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ مسکرانے لگے پھر اگلے لمحے رونے لگے۔بادشاہ نے پوچھا حضرت معاملہ کیا ہے ابھی آپ ہنس رہے تھے پھر رونے لگے تو امام یوسف نے کہا کہ جب آپ نے کہا مجھے بھی کبھی کبھی ملتا ہے یہ مربہ تو مجھے اپنے استاد حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی بات یاد آ گئی تو میں ہنسنے لگا اور جب میں رویا تو مجھے اپنی والدہ کی بات یاد آ گئی مولوی بن کر کھائے گا کیا کاش مجھے میری ماں اور استاد دونوں اس منصب پر دیکھتے تو کتنے خوش ہوتے۔جس علم کو ایک زمانے میں معاشی اعتبار سے بے فائدہ سمجھا جا رہا تھا اسی علم نے آپ کو عزت و وقار اور خدمتِ خلق کا موقع عطا کیا۔
مجھے امید ہے کہ آپ حضرات اس پوری گفتگو سے اصل بات سمجھ گئے ہوں گے۔ دولت ثروت عزت اور مرتبہ عطا کرنا میرے رب کی شان ہے۔ خدا کے لیے کسی عالمِ دین یا مدرسے کے طالب علم کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھیے۔ کسی کی سادگی لباس محدود آمدنی یا معمولی ملازمت کو اس کی ناکامی کا معیار نہ بنائیے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے عزت عطا فرماتا ہے اور جس کے لیے جس میدان میں بھلائی مقدر فرماتا ہے اسے وہاں ترقی عطا کرتا ہے۔ لہٰذا یہ سوال کہ مولوی بن کر کھائے گا کیا؟ اپنے ذہن سے نکال دیجیے رزق اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے البتہ اس کے حصول کے لیے کوشش محنت منصوبہ بندی اور جائز ذرائع اختیار کرنا بھی ضروری ہیں۔
میرے عزیزو اس تحریر کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو کمتر ثابت کیا جائے۔ میں خود بھی کالج میں تعلیم حاصل کرتا ہوں اور یونیورسٹی سے بھی میرا تعلق رہا ہے الحمدللہ اور فی الحال جامعۃ الاشرفیہ مبارکپور کا متعلم ہوں۔ میں یہ بات محض ایک غلط فکر کی اصلاح کے لیے بیان کر رہا ہوں کہ کسی طالب علم کے مستقبل کو صرف اس کے تعلیمی ادارے کی بنیاد پر نہ جانچا جائے۔ کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ بھی ہمارے اپنے ہیں اور مدارس کے طلبہ بھی ہمارے اپنے ہیں۔ ہمیں دونوں کی صلاحیتوں کی قدر کرنی چاہیے۔ جو طالب علم دنیاوی علوم حاصل کر رہا ہے اسے اس کے میدان میں آگے بڑھنے کی ترغیب دیجیے اور جو طالب علم دینی علوم حاصل کر رہا ہے اس کی حوصلہ افزائی کیجیے۔ اسی طرح دینی مدارس کے طلبہ کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے علمی سفر کے ساتھ معاشرتی ضروریات روزگار کے جائز ذرائع اور عصرِ حاضر کے تقاضوں سے واقف رہیں تاکہ اپنی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں استعمال کر سکیں۔
اللہ کریم ہم سب کو صحیح سوچ علمِ نافع عملِ صالح رزقِ حلال اور دوسروں کی عزت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمارے دلوں سے ایک دوسرے کے لیے حقارت اور تنگ نظری کو دور فرمائے اور ہمیں ایسا معاشرہ بنانے کی توفیق دے جہاں کسی طالب علم کو اس کے لباس ادارے یا شعبۂ تعلیم کی بنیاد پر کم تر نہ سمجھا جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے اپنی سخاوت کے دروازے کھول دے اور ہم سب کو دین و دنیا کی بھلائیاں عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ علیہ وسلم۔

              *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*