سفرِ سیرت
قسط نمبر ۴
*گہوارۂ طفولیت سے اوجِ شباب تک حیات النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم*
✍🏻*محمد عادل ارریاوی*
_________________________________
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے والد کا نام حضرت عبدُاللّٰہ، دادا کا عَبدُالمُطَّلِب، پردادا کا ہاشِم، نانا کا وَہب، دادی کا فاطِمَہ اور نانی کا بَرَّہ تھا۔
*آپ کے والد ۱۰ بھائی تھے*
1. عَبّاس
2. حَمْزَہ
3. اَبُولَہَب
4. اَبُوطالِب
5. زُبَیْر
6. حارِث
7. مُقَوَّم
8. حَجْل
9. ضِرار
10. حضرت عبدُاللّٰہ
ان میں سے حضرت حَمْزَہؓ اور حضرت عَبّاسؓ نے اسلام قبول کیا۔ اَبُوطالِب آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے نہایت ہی اچھے اور چہیتے چچا تھے، جبکہ اَبُولَہَب اتنا ہی خطرناک دشمن تھا۔
*آپ کی پھوپھیاں ٦ تھیں*
1. اُمِّ حَکِیم
2. عاتِکَہ
3. بَرَّہ
4. اُمَیْمَہ
5. اَرْوٰی
6. صَفِیَّہ
ان میں سے حضرت صَفِیَّہؓ نے اسلام قبول کیا تھا، اور اُمِّ حَکِیم آپ کے والد کی جڑواں بہن تھیں۔
*آپ کا سلسلۂ نسب*
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا خاندان والد کی طرف سے اس طرح ہے۔
عَبدُاللّٰہ بن عَبدُالمُطَّلِب بن ہاشِم بن عَبدِ مَناف بن قُصَیّ بن کِلاب بن مُرَّہ بن کَعْب بن لُوَیّ بن غالِب بن فَہْر بن مالِک (قُرَیْش)
والدہ کی طرف سے آپ کا خاندان کِلاب پر جاکر مل جاتا ہے۔
آمِنَہ بنت وَہب بن عَبدِ مَناف بن زُہْرَہ بن کِلاب۔
(حیاتِ طیبہ از: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب)
*رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم حضرت حلیمہ کی آغوش میں*
عرب کے معزز اور شریف گھرانوں کی یہ عادت تھی کہ وہ اپنے بچوں کو دودھ پینے کے لئے آس پاس کے دیہاتوں میں بھیج دیا کرتے تھے، تاکہ دیہات کی صاف و شفاف آب و ہوا میں ان کے بچوں کی جسمانی صحت اچھی ہو جائے اور ان کا بچہ خالص عربی زبان سیکھ سکے، انھیں وجوہات کی وجہ سے حضرت آمنہ نے بھی آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو حضرت حلیمہ سعدیہ کے سپرد کر دیا تھا۔
حضرت حلیمہ سعدیہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی رضاعت کے واقعہ کو بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ میں طائف سے اپنے شوہر ، اپنے دودھ پیتے بچے اور بنو سعد بن بکر کی دس عورتوں کے ساتھ دودھ پینے والے بچوں کی تلاش میں مکہ کے لئے روانہ ہوئی ، اس سال قحط کا زمانہ تھا، ہمارے پاس کھانے پینے کی کوئی بھی چیز نہیں تھی، سواری کے لئے ایک دبلی پتلی گدھی تھی جس کا حال یہ تھا کہ وہ اس قدر کمزور تھی کہ قافلہ والوں سے برابر پیچھے ہو جایا کرتی تھی اس کی وجہ سے قافلہ والے ہم سے تنگ آچکے تھے، نیز ہمارے پاس ایک بوڑھی اونٹنی تھی جس سے دودھ کا ایک قطرہ بھی نہیں نکلتا تھا ، ہم لوگ بھوک کی وجہ سے رات بھر نہیں سوتے تھے، اسی طرح ہمارا بچہ بھی رات بھر روتا اور بلکتا رہتا تھا؛ کیوں کہ میری چھاتی میں اتنا دودھ نہیں ہوتا تھا جس سے میرا بچہ سیراب ہو سکے، بالآخر بہت مشکل سے یہ سفر طے ہوا اور ہم مکہ پہنچے۔
(سبل الہدی والرشاد ۳۸۶/۱)
جب ہم مکہ پہنچے تو ہم میں سے ہر ایک عورت کے سامنے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو پیش کیا گیا لیکن کوئی بھی عورت آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو لینے کے لئے تیار نہ تھی کیوں کہ ہم عورتیں یہ امید کرتی تھیں کہ بچہ کے والد ہمارے ساتھ انعام و اکرام کا معاملہ کریں گے اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے یتیم ہونے کی وجہ سے انعام واکرام کی امید نہیں کی جاسکتی تھی ، الغرض میرے قافلہ کی تمام عورتوں نے مالدار گھرانے کے بچوں کو لے لیا، صرف میں بچ گئی تھی جس کو بچہ نہیں مل سکا تھا، میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ مجھے خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہوئے شرم آرہی ہے، اس لئے میں اس یتیم بچہ کو لینا چاہتی ہوں، میرے شوہر نے کہا کہ ٹھیک ہے، تم اسی یتیم بچہ کو لے لو، ہو سکتا ہے کہ اللہ ربّ العزت اس بچہ کی بدولت ہمیں خیر و برکت سے نواز دیں، چنانچہ میں نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو لے لیا۔
جب میں نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اپنی چھاتی سے لگایا تو میری چھاتی میں اس قدر دودھ اتر آیا کہ حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور میرے دودھ پیتے بچے دونوں نے خوب شکم سیر ہو کر دودھ پیا، پھر جب میرے شوہر اونٹنی کی طرف بڑھے تو اونٹنی سے بھی خوب دودھ نکلا حتی کہ ہم سب شکم سیر ہو گئے اور یہ رات بہت آرام کے ساتھ گذری ، جب صبح ہوئی تو میرے شوہر نے مجھ سے کہا کہ اے حلیمہ یقینا تم نے ایک مبارک بچہ کو گود لیا ہے، میں نے کہا کہ ہاں مجھے بھی یہی امید ہے، اس کے بعد ہم طائف کے لئے روانہ ہو گئے ۔
جب ہم واپس ہونے لگے تو میری گدھی اس قدر تیز رفتار سے چلنے لگی کہ تمام قافلہ والوں کو پیچھے چھوڑ دیتی تھی حتی کہ قافلہ کی عورتیں مجھ سے کہنے لگی کہ: اے ابو ذویب کی بیٹی ذرا آہستہ آہستہ چل، کیا یہ وہی گدھی نہیں ہے جس پر سوار ہو کر تم ہمارے ساتھ آئی تھی؟ میں نے کہا کہ ہاں یہ وہی گدھی ہے، تو ان عورتوں نے کہا کہ آج تو اس کی عجیب شان ہے، بالآخر ہم اپنے گھر پہنچے، اللہ کی قسم اس وقت سب سے زیادہ قحط زدہ ہمارا علاقہ تھا، جس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ قبیلہ والوں کی بکریاں چرا گاہ جاتی تھیں لیکن ان میں سے کسی بھی شخص کی بکری کے تھن سے دودھ نہیں نکلتا تھا، اس کے برعکس آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے طفیل میری بکری سے خوب دودھ نکلتا تھا، میرے قبیلہ والے اپنے چرواہوں سے کہا کرتے تھے کہ تم بھی اسی جگہ بکریاں چرایا کرو جہاں حلیمہ کی بکریاں چرتی ہیں لیکن اس کے باجود ان کی بکریوں سے دودھ نہیں نکلتا تھا۔
ہم لوگ اسی طرح آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے طفیل برکتوں سے فیض یاب ہوتے رہے حتی کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم دو سال مکمل ہو گئے اور میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو لیکر آپ کی والدہ کے پاس مکہ گئی، میں آپ کو اپنے سے جدا کرنا نہیں چاہتی تھی، نیز مکہ میں طاعون کی بیماری پھیلی ہوئی تھی اس لئے میں نے ضد کر کے حضرت آمنہ سے آپ صلی کو پھر سے اپنے ساتھ لے جانے کی خواہش کا اظہار کر دیا، بالآخر میری ضد کی وجہ سے حضرت آمنہ تیار ہو گئیں اور ہم آپ کو لیکر اپنے گھر آگئی ۔(سیرت ابن ہشام :۱۸۷/۱)
*رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا شق صدر*
حضرت حلیمہ سعدیہ فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنے رضاعی بھائی کے ساتھ بکریاں چرایا کرتے تھے، ایک دن آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی (عبد اللہ بن حارث ) دوڑتا ہوا ہمارے پاس آیا اور بولا کہ ہمارے قریشی بھائی کے پاس سفید کپڑا پہنے ہوئے دو آدمی آئے اور ہمارے بھائی کو زمین پر چت لٹا کر ان کے پیٹ کو چیر دیا ہے، میں ان کو اسی حال میں چھوڑ کر آیا ہوں ۔
چنانچہ میں اپنے شوہر کے ساتھ دوڑتے ہوئے آپ کے پاس گئی دیکھا کہ آپ کے چہرے کا رنگ ڈر اور خوف کی وجہ سے بدلا ہوا ہے، میں نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اپنے سینے سے لگالیا اور میرے شوہر نے آپ سے واقعہ کے بارے میں سوال کیا ، آپ نے فرمایا کہ میرے پاس سفید کپڑا پہنے ہوئے دو آدمی آئے تھے اور انھوں نے مجھے زمین پر لٹا کر میرے سینہ کو چیر کر اس میں سے کچھ نکالا مجھے معلوم نہیں کہ وہ کیا تھا اس کے بعد وہ لوگ چلے گئے ۔
حضرت حلیمہ فرماتی ہیں کہ ہم لوگ اس واقعہ کی وجہ سے بہت پریشان ہوئے ، میرے شوہر نے مجھ سے کہا کہ اس بچہ کو واپس کر دو ، کہیں اس پر شیطان کا اثر نہ ہو جائے چنانچہ ہم نے آپ کو حضرت آمنہ کے سپرد کر دیا، انہوں نے کہا کہ تم تو اس بچہ کو بہت رغبت کے ساتھ لے گئی تھی اب اس قدر جلد واپس کرنے کی کیا وجہ ہے؟ ان کے اصرار کرنے پر میں نے ان کو پورا واقعہ سنادیا انہوں نے کہا کہ کیا تم اس کو شیطان کا اثر سمجھتی ہو؟ یقیناً شیطان اس بچہ کو نقصان نہیں پہنچا سکتا ہے، میرے بچہ کی شان بہت نرالی ہے، جب یہ میرے پیٹ میں تھا تو مجھے دوسری حاملہ عورتوں کی طرح حمل کی کوئی تکلیف نہیں ہوتی تھی، میراحمل مجھے بہت آسان لگتا تھا، اس کی ولادت کے وقت میں نے اپنے پیٹ سے ایک نور نکلتے ہوئے دیکھا، جس میں مجھے شام کے شہر بصری کے محلات نظر آئے ، جب یہ پیدا ہوا تو دونوں ہاتھ زمین پر رکھے ہوئے اور آسمان کی طرف سر اٹھائے ہوا تھا۔
فائدہ فرشتے برف یا زمزم کا پانی لیکر آئے تھے، سب سے پہلے انہوں نے سینہ چیر کر اس میں سے دل نکالا پھر دل چیر کر اس میں سے خون کا جما ہوا ایک ٹکڑا نکالا اور کہا کہ اس حصہ میں شیطان وسوسہ ڈالتا ہے، پھر اس کو پھینک دیا اور دل کو اس پانی سے دھو دیا ، اس کے بعد آپ کے سینہ میں دل رکھ کر سینہ کو سی کر چلے گئے ، شق صدر کا یہی مطلب ہے اور یہ آپ کی پوری زندگی میں چار مرتبہ ہوا تھا ، واضح رہے کہ اس سلائی کا نشان آپ کے سینہ پر وفات تک موجود رہا۔ (سیرة المصطفی ۷۲/۱)
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی والدہ محترمہ کا نام آمنہ ہے جو بنوزہرہ خاندان سے تعلق رکھتی ہیں، یہ قبیلہ شرافت اور اعلی نسب میں سب سے ممتاز قبیلہ تھا حضرت آمنہ وہاں کے سردار وهب بن عبد مناف کی صاحبزادی ہیں ، جب آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم چھ سال کے ہو گئے تو حضرت آمنہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور ام أيمن کو لیکر اپنے شوہر عبداللہ کے قبر کی زیارت کے لئے مدینہ میں گئی ایک مہینہ تک آپ نے وہاں دار النابغہ میں قیام کیا، واپسی میں مقام ابواء میں حضرت آمنہ کا انتقال ہو گیا اور وہیں حضرت آمنہ کو دفن کر دیا گیا۔
(سبل الہدی والرشاد ۱۲۰/۲ ، رحمۃ للعالمین ۱۱۲/۲)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہجرت کے بعد جب آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس مقام سے گزرے تو اپنی ماں کی قبر کے پاس بیٹھ گئے اور اس قدر زار و قطار سے رونے لگے کہ صحابہ کرام بھی برداشت نہیں کر سکے اور ہم لوگ بھی رونے لگے، میں نے اس دن سے زیادہ آپ کو کبھی بھی روتے ہوئے نہیں دیکھا میں نے آپ سے اس بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ میری والدہ کی قبر ہے، میں نے اللہ ربّ العزت سے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی درخواست کی تو اللہ تعالی نے میری درخواست قبول کر لی پھر میں نے اللہ تعالی سے اپنی والدہ کے لئے استغفار کرنے کی اجازت مانگی تو اللہ تعالی نے مجھے استغفار کرنے سے منع کر دیا۔(دلائل نبویہ اردو ۱/۲۰۷)
فائدہ مکہ سے مدینہ جاتے ہوئے بدر سے کچھ پہلے دائیں طرف ایک راستہ جاتا ہے، عام راستے سے تقریبا ۲۰ کلومیٹر دور آگے جا کر ایک چھوٹا سا شہر ابوا ہے شہر سے تھوڑا پہلے ایک پہاڑی پر سیدہ آمنہ کی قبر ہے۔ ( نقوش پائے مصطفیٰ ۳۱)
*رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم حضرت عبد المطلب کی پرورش میں*
حضرت آمنہ کے انتقال کے وقت آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی عمر مبارک چھ سال تھی ان کی وفات کے بعد دو سال تک آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دادا حضرت عبدالمطلب نے آپ کی پرورش کی حضرت عبدالمطلب کے لئے خانہ کعبہ کے پاس بستر بچھایا جاتا تھا، جس پر ان کے لڑکے سمیت دیگر کسی بھی شخص کو بیٹھنے کی اجازت اور ہمت نہیں تھی لیکن آپ اس پر بلاتکلف بیٹھ جایا کرتے تھے، آپ کے چچا جب آپ کو بستر سے ہٹانے کی کوشش کرتے تو حضرت عبد المطلب اپنے لڑکوں سے کہتے کہ میرے پوتے کو چھوڑ دو میرے پوتے کی شان بہت نرالی ہوگی، لیکن دادا کا ساتھ بھی زیادہ دنوں تک نہیں رہا، صحیح قول کے مطابق جب رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ۸ سال کے ہوئے تو ۸۲ سال کی عمر میں حضرت عبدالمطلب کا ۵۷۹ء میں انتقال ہو گیا ، انتقال سے پہلے انھوں نے حضرت ابو طالب کو بلا کر ان کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کی تاکید کی ۔ (رحمۃ للعالمین ۳۳۲/۲)
*حضرت عبد المطلب کا اصل نام اور ان کی صفات*
آپ کے دادا کا اصل نام عامر اور ان کی کنیت ابوالحارث ہے، پیدائش کے وقت ان کے سر کے چند بال سفید تھے، اس لئے ان کو شیبہ کہا جانے لگا، بعض مؤرخین کے بقول ان کا اصل نام شَيْبَةُ الْحَمْد ہے، چوں کہ ان کی پرورش ان کے چچا نے کی تھی اس لئے ان کی طرف منسوب کرتے ہوئے حضرت عامر کو عبد المطلب ( مطلب کا غلام ) کہا جاتا ہے ۔
حضرت عبدالمطلب ستودہ صفات کے حامل تھے، چنانچہ آپ لوگوں کو ظلم کرنے ، شراب پینے ، زنا کرنے، بیت اللہ کا ننگے طواف کرنے ، لڑکیوں کو زندہ دفن کرنے اور جن سے نکاح کرنا حرام ہے ان سے نکاح کرنے سے منع کرتے تھے، اسی طرح آپ لوگوں کو منت پوری کرنے اور اچھے اخلاق کی تاکید کرتے تھے، نیز حقیر کاموں اور پیشوں سے بچنے کے لئے کہتے تھے۔ (سیرۃ المصطفی : ۴۱/۱)
*رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم حضرت ابو طالب کی کفالت میں*
آپ کے والد والدہ اور دادا کے انتقال کے بعد آپ کی پرورش آپ کے چچا ابو طالب کرنے لگے، ابو طالب کا اصل نام عبد مناف اور کنیت ابو طالب ہے، ابوطالب کو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بہت محبت تھی اور اپنی اولاد کی طرح آپ کو عزیز رکھتے تھے۔
*رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے شام کا پہلا سفر*
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب ۱۲ سال کے ہوئے تو آپ کے چچا ابوطالب نے تجارت کے لئے شام جانے کا ارادہ کیا، مکہ سے روانہ ہوتے وقت انہوں نے آپ کو غمگین دیکھا تو اپنے ساتھ لے گئے جب ابو طالب کا قافلہ شام کے مشہور شہر بصری پہنچا ( جہاں ایک راہب رہتا تھا جس کو لوگ بحیری کے نام سے جانتے تھے اور اصل نام سر جس تھا ) تو وہ راہب اپنی عبادت گاہ سے نکل کر قافلہ کے پاس آیا ( حالاں کہ اس سے پہلے وہ بھی اپنی عبادت گاہ سے نہیں نکلتا تھا اور نہ ہی آنے جانے والوں میں سے کسی سے باتیں کرتا تھا) پھر اس نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بارے میں فرمایا کہ یہ اللہ کے رسول ہیں، لوگوں نے اس راہب سے پوچھا کہ آپ نے کیسے پہچان لیا کہ یہ اللہ کے رسول ہیں؟ تو اس راہب نے کہا کہ جس وقت اس بچہ کا یہاں سے گذر ہوا تو درخت اور پتھر اس کو سجدہ کر رہے تھے اور درخت اور پتھر صرف نبی کو سجدہ کرتے ہیں، نیز میں آپ کو مہر نبوت سے بھی پہچانتا ہوں اس راہب نے یہ بھی کہا کہ جب تم آ رہے تھے تو بادل حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر سایہ کئے ہوئے تھا اور جب یہ ایک درخت کے پاس بیٹھے تو اس کی ٹہنیاں ان کی طرف جھکی ہوئیں تھیں، پھر اس راہب نے قافلہ والوں کی دعوت کی اور آپ سے بہت ساری باتیں کی اس کے بعد اس نے ابو طالب سے کہا کہ آپ اس بچہ کی یہودیوں سے حفاظت کیجئے ورنہ وہ لوگ اس بچہ کو قتل کر دیں گے، اس بچہ کی شان یقینا بہت نرالی ہوگی یہ سن کر ابو طالب نے آپ کو وہاں سے ایک آدمی کے ساتھ واپس بھیج دیا۔
فائدہ آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان پشت کی جانب کبوتر کے انڈے کے برابر ایک ابھرا ہوا گوشت تھا اسی کو مہر نبوت کہا جاتا ہے۔ (سیرة المصطفی : ۱۔ ۸۲ )
*رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پاکیزہ جوانی کے*
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس حال میں جوان ہوئے کہ فرشتے بچپن میں جاہلیت کے افعال اور گناہ کے کاموں سے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی حفاظت کرتے رہے حتی کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بالغ ہو گئے اس کے بعد آپ سالی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پاکیزہ جوانی کے ایام اس طرح شروع ہوئے کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اخلاق و مروت کے اعتبار سے قوم میں سب سے افضل تھے، اخلاق کے اعتبار سے ان میں سب سے افضل تھے حضرت عبد اللہ بن سائب فرماتے ہیں کہ میں آپ کے ساتھ تجارت میں شریک رہتا تھا آپ یہ بہت اچھے شریک تھے نہ کسی بات کو ٹالتے تھے اور نہ ہی کسی سے جھگڑا کرتے تھے۔ (سیرۃ المصطفی ۱۔ ۹۳۔۹۴)
اللہ ربّ العزت ہم سب کو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین یارب العالمین ۔