*قسط 2: تاریخِ ولاد*
آپ ﷺ کی تاریخِ ولادت میں مختلف اقوال ہیں، بعض روایات میں 2 ربیع الاول، بعض میں 8 یا 9 اور بعض میں 12 ربیع الاول ہے، لیکن مشہور قول 12 ربیع الاول کا ہے۔
آپ ﷺ کی ولادت باسعادت عام الفیل (ہاتھیوں والے سال) میں ہوئی۔ اس کا واقعہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کی ولادت سے تقریباً 50 دن پہلے یمن میں ابرہہ نامی ایک عیسائی حکمران رہتا تھا۔ اس نے جب دیکھا کہ لوگ جوق در جوق کہیں جا رہے ہیں تو پوچھا: یہ لوگ کہاں جا رہے ہیں؟ بتایا گیا کہ یہ حج کرنے بیت اللہ جا رہے ہیں۔
اس نے پوچھا: بیت اللہ کیا ہے؟ کہا گیا: ایک پتھر کا گھر ہے جس کا لوگ طواف کرتے ہیں۔
ابرہہ نے کہا: میں اپنی قوم کے لیے یہیں یمن میں ایک کعبہ بناؤں گا۔ چنانچہ اس نے اپنی طاقت کے مطابق ایک عالیشان گرجا (جسے وہ بزعمِ خود کعبہ کہتا تھا) تیار کرایا اور لوگوں کو وہیں آنے کی دعوت دی۔
اس بات پر قریش کے ایک آدمی نفیل بن حبیب الخثعمی کو بڑی غیرت آئی۔ وہ رات کے وقت چپکے سے اس گرجے میں داخل ہوا اور اسے گندگی سے ناپاک کر دیا۔ جب ابرہہ کو اس کی خبر ہوئی تو وہ سخت غضبناک ہوا اور کہنے لگا: یہ اہلِ عرب کا کام ہے، میں ان کے کعبہ کو جا کر نیست و نابود کر دوں گا۔
چنانچہ وہ ایک لشکرِ جرار اور ہاتھیوں کے ساتھ مکہ کی طرف روانہ ہوا۔ مکہ کے قریب پہنچ کر اس نے اپنے لشکر کو حکم دیا کہ اہلِ مکہ کے جانور لوٹ لو۔ اس لوٹ مار میں عبدالمطلب کے بھی دو سو اونٹ ہاتھ آ گئے۔
عبدالمطلب اپنے اونٹوں کی واپسی کے لیے ابرہہ کے پاس آئے۔ ابرہہ نے پوچھا: کیوں آئے ہو؟ عبدالمطلب نے کہا: اپنے اونٹوں کی تلاش میں آیا ہوں۔
ابرہہ نے کہا: میں نے سمجھا تھا کہ تم اپنے عبادت خانے کعبہ کے بارے میں بات کرنے آئے ہوگے۔ عبدالمطلب نے وہ تاریخی جملہ کہا: "میں تو اونٹوں کا مالک ہوں، اور اس گھر (کعبہ) کا بھی ایک مالک ہے، وہ خود اس کی حفاظت کر لے گا۔"
اس موقع پر نفیل جو عبدالمطلب کا دوست تھا، نے ابرہہ سے کہا کہ عبدالمطلب قریش کے سردار اور صاحبِ اثر و رسوخ شخصیت ہیں، لہٰذا ان کے اونٹ واپس کر دیے جائیں۔ چنانچہ ابرہہ نے اونٹ واپس کر دیے۔
اس کے بعد عبدالمطلب اپنے ساتھیوں کے ساتھ جبلِ ابو قبیس پر چڑھ گئے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی:
"اے اللہ! بندہ اپنے مال کی حفاظت کرتا ہے، تو بھی اپنے گھر کی حفاظت فرما۔"
ادھر ابرہہ اپنے لشکر کے ساتھ کعبہ کی طرف بڑھا تو اس کا بڑا ہاتھی (جس کا نام محمود تھا) بیٹھ گیا اور آگے بڑھنے سے انکار کر دیا۔ بہت مارا پیٹا لیکن وہ نہ اٹھا، اور جب اس کا رخ یمن کی جانب کیا جاتا تو وہ دوڑنے لگتا۔ یہ دیکھ کر ابرہہ حیران رہ گیا۔
اللہ نے اس ہاتھی کو روک دیا تھا جس نے اسے پیدا کیا تھا۔ پھر ابرہہ کا کیا انجام ہوا؟ وہ تیسری قسط میں۔