مفتی محمد ابراہیم غفاری
مہتمم ۔ مدرسہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ
abzghifariedu@gmail.com
اللہ تعالیٰ کی رحمت پر یقین بندۂ مومن کا سرمایہ ہے، لیکن اس یقین کو گناہوں پر اصرار کا جواز بنا لینا امید نہیں، نفس کا فریب ہے۔
انسانی زندگی کے فکری و روحانی مغالطوں میں ایک بڑا مغالطہ یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ سے حسنِ ظن کے مفہوم کو اپنی خواہشات کے مطابق سمجھنے لگتا ہے۔ نمازوں میں غفلت ہو، ذکرِ الٰہی سے بے اعتنائی ہو، گناہوں سے تعلق مضبوط ہو اور توبہ کی فکر دل میں جگہ نہ پائے، لیکن جب کوئی اسے متنبہ کرے تو جواب ملے: اللہ بڑا غفور و رحیم ہے، مجھے اپنے رب سے بہت امید ہے!
بلاشبہ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے، اس کی رحمت بے پایاں اور اس کی مغفرت وسیع ہے؛ مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس کی رحمت پر یقین انسان کو اطاعت کی طرف لے جاتا ہے یا نافرمانی پر دلیر بناتا ہے؟ کیا حسنِ ظن دل میں توبہ کی تڑپ پیدا کرتا ہے یا گناہوں کے باوجود بے فکری کی چادر اوڑھا دیتا ہے؟
یاد رکھیے! اللہ تعالیٰ سے حسنِ ظن ایک عظیم ایمانی کیفیت ہے، لیکن اسے گناہوں پر اصرار کا سہارا بنا لینا حسنِ ظن نہیں، بلکہ اپنے نفس کے فریب میں مبتلا ہو جانا ہے۔
حقیقی حسنِ ظن وہ ہے جو بندے کو اپنے رب کی رحمت سے وابستہ رکھے، اس کی مغفرت کی امید دلائے، اس کی بارگاہ میں جھکنے کا حوصلہ بخشے اور ہر لغزش کے بعد توبہ کے دروازے پر لا کھڑا کرے۔ جو امید انسان کو سجدے سے دور، استغفار سے غافل اور معصیت پر مطمئن کر دے، اسے حسنِ ظن کا نام دینے سے پہلے اپنے دل کا محاسبہ کرنا چاہیے۔
خوف اور امید؛ بندگی کے دو روشن چراغ
قرآنِ کریم انسان کو نہ مایوسی کے اندھیروں میں چھوڑتا ہے اور نہ بے خوفی کی ایسی روشنی میں لے جاتا ہے جو اسے حقیقت سے غافل کر دے۔ وہ ایک طرف اللہ تعالیٰ کی تدبیر سے بے خوف ہو جانے پر متنبہ کرتا ہے:
﴿أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ ۚ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ﴾ (الأعراف: 99)
ترجمہ: ’’کیا وہ اللہ کی تدبیر سے بے خوف ہو گئے ہیں؟ پس اللہ کی تدبیر سے وہی لوگ بے خوف ہوتے ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں۔‘‘
اور دوسری طرف اپنے گناہوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے بندوں کو امید کا پیغام دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
﴿قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ﴾ (الزمر: 53)
ترجمہ: ’’آپ کہہ دیجیے: اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ بے شک اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، یقیناً وہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘
بظاہر ان دونوں آیات میں خوف اور امید کے دو الگ رخ دکھائی دیتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ دونوں ایک ہی ایمانی زندگی کے دو لازم پہلو ہیں۔ پہلی آیت انسان کو غرور اور غفلت سے بچاتی ہے، جب کہ دوسری آیت اسے مایوسی اور ناامیدی سے نکالتی ہے۔
مومن کا راستہ ان دونوں کے درمیان ہے: وہ اپنے گناہوں سے ڈرتا ہے، لیکن اپنے رب کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتا؛ وہ اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرتا ہے، لیکن توبہ کے دروازے کو کبھی بند نہیں سمجھتا۔
وہ اللہ تعالیٰ سے حسنِ ظن رکھتا ہے، مگر اپنے نفس کی پاکیزگی کا دعوے دار نہیں بنتا۔ اسے اپنے رب کی رحمت پر یقین ہوتا ہے، لیکن اپنے اعمال کی قبولیت کے بارے میں بے جا اطمینان نہیں ہوتا۔
حسنِ ظن باللہ؛ محض ایک خیال نہیں، بندگی کا تقاضا
اللہ تعالیٰ سے حسنِ ظن کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اس کی رحمت، مغفرت، حکمت اور عدل پر یقین رکھے؛ اس کے وعدوں کو سچا جانے، اس کی حکمت کے سامنے سرِ تسلیم خم کرے اور یہ اعتماد رکھے کہ وہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔
اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ بندہ جب گناہ کر بیٹھے تو اپنے لیے توبہ کا راستہ کھلا سمجھے، جب زندگی میں دشواریاں آئیں تو اللہ کی رحمت سے امید وابستہ رکھے اور جب دعاؤں کی قبولیت میں تاخیر ہو تو اپنے رب سے بدگمان نہ ہو۔
لیکن حسنِ ظن کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان فرائض سے غفلت برتے، گناہوں کو معمول بنائے اور پھر یہ سمجھ کر مطمئن ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ اسے ضرور معاف فرما دے گا۔
جو شخص واقعی اللہ کی رحمت سے امید رکھتا ہے، وہ اسی امید کے سہارے اپنے اعمال کی اصلاح کرتا ہے۔ گناہ اسے توبہ کی طرف بلاتا ہے، کوتاہی اسے استغفار پر آمادہ کرتی ہے اور آزمائش اسے اپنے رب کے سامنے جھکنے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔
سچی امید انسان کو اللہ کے قریب کرتی ہے، جب کہ جھوٹی امید اسے اپنی غفلت کے ساتھ جینے کا بہانہ فراہم کرتی ہے۔
نعمتوں کی فراوانی؛ کیا لازماً رضائے الٰہی کی دلیل ہے؟
انسانی نفس کا ایک عجیب فریب یہ بھی ہے کہ جب دنیا اس کے لیے اپنے دروازے کھولتی ہے، رزق میں وسعت آتی ہے، کاروبار ترقی کرتا ہے اور زندگی آسائشوں سے بھر جاتی ہے تو وہ کبھی کبھی ان سب چیزوں کو اپنی مقبولیت اور رضائے الٰہی کی قطعی دلیل سمجھنے لگتا ہے۔
وہ یہ نہیں سوچتا کہ ممکن ہے یہ نعمتیں اس کے لیے امتحان ہوں، اس کے شکر کا جائزہ لیا جا رہا ہو، یا وہ دنیا کی رنگینیوں میں اس قدر مشغول ہو جائے کہ اپنے انجام کو بھول بیٹھے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّىٰ إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُبْلِسُونَ﴾ (الأنعام: 44)
ترجمہ: ’’پھر جب وہ ان نصیحتوں کو بھول گئے جو انہیں کی گئی تھیں تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے، یہاں تک کہ جب وہ ان چیزوں پر خوش ہونے لگے جو انہیں دی گئی تھیں تو ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا، پھر وہ یکایک مایوس ہو کر رہ گئے۔‘‘
یہ آیت ہمیں ایک نہایت اہم حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے: دنیا کی وسعت اور آسائش ہمیشہ رضائے الٰہی کی علامت نہیں ہوتی۔ کبھی نعمت شکر کا امتحان ہوتی ہے اور کبھی مہلت انسان کے لیے ایک ایسی آزمائش بن جاتی ہے جس کا اسے احساس تک نہیں ہوتا۔
اس لیے نعمت ملے تو شکر کیجیے، محرومی آئے تو صبر کیجیے، کامیابی ملے تو عاجزی اختیار کیجیے اور گناہ کے باوجود مسلسل آسائشیں میسر ہوں تو اپنے نفس کا محاسبہ ضرور کیجیے۔
البتہ ہر دنیاوی خوش حالی کو استدراج اور ہر پریشانی کو ناراضی کی علامت سمجھنا بھی درست نہیں۔ اصل معیار یہ ہے کہ انسان اپنے تعلق باللہ، اطاعت، تقویٰ، شکر اور توبہ کی کیفیت کو دیکھے۔
خطرہ نعمتوں کے ملنے میں نہیں، خطرہ نعمتوں میں کھو کر نعمت دینے والے کو بھول جانے میں ہے۔
https://whatsapp.com/channel/0029Va4Ow8qInlqSJbGemE2H
صالحین کا خوف؛ نیکی کے باوجود دل کیوں کانپتے تھے؟
قرآنِ کریم نے نیک بندوں کی ایک ایسی کیفیت بیان کی ہے جس میں عمل کی کثرت کے ساتھ دل کی بے قراری بھی موجود ہے:
﴿وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ﴾ (المؤمنون: 60)
ترجمہ: ’’اور جو لوگ دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں، اور ان کے دل اس بات سے ڈرتے رہتے ہیں۔‘‘
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کے متعلق دریافت کیا کہ کیا اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے اور چوری کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں، بلکہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو روزے رکھتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں اور صدقہ دیتے ہیں، پھر بھی ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں ان کے اعمال قبول نہ ہوں۔
ذرا اس کیفیت پر غور کیجیے! وہ لوگ جو نمازیں پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، صدقہ کرتے ہیں اور نیک اعمال میں مشغول رہتے ہیں، ان کے دل بھی قبولیت کے معاملے میں خوف رکھتے ہیں۔
ان کا خوف انہیں نیکی سے دور نہیں کرتا، بلکہ مزید اخلاص، عاجزی اور عمل کی طرف لے جاتا ہے۔
تو پھر اس شخص کو اپنے انجام کے بارے میں کتنا سنجیدہ ہونا چاہیے جو فرائض میں کوتاہی کرتا ہے، گناہوں سے باز نہیں آتا اور پھر بھی اپنے مستقبل کے بارے میں اس قدر مطمئن رہتا ہے گویا اسے اپنی نجات کی ضمانت مل چکی ہو!
یاد رکھیے، صالحین کا خوف مایوسی نہیں تھا، بلکہ اپنی بندگی کے ناقص ہونے کا احساس تھا؛ اور ان کی امید غفلت نہیں تھی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت پر کامل اعتماد تھا۔
خوفِ خدا اور حسنِ ظن؛ ایک دوسرے کے مخالف نہیں
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کی رحمت پر پورا بھروسہ ہے تو پھر خوف کیسا؟ اور اگر دل میں خوف ہے تو پھر حسنِ ظن کیسا؟
یہ دونوں تصورات درست نہیں۔ ایمان کی خوب صورتی ہی اس میں ہے کہ دل میں خوف بھی ہو اور امید بھی۔
خوف انسان کو گناہوں سے روکتا ہے، امید اسے توبہ کی طرف بلاتی ہے۔ خوف اسے اپنی کوتاہیوں کا احساس دلاتا ہے، امید اسے اصلاح کے لیے حوصلہ دیتی ہے۔ خوف اسے غرور سے بچاتا ہے، امید اسے مایوسی سے محفوظ رکھتی ہے۔
مومن اپنے دل کے بارے میں بھی بے فکر نہیں ہوتا۔ اسے معلوم ہے کہ ہدایت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے اور استقامت اس سے بھی بڑی نعمت۔ اسی لیے وہ اپنے رب سے دعا کرتا ہے:
﴿رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ﴾ (آل عمران: 8)
ترجمہ: ’’اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر، اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، بے شک تو ہی بہت عطا فرمانے والا ہے۔‘‘
یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ ہدایت پا لینے کے بعد بھی بندے کو اپنے رب کی توفیق کا محتاج رہنا چاہیے۔ آج کی نیکی پر کل کی استقامت کی ضمانت نہیں دی جا سکتی، اس لیے بندے کو اپنے عمل پر ناز کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ سے ثابت قدمی مانگنی چاہیے۔
حسنِ ظن باللہ کے چند روشن اصول
اس پورے مضمون کا خلاصہ چند اصولوں میں سمجھ لیجیے:
اول: اللہ تعالیٰ سے حسنِ ظن رکھیے، مگر اپنے نفس کی اصلاح سے غافل نہ رہیے۔
دوم: اللہ کی رحمت پر بھروسہ کیجیے، مگر اس بھروسے کو نافرمانی کا جواز نہ بنائیے۔
سوم: اللہ کی مغفرت کی امید رکھیے، مگر گناہ کو معمول بنا کر توبہ کو مستقبل پر نہ ٹالیے۔
چہارم: اپنے نیک اعمال پر اترائیے نہیں، بلکہ اللہ سے ان کی قبولیت مانگیے۔
پنجم: مصیبت میں اللہ سے مایوس نہ ہوں، اور خوش حالی میں اس کی گرفت سے بے خوف نہ ہوں۔
ششم: اپنے دل کی استقامت کو اپنا کمال نہ سمجھیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی توفیق اور رحمت کا عطیہ جانیں۔
حسنِ ظن باللہ کی سب سے خوب صورت صورت یہ ہے کہ بندہ گناہ کر بیٹھے تو توبہ میں تاخیر نہ کرے؛ دعا کی قبولیت میں دیر ہو تو اپنے رب سے بدگمان نہ ہو؛ کسی نعمت سے محروم ہو تو اللہ کی حکمت پر اعتماد رکھے؛ اور جب تمام ظاہری سہارے کمزور پڑ جائیں تو اس کا دل اپنے رب سے وابستہ رہے۔
وہ کہے:
حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ
’’مجھے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔‘‘
یہ اعتماد بے عملی کا نام نہیں، بلکہ اسباب اختیار کرتے ہوئے نتیجہ اللہ کے سپرد کرنے کا نام ہے۔ یہ امید گناہوں پر جری ہونے کا نام نہیں، بلکہ لغزشوں کے بعد بھی اپنے رب کی طرف پلٹ آنے کا نام ہے۔
امید بھی، خوف بھی؛ یہی بندگی کا حسن ہے
قرآنِ کریم نے امید اور خوف، دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا:
﴿نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ﴾ (الحجر: 49-50)
ترجمہ: ’’میرے بندوں کو خبر دے دیجیے کہ بے شک میں ہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہوں، اور یہ کہ میرا عذاب ہی دردناک عذاب ہے۔‘‘
یہی وہ توازن ہے جو بندے کو بندگی کے راستے پر قائم رکھتا ہے۔ صرف خوف ہو اور امید نہ ہو تو انسان مایوسی میں ڈوب سکتا ہے؛ صرف امید ہو اور خوف نہ ہو تو غفلت اور بے باکی میں مبتلا ہو سکتا ہے۔
اس لیے اپنے دل کو ان دونوں نعمتوں سے آباد رکھیے۔ گناہ کی تاریکی کتنی ہی گہری کیوں نہ ہو، توبہ کی روشنی سے مایوس نہ ہوئیے؛ لیکن رحمت کی وسعت کا حوالہ دے کر گناہ کی تاریکی کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ بھی نہ بنائیے۔
اپنے گناہوں کو مایوسی کا سبب نہ بننے دیجیے، اور اللہ کی رحمت کو نافرمانی کی جرأت کا ذریعہ نہ بنائیے۔
اپنے نفس سے جہاد کرتے رہیے، اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے رہیے، توبہ کے دروازے پر دستک دیتے رہیے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید وابستہ رکھیے۔ زندگی کا آخری لمحہ آنے تک بندے کو اپنے رب کی رحمت کا امیدوار اور اپنے انجام کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے۔
اے اللہ! موت کے وقت ہمیں ثابت قدم رکھ، ہماری مغفرت فرما، ہماری آخرت کو سنوار دے اور ہمارا خاتمہ ایمان پر فرما۔
آمین یا رب العالمین، ثم آمین!
https://whatsapp.com/channel/0029Va4Ow8qInlqSJbGemE2H