جن کی دعاؤں کے سائے میں پلےہیں آج انہیں کو وقت نہیں دیتے!
محبوب الحسن محبوؔب مظفرنگری
دنیا میں والدین وہ عظیم نعمت ہیں جن کا نعم البدل ممکن نہیں۔ ماں اپنی نیندیں قربان کرکے اولاد کو سلاتی ہے، باپ اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر بچوں کے خواب پورے کرتا ہے۔ اولاد کی ایک مسکراہٹ ان کے چہروں پر خوشی بکھیر دیتی ہے اور اس کی ایک تکلیف ان کے دل کو بے چین کر دیتی ہے۔ مگر افسوس! وقت بدلنے کے ساتھ بعض اولاد کے رویے بھی بدل جاتے ہیں۔ جن والدین نے اپنی پوری زندگی بچوں کے نام کردی، بڑھاپے میں انہی کے لیے اولاد کے پاس وقت نہیں ہوتا۔
یہ کیسا دور آگیا ہے کہ اولاد کے پاس موبائل کے لیے گھنٹوں ہیں، دوستوں کے لیے فرصت ہے، دنیا بھر کی خبریں ہیں، مگر ماں باپ کی بات سننے کے لیے چند منٹ بھی نہیں!
اسلام نے والدین کے مقام کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا
’’ان دونوں سے اُف تک نہ کہو، نہ انہیں جھڑکو اور ان سے عزت کے ساتھ بات کرو۔‘‘ (سورۂ بنی اسرائیل: 23)
غور کیجیے! جس دین نے والدین کے سامنے ناگواری کا ایک لفظ کہنے سے منع کیا، اس کے ماننے والے اگر انہی والدین سے بدزبانی کریں، انہیں جھڑکیں یا ان کی موجودگی کو بوجھ سمجھیں تو یہ کس قدر افسوس ناک صورتِ حال ہے!
آج ہمارے معاشرے میں ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ بعض گھروں میں بوڑھے والدین جسمانی طور پر تو اولاد کے ساتھ رہتے ہیں، لیکن جذباتی طور پر تنہا ہو چکے ہیں۔ انہیں دوا مل جاتی ہے، کھانا مل جاتا ہے، رہنے کے لیے چھت بھی ہوتی ہے، مگر وہ محبت نہیں ملتی جس کے وہ سب سے زیادہ حق دار ہیں۔ ان کی باتیں غیر ضروری، ان کی نصیحتیں پرانی اور ان کی ضروریات پریشانی محسوس ہونے لگتی ہیں۔
یاد رکھیے! والدین کو صرف روٹی، کپڑا اور دوا نہیں چاہیے؛ انہیں عزت، توجہ، اپنائیت اور محبت بھی چاہیے۔ کبھی ان کے پاس بیٹھ کر ان کی باتیں سن لیجیے، کبھی ان کی پسند کا خیال رکھیے، کبھی ان کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کیجیے۔ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ان کے لیے دنیا کی بڑی نعمت بن سکتی ہیں۔
شادی کے بعد والدین اور اولاد کے تعلقات میں پیدا ہونے والی دوریاں بھی غور طلب ہیں۔ بعض لوگ شریکِ حیات کو خوش رکھنے کی کوشش میں والدین کے جذبات مجروح کر دیتے ہیں، جبکہ بعض گھروں میں والدین اور بہو یا داماد کے درمیان اختلافات اولاد کو مشکل صورتِ حال میں ڈال دیتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر رشتے کا حق ادا کیا جائے، انصاف سے کام لیا جائے اور کسی کی خوشی کے لیے دوسرے کی تذلیل نہ کی جائے۔
والدین کی خدمت کا مطلب صرف ان کے بڑھاپے کا سہارا بننا نہیں، بلکہ ان کی عزتِ نفس کی حفاظت کرنا بھی ہے۔
سب سے زیادہ دردناک لمحہ وہ ہوتا ہے جب والدین دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں اور اولاد کو احساس ہوتا ہے کہ وہ ان کے ساتھ مزید وقت گزار سکتی تھی، ان کی باتیں سن سکتی تھی، ان کے ہاتھ چوم سکتی تھی، ان سے معافی مانگ سکتی تھی، مگر اس نے یہ سب کل پر چھوڑ دیا۔ پھر ان کے کمرے کی خاموشی، خالی چارپائی اور یادوں کی کسک دل کو تڑپاتی ہے۔ اس وقت پچھتاوے کے آنسو تو ہوتے ہیں، لیکن والدین کی آواز سننے کا موقع باقی نہیں رہتا۔
والدین کی زندگی میں ان کی قدر کیجیے، کیونکہ ان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد ان کی تصویروں پر پھول چڑھانا، ان کی یاد میں تحریریں لکھنا اور آنسو بہانا، ان محبت بھرے لمحوں کا بدل نہیں بن سکتا جو آپ انہیں زندگی میں دے سکتے تھے۔
آج بھی وقت ہے۔ اگر والدین زندہ ہیں تو ان کے پاس بیٹھ جائیے، ان کی خیریت پوچھیے، ان کی ضروریات پوری کیجیے اور اگر کبھی ان کا دل دکھایا ہے تو معافی مانگ لیجیے۔ اپنی مصروفیات میں سے کچھ وقت ان کے لیے ضرور نکالیے۔
زندگی کی سب سے بڑی کامیابی صرف دولت، شہرت اور عہدہ حاصل کرنا نہیں، بلکہ اپنے والدین کے چہروں پر اطمینان دیکھنا بھی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کے لیے یہ دعا سکھائی ہے:
رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
’’اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما، جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔‘‘ (سورۂ بنی اسرائیل: 24)
آئیے! عہد کریں کہ والدین کی موجودگی کو معمولی نہیں سمجھیں گے، ان کی خاموشی کو بے نیازی نہیں سمجھیں گے اور ان کی خدمت کو بوجھ نہیں، سعادت سمجھیں گے۔ کیونکہ والدین کی دعاؤں سے زندگی میں جو سکون ملتا ہے، اسے دنیا کی کوئی دولت خرید نہیں سکتی۔