گھر کی چھوٹی بیٹی
🪶از:ح عائش✰
سب کو لگتا ہے کہ گھر کی چھوٹی بیٹی بہت لاڈلی ہوتی ہے، اس کے نخرے اٹھائے جاتے ہیں، اس کی ہر ضد پوری کی جاتی ہے۔ مگر کوئی نہیں جانتا کہ سب کی لاڈلی ہونے کے باوجود وہ اپنے دل میں کتنے دکھ چھپائے بیٹھی ہوتی ہے۔
وہ عمر میں سب سے چھوٹی ضرور ہوتی ہے، مگر زندگی کے تلخ سچ اسے وقت سے پہلے سمجھ آنے لگتے ہیں۔ بہنوں کو اپنے گھروں کا ہوتے دیکھتی ہے، بھائیوں کو اپنی دنیا میں مصروف ہوتے دیکھتی ہے، اور ماں باپ کے چہروں پر بڑھتی عمر کی لکیریں دیکھ کر دل ہی دل میں ڈر جاتی ہے۔ وہ مسکراتے ہوئے بھی سوچتی ہے کہ ایک دن یہ گھر بھی پہلے جیسا نہیں رہے گا، یہ رونقیں بھی بدل جائیں گی، اور شاید اسے بھی سب کچھ خاموشی سے قبول کرنا پڑے گا۔
گھر کی چھوٹی بیٹی نا… بہت کچھ محسوس کرتی ہے، مگر ہر بات کہہ نہیں پاتی۔
اپنوں کے بدلتے لہجے، لوگوں کے سخت رویے اور بےرخی اسے اندر تک توڑ دیتے ہیں۔ وہ کسی سے کچھ نہیں کہتی، بس خاموشی سے اپنا درد سہتی رہتی ہے۔ روز خود کو سنبھالتی ہے، مگر پھر کسی کی بات اسے بکھیر دیتی ہے۔ سب کے سامنے مسکراتی ہے، لیکن تنہائی میں اپنے آنسو نہیں روک پاتی۔
وہ سب کے سامنے خود کو مضبوط ظاہر کرتی ہے، مگر کوئی نہیں جانتا کہ اس کی خاموش مسکراہٹ کے پیچھے کتنی اداسیاں چھپی ہوتی ہیں۔
مگر افسوس! سب اسے چھوٹی سمجھ کر اس کے دکھوں کو معمولی جان لیتے ہیں۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ جو سب کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کرتی ہے، کبھی کبھی وہی اپنے کمرے کی تنہائی میں خاموشی سے آنسو بہا رہی ہوتی ہے۔
وہ روز ٹوٹتی ہے، پھر خود کو سمیٹتی ہے۔ کسی کے رویے سے بکھرتی ہے، پھر خود ہی اپنے دل کو سمجھاتی ہے۔ ہزار بار سوچتی ہے کہ اب کسی کی بات دل پر نہیں لے گی، مگر اگلے ہی لمحے کسی اپنے کا بدلا ہوا لہجہ اسے پھر اداس کر دیتا ہے۔
چھوٹی بیٹی ہونا صرف لاڈ اٹھوانے کا نام نہیں، کبھی کبھی یہ سب کے درمیان رہ کر بھی تنہا رہ جانے کا نام ہے۔
وہ اپنے حصے کی محبت مانگتے ہوئے بھی ڈرتی ہے، کہیں کوئی اسے ناشکرا نہ سمجھ لے۔ اپنے دکھ بتاتے ہوئے بھی سوچتی ہے، کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ تمہیں تو سب کچھ ملا ہے، پھر تمہیں کیا تکلیف ہے؟
اور یوں وہ ہنستے ہنستے اپنے آنسو چھپانا سیکھ جاتی ہے، خاموش رہ کر اپنا درد سہنا سیکھ جاتی ہے، اور سب کو خوش رکھتے رکھتے خود کو بھول جاتی ہے۔
سب کہتے ہیں کہ ہماری چھوٹی بیٹی تو بہت سمجھدار ہے، مگر کوئی یہ نہیں سوچتا کہ وہ اپنی عمر سے پہلے اتنی ذمہ دار کیسے بن گئی؟ شاید گھر کے حالات نے اسے وقت سے پہلے بڑا کر دیا، شاید اپنوں کی ضرورتوں نے اسے اپنی خواہشیں بھلانا سکھا دیا، اور شاید اس نے حالات کو دیکھتے ہوئے وہ سب سنبھالنا سیکھ لیا جو اس عمر میں اسے سیکھنا ہی نہیں چاہیے تھا۔
وہ ذمہ داریاں اٹھاتے اٹھاتے بڑی تو ہو گئی، مگر اس کی اپنی خواہشیں اور خوشیاں کہیں پیچھے رہ گئیں۔ وہ بس کبھی کبھی خاموشی سے سوچتی ہے کہ میں اتنی جلدی بڑی کیسے ہو گئی؟ ابھی تو مجھے بھی بےفکر ہو کر جینا تھا، اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشیں پوری کرنی تھیں، مگر گھر کے حالات نے مجھے وقت سے پہلے ہی ذمہ دار بنا دیا۔
اس لیے جب کبھی اپنی چھوٹی بیٹی کو ضرورت سے زیادہ سمجھدار دیکھو، تو صرف اس کی سمجھداری پر فخر نہ کرو، بلکہ یہ بھی سوچو کہ کن حالات نے اسے اتنی جلدی بڑا ہونے پر مجبور کر دیا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب بیٹیوں کے نصیب خوبصورت بنائیں، ہماری زندگیوں میں خوشیاں لکھیں اور ہمیں ایسے سہارے عطا فرمائیں جن کے ہوتے ہوئے ہمیں اپنے آنسو چھپانے اور اپنا درد اکیلے سہنے کی ضرورت نہ پڑے۔
آمین یا رب العالمین۔