*جیسے پہلے کے علماء تھے وہ اب کیوں نہیں؟*

یہ جملہ آج کل بڑی کثرت سے سننے کو ملتا ہے کہ پہلے جیسے علماء اب کہاں؟ پہلے جیسے محدثین کیوں نہیں پیدا ہوتے؟ پہلے جیسی فقاہت تقویٰ للہیت سادگی اور بے نفسی اب کیوں نظر نہیں آتی؟ آخر کیا وجہ ہے کہ ہمارے اسلاف کے علم و عمل کے چراغ آج بھی روشن ہیں مگر ہم ان کی روشنی سے ویسا فیض کیوں حاصل نہیں کر پا رہے؟
ذرا اس سوال کا جواب تلاش کرنے سے پہلے ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔ کیا پہلے کے علماء کسی دوسرے زمانے کے انسان تھے؟ کیا ان کے پاس کوئی ایسی غیر معمولی صلاحیت تھی جو آج کے انسانوں میں پیدا ہی نہیں ہو سکتی؟ یقیناً نہیں وہ بھی اسی مٹی سے بنے تھے جس سے ہم بنے ہیں ان کے پاس بھی چوبیس گھنٹے کا دن تھا اور ہمارے پاس بھی۔ فرق اگر تھا تو ترجیحات کا مقصد کا محنت کا اخلاص کا اور علم کے ساتھ ان کے تعلق کا۔پہلے کے علماء علم کو محض روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ زندگی کا مقصد سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک کتاب پڑھ لینا عالم بن جانا نہیں تھا بلکہ علم کو اپنے کردار میں اتارنا اپنی خواہشات کو شریعت کے تابع کرنا اور اپنی زندگی کو دین کی خدمت کے لیے وقف کر دینا اصل کامیابی تھی۔ وہ علم حاصل کرنے کے لیے برسوں مشقت برداشت کرتے اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرتے اسباق کی تکرار کرتے راتوں کو جاگتے اور اپنی زندگی کا بڑا حصہ مطالعے تحقیق عبادت اور اصلاحِ نفس میں گزار دیتے تھے۔ آج بھی ایسے علماء موجود ہیں لیکن ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری اجتماعی ترجیحات میں تبدیلی آئی ہے۔
پہلے کے علماء کی ایک بڑی خصوصیت یہ تھی کہ ان کے علم کے ساتھ عمل کی خوشبو بھی ہوتی تھی۔ ان کی زبان پر نصیحت ہوتی تو ان کے کردار میں اس کا نمونہ بھی دکھائی دیتا۔ وہ لوگوں کو دنیا سے بے رغبتی کا درس دیتے تو خود بھی سادگی اختیار کرتے۔ وہ تقویٰ کی بات کرتے تو تنہائی میں بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے۔ ان کی عظمت صرف اس بات میں نہیں تھی کہ وہ کتنی کتابیں پڑھ چکے تھے بلکہ اس میں بھی تھی کہ ان کتابوں نے ان کی زندگی کو کتنا بدل دیا تھا۔آج ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے اسلاف کی عظمت کے تذکرے تو بڑے شوق سے کرتے ہیں ان کے واقعات سن کر جذباتی بھی ہو جاتے ہیں لیکن جب ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی باری آتی ہے تو ہماری ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ ہمیں ان کی شہرت پسند ہے ان کا مقام پسند ہے ان کی مقبولیت پسند ہے لیکن کیا ہمیں ان کی راتوں کی بیداری ان کی علمی محنت ان کی سادگی ان کی قربانیاں اور ان کا مجاہدۂ نفس بھی پسند ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہم اکثر پھل کی خواہش رکھتے ہیں مگر اس درخت کی طرح محنت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے جس نے برسوں دھوپ اور آندھیوں کو برداشت کیا ہو۔
یہ کہنا بھی انصاف نہیں کہ آج علماء نہیں رہے یا موجودہ دور میں کوئی بڑا عالم پیدا نہیں ہو سکتا۔ ہر دور میں اللہ تعالیٰ اپنے دین کی خدمت کے لیے اہلِ علم پیدا فرماتا ہے۔ آج بھی ایسے علماء موجود ہیں جو اخلاص کے ساتھ دین کی خدمت کر رہے ہیں تحقیق و تدریس میں مشغول ہیں اپنی زندگیاں علمِ دین کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں اور خاموشی سے ایسے کام کر رہے ہیں جن کا چرچا شاید سوشل میڈیا پر نہیں ہوتا۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے عظمت کو شہرت کے پیمانے سے ناپنا شروع کر دیا ہے، حالاں کہ ہر مشہور شخص عظیم نہیں ہوتا اور ہر عظیم شخص ضروری نہیں کہ مشہور بھی ہو۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پہلے کے علماء کو ان کے زمانے کے مسائل کا سامنا تھا اور آج کے علماء کو اپنے زمانے کے پیچیدہ مسائل کا سامنا ہے۔ *آج فکری انتشار سوشل میڈیا کی مصروفیات، شہرت کی دوڑ معاشی دباؤ اور توجہ کی تقسیم جیسے چیلنجز موجود ہیں۔* ان حالات میں علمی یکسوئی برقرار رکھنا آسان نہیں لیکن یہ مشکلات علم و تحقیق سے غفلت کا جواز بھی نہیں بن سکتیں۔ آج کے علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اسلاف کی علمی روایت کو زندہ رکھیں اور جدید دور کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے دین کی خدمت کریں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ پہلے کے علماء اب کیوں نہیں ہیں؟ *اصل سوال یہ ہے کہ ہم پہلے جیسے طالبِ علم پہلے جیسے اساتذہ پہلے جیسی علمی محنت اور پہلے جیسا اخلاص پیدا کرنے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟* ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے درمیان امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ جیسی فکر، امام نووی رحمہ اللہ جیسا علمی انہماک، امام بخاری رحمہ اللہ جیسی حدیث سے محبت اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ جیسی فقاہت پیدا ہو لیکن کیا ہم ان بزرگوں کے علمی ذوق، محنت استقامت اور قربانیوں کو اپنانے کے لیے تیار ہیں؟
شخصیات صرف خواہشوں سے پیدا نہیں ہوتیں ان کے پیچھے برسوں کی محنت، مضبوط علمی ماحول مخلص اساتذہ باصلاحیت شاگرد مطالعے کی عادت اور مقصد سے سچی وابستگی ہوتی ہے۔ *اگر ہم اپنے مدارس میں علم و تحقیق کا ذوق پیدا کریں طلبہ میں سوال کرنے اور سمجھنے کی صلاحیت پروان چڑھائیں اساتذہ کا احترام کرتے ہوئے علمی اختلاف کا سلیقہ سکھائیں مطالعے کو زندگی کا حصہ بنائیں اور علم کے ساتھ کردار سازی پر بھی توجہ دیں تو ان شاء اللہ ہمارے درمیان بھی ایسے اہلِ علم پیدا ہو سکتے ہیں جن پر آنے والی نسلیں فخر کریں گی۔* اس لیے اسلاف کی عظمت کے قصیدے پڑھنے کے ساتھ ان کے راستے پر چلنا بھی سیکھئے۔ کیونکہ قوموں کی علمی عظمت صرف اپنے ماضی پر فخر کرنے سے واپس نہیں آتی، بلکہ ماضی کی روشنی میں اپنے حال کو سنوارنے اور مستقبل کی تعمیر کرنے سے واپس آتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اسلاف کی سچی محبت، ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق اور ایسا علم عطا فرمائے جو ہمارے کردار کو سنوارے، ہمارے دلوں میں خشیت پیدا کرے اور ہمیں دین و ملت کے لیے نفع بخش بنائے۔ آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ علیہ وسلم۔

               *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*