*داستاں کہتے کہتے لفظوں میں موتی پرونے والا قلم*
✍🏻*محمد عادل ارریاوی*
_____________________________
کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں کہ ایک بار پڑھنا شروع کریں تو پڑھتے ہی چلے جائیں دل نہیں چاہتا کہ کتاب ہاتھ سے رکھی جائے۔ چند دن پہلے 160 صفحات پر مشتمل کتاب (داستان کہتے کہتے) خریدی تھی۔ جب اسے پڑھنا شروع کیا تو پڑھتا ہی چلا گیا۔ سچ کہوں تو یہ مضامین کا ایک ایسا مجموعہ ہے جس میں بہت مفید اور سبق آموز مضامین شامل ہیں۔
زندگی میں کچھ ایسے صاحبِ قلم ہوتے ہیں جن کے قلم سے صرف الفاظ نہیں بلکہ موتی نکلتے ہیں۔ انہی میں سے ایک نوجوان صاحبِ قلم ملکِ پاکستان سے تعلق رکھنے والے حضرت مولانا ابن الحسن عباسی نور اللہ مرقدہٗ ہیں جو 2020ء میں صرف 48 سال کی عمر میں ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
ان کی تحریروں میں ایک الگ ہی چاشنی دل کشی اور علمی گہرائی پائی جاتی تھی۔ اب تک ان کی جتنی کتابیں پڑھنے کا موقع ملا ہر کتاب سے کچھ نہ کچھ سیکھنے کو ملا اور ہر تحریر نے اپنے انداز میں متاثر کیا۔ ان کی مشہور کتابوں میں متاعِ وقت اور کاروانِ علم، کرنیں، قلم نما، دینی مدارس ماضی حال مستقبل، اور کتابوں کی درس گاہ میں، وغیرہ شامل ہیں۔ ان کتابوں کے مطالعے سے ایک الگ ہی لطف حاصل ہوا اور علم و فکر کے نئے دریچے کھلے۔
واقعی بعض اہلِ قلم کی تحریریں ان کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد بھی زندہ رہتی ہیں۔ ان کے الفاظ دلوں کو روشنی بخشتے اور نسلوں کی رہنمائی کرتے رہتے ہیں۔ حضرت مولانا ابن الحسن عباسی رحمہ اللہ بھی انہی خوش نصیب اہلِ قلم میں سے ہیں جن کی علمی و ادبی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
افسوس ایسے صاحبِ قلم بہت جلد ہم سے رخصت ہوگئے لیکن ان کا علمی سرمایہ آج بھی ہمارے لیے قیمتی سوغات ہے۔
اللہ رب العزت ان کی کتابوں اور علمی و قلمی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے ان کی بال بال مغفرت فرمائے درجات بلند فرمائے اور ان کے علمی فیض کو تا دیر جاری و ساری رکھے۔
آمین یا رب العالمین۔
16 اکتوبر 2026ء بروز جمعہ