الحمد للہ رب العالمين والصلوة والسلام
 على سيد المرسلين وعلى آله وصحبه
أجمعين، اما بعد

بلاشبہ انسان کا اپنے وطن سے انسیت اور محبت رکھنا ایک طبعی فطری جذبہ ہے ۔جس سے کسی بھی ذی شعور انسان کو انکار نہیں ہو سکتا۔ جس طرح انسان کو اپنے اہل و عیال، اپنے خاندان اور اپنی مادری زبان سے قلبی تعلق ہوتا ہے، اسی طرح جس خطۂ زمین پر انسان پرورش پاتا ہے، اس کی آب و ہوا میں سانس لیتا ہے، اس سے ایک طبعی لگاؤ ہو جانا عین فطرت کے مطابق ہے۔ لیکن جب اس جذبے کو شرعی تناظر میں دیکھا جاتا ہے، تو یہ جاننا انتہائ ضروری ہے کہ اسلام میں ہر جذبے کی ایک حد مقرر ہے۔
 موجودہ دور میں بعض لوگ جذبات کی رو میں بہہ کر حبِ وطن کو اس حد تک بڑھا دیتے ہیں کہ اسے ایمان کا جزو یا دین کا بنیادی رکن سمجھنے لگتے ہیں، حالانکہ محقق علماء اور اکابر امت کی صریح تصریحات کی روشنی میں حبِ وطن "ایمان کا جزو" نہیں ہے، بلکہ یہ ایک دنیوی اور طبعی وصف ہے، جس کی شرعی حدود اور ضابطے ہیں۔

حبِ وطن ایمان کا جزو کیوں نہیں ہے؟
اسلام میں کسی بھی چیز کو ایمان یا دین کا حصہ قرار دینے کے لیے قطعی اور صریح نصوص (قرآن و سنت) کا ہونا لازمی شرط ہے۔ ایمان کا مدار خالصتاً توحید، رسالت اور اسلامی عقائد پر ہے مثلاً اللہ کی ذات پر ایمان، اس کے فرشتوں، کتابوں، رسولوں اور یومِ آخرت پر یقین رکھنا۔ وطن سے محبت چونکہ ایک انسان کا طبعی اور جغرافیائی تعلق ہے، اس لیے اسے دین یا ایمان کا جزو قرار دینا شرعی اعتبار سے درست نہیں ہے۔ مشہور حدیث میں آتا ہے کہ "حب الوطن من الايمان" (وطن کی محبت ایمان سے ہے) کے الفاظ کے متعلق محدثینِ عظام (جیسے علامہ عجلونی اور ملا علی قاری رحمہم اللہ) نے اپنی کتبِ احادیث میں صراحت کی ہے کہ یہ الفاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ثابت شدہ "حدیث نہیں ہیں" بلکہ یہ لوگوں کا ایک محاورہ یا قول ہے، اس لیے اسے دین کا بنیادی عقیدہ بنا لینا یا ایمان کا حصہ سمجھنا سخت غلط فہمی ہے۔
اسلامی عقیدہ اور حبِ وطن کی شرعی حدود
ایک مسلمان کی زندگی میں سب سے مقدم چیز اس کا ایمان، عقیدہ اور دین ہوتا ہے۔ اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ وطن سے محبت اور اس کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنا ایک اخلاقی اور انسانی فریضہ ضرور ہے، لیکن اس محبت کو اپنے ایمان اور اسلامی اصولوں پر فوقیت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔ تاریخِ اسلام شاہد ہے کہ جب وطن کی محبت اور دینی اقدار کے درمیان ٹکراؤ آیا، تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سلفِ صالحین نے اپنے وطن مکہ مکرمہ کو چھوڑنا گوارا کر لیا، لیکن اپنے ایمان اور دین پر ذرا برابر بھی آنچ نہیں آنے دی۔ مکہ مکرمہ جو ان کا محبوب وطن تھا، جہاں ان کے گھر بار اور رشتہ دار تھے، جب وہاں دین پر عمل کرنا مشکل ہو گیا، تو انہوں نے ہجرت کو ترجیح دی۔ اس سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اسلام میں دین کی حیثیت أولیت رکھتی ہے اور حبِ وطن اس کے تابع ہے، نہ کہ اس کا 
متبادل یا جزوِ ایمان ۔
                        ۔حدودِ اعتدال۔
موجودہ پرآشوب دور میں یہ بہت ضروری ہے
کہ ہم اعتدال کی راہ کو اختیار کریں۔ حبِ وطن کے نام پر اندھی عقیدت یا اتنی شدید محبت جس میں انسان اپنے دینی احکام، اسلامی اقدار اور شریعت کی حدود کو فراموش کر بیٹھے، اسلام میں قطعاً ناپسندیدہ ہے۔ ہمیں بحیثیتِ مسلمان اپنے ملک سے محبت کرنی چاہیے، اس کے امن، قانون اور ترقی کے لیے ایک ذمہ دار شہری (Responsible citizen) کی حیثیت سے بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے، لیکن ہمارے دل میں سب سے بلند مقام اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا ہونا چاہیے۔ جب دین اور وطن کے مفادات میں سے کسی ایک کو چننے کا مرحلہ آئے، تو ایک مومن کا ایمان ہمیشہ دین کو مقدم رکھتا ہے۔
 (مقالات حکیم الامت)

حاصلِ کلام یہ ہے کہ حبِ وطن ایک پاکیزہ طبعی جذبہ ہے، جس کی اسلام میں گنجائش بھی ہے اور تحسین بھی، بشرطیکہ یہ شرعی حدود کے اندر رہے۔ اسے ایمان کا جزو سمجھنا یا اس کی خاطر اپنے دینی اصولوں کو پسِ پشت ڈالنا شرعی اعتبار سے غلط منہج ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اعتدال کا دامن تھامیں، اپنے وطن سے سچی وفاداری اور محبت کا ثبوت بھی دیں، لیکن اپنے دل میں ایمان، توحید اور محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے بلند اور مقدم رکھیں، تاکہ دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی ہمارے مقسوم بن سکے۔

اشرف جہانگیر( بنگلور )🖋️
         دورۂ حدیث