انا کے ایک قطرے میں سمندر ڈوب جاتا ہے
-------------------
انسان کی زندگی میں بعض اوقات ایک چھوٹی سی کمزوری اس کی برسوں کی محنت، عزت، محبت اور تعلقات کو تباہ کر دیتی ہے۔ یہ کمزوری کبھی غصے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے، کبھی حسد کی شکل اختیار کرتی ہے، اور کبھی انسان کے دل میں انا اور غرور بن کر بیٹھ جاتی ہے۔ انا بظاہر ایک چھوٹا سا جذبہ محسوس ہوتی ہے، لیکن جب یہ انسان کے دل و دماغ پر حاوی ہو جاتی ہے تو بڑے بڑے رشتے، مضبوط تعلقات اور کامیابیوں کے بلند محل بھی اس کی زد میں آ کر بکھر جاتے ہیں۔ اسی حقیقت کو ایک خوب صورت مصرعے میں یوں بیان کیا گیا ہے:تکبر کا سفینہ اے ستم گر ڈوب جاتا ہے
انا کے ایک قطرے میں سمندر ڈوب جاتا ہے
یہ مصرعہ اپنے اندر زندگی کا ایک گہرا سبق رکھتا ہے۔ سمندر وسعت، گہرائی اور عظمت کی علامت ہے، جبکہ قطرہ بظاہر بہت معمولی ہوتا ہے؛ لیکن جب یہی قطرہ انا کی علامت بن جائے تو انسان کی پوری شخصیت کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کبھی انسان کی ایک ضد، اپنی غلطی تسلیم نہ کرنے کی عادت، معافی مانگنے سے انکار اور دوسروں کو کمتر سمجھنے کا رویہ اس کی تمام خوبیوں پر پردہ ڈال دیتا ہے۔
انا اور خود اعتمادی میں فرق ہے۔ خود اعتمادی انسان کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے، جبکہ انا اسے دوسروں سے دور کر دیتی ہے۔ خود اعتمادی انسان کو اپنی صلاحیتوں پر بھروسا کرنا سکھاتی ہے، لیکن انا اسے یہ یقین دلا دیتی ہے کہ صرف وہی درست ہے اور باقی سب غلط ہیں۔ خود اعتمادی کے ساتھ انسان اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے، جبکہ انا کا شکار انسان اپنی غلطی کے باوجود دوسروں کو قصوروار ٹھہراتا رہتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں اس کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔ دو بھائی برسوں ایک ساتھ رہتے ہیں، ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں، لیکن کسی معمولی اختلاف کے بعد دونوں میں سے کوئی ایک اپنی انا کی وجہ سے پہل کر کے بات کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ دن گزرتے ہیں، مہینے گزر جاتے ہیں، پھر سال بیت جاتے ہیں، مگر دونوں کے درمیان خاموشی کی دیوار کھڑی رہتی ہے۔ حالاں کہ اس دیوار کو گرانے کے لیے صرف ایک جملہ کافی ہوتا ہے: ’’بھائی! اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو مجھے معاف کر دو۔‘‘ لیکن افسوس! کبھی کبھی ایک چھوٹا سا لفظ انا کی وجہ سے زبان پر نہیں آتا، اور ایک خوب صورت رشتہ ہمیشہ کے لیے دور ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انا کے ایک قطرے میں محبت کا سمندر ڈوب جاتا ہے۔
یہی صورت حال دوستیوں، ازدواجی زندگی، تعلیمی اداروں اور معاشرتی تعلقات میں بھی نظر آتی ہے۔ کبھی ایک دوست دوسرے دوست کی بات سے ناراض ہو جاتا ہے، کبھی شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے سامنے جھکنے کو اپنی توہین سمجھنے لگتے ہیں، کبھی استاد کسی شاگرد کی درست بات قبول کرنے میں ہچکچاتا ہے، اور کبھی ایک شخص اپنے عہدے یا دولت کی وجہ سے دوسروں کو حقیر سمجھنے لگتا ہے۔ ان تمام صورتوں میں مسئلہ صرف اختلاف نہیں ہوتا، بلکہ اکثر اختلاف کو ختم نہ کرنے والی انا اصل مسئلہ بن جاتی ہے۔
اسلام نے انسان کو عزتِ نفس کے ساتھ عاجزی، انکساری اور حسنِ اخلاق اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے۔ قرآنِ کریم میں حضرت لقمان علیہ الرحمہ کی اپنے بیٹے کو نصیحت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:’’اور لوگوں سے تکبر کے ساتھ اپنا رخ نہ پھیر، اور زمین پر اکڑ کر نہ چل۔ بے شک اللہ کسی اترانے والے، فخر کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا۔‘‘ (سورۂ لقمان: ۱۸) یہ آیتِ کریمہ ہمیں سکھاتی ہے کہ انسان کو اپنی بڑائی کے زعم میں دوسروں سے منہ نہیں موڑنا چاہیے اور نہ ہی اپنی حیثیت، مال، علم یا مرتبے پر غرور کرنا چاہیے۔ حقیقی عظمت اس میں نہیں کہ انسان دوسروں کو اپنے سامنے جھکائے، بلکہ حقیقی عظمت اس میں ہے کہ وہ دوسروں کی عزت کرے اور اپنے رویے میں نرمی پیدا کرے۔
رسول اللہ ﷺ نے تکبر کی حقیقت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’تکبر یہ ہے کہ انسان حق کو ٹھکرا دے اور لوگوں کو حقیر سمجھے۔‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الإيمان، حدیث: ۹۱) اس حدیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ تکبر صرف لباس، چال ڈھال یا ظاہری انداز میں نہیں ہوتا، بلکہ اپنی غلطی کے باوجود حق قبول نہ کرنا اور دوسروں کو کمتر سمجھنا بھی تکبر کی علامت ہے۔ جب انسان اپنی انا کی وجہ سے صحیح بات ماننے سے انکار کر دیتا ہے تو وہ اپنی اصلاح کا دروازہ خود بند کر لیتا ہے۔
ہمیں رسول اللہ ﷺ کی مبارک زندگی سے بھی عاجزی، نرمی اور حسنِ سلوک کا سبق ملتا ہے۔ آپ ﷺ بلند ترین مقام و مرتبے کے باوجود لوگوں کے ساتھ شفقت فرماتے، کمزوروں کا خیال رکھتے اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آتے تھے۔ اگر عظمت کے بلند ترین مقام پر فائز ہستی کی زندگی عاجزی کا نمونہ ہے تو پھر ہمیں اپنی معمولی کامیابیوں، تھوڑے سے علم اور عارضی عہدوں پر غرور کرنے کا کیا حق ہے؟
آج ہماری عملی زندگی میں سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی انا پر قابو پانا سیکھیں۔ اگر ہم سے غلطی ہو جائے تو اسے تسلیم کریں، کسی کا دل دکھا بیٹھیں تو معافی مانگیں، کسی کی بات درست ہو تو اسے قبول کریں اور اختلاف کی صورت میں اپنی زبان کو سختی سے بچائیں۔ یاد رکھیے! معافی مانگنے سے انسان چھوٹا نہیں ہوتا، بلکہ اس کے کردار کی بلندی ظاہر ہوتی ہے۔ دوسروں کی بات سن لینا کمزوری نہیں، بلکہ سمجھ داری کی علامت ہے۔ اپنی غلطی تسلیم کرنا شکست نہیں، بلکہ کامیابی کی طرف پہلا قدم ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ ہر جگہ خاموش رہنا عاجزی نہیں اور ہر بات مان لینا اچھا اخلاق نہیں۔ حق پر قائم رہنا ضروری ہے، لیکن حق پر قائم رہنے کے لیے غرور، بدزبانی اور دوسروں کی توہین ضروری نہیں۔ انسان اپنے اصولوں کی حفاظت کرتے ہوئے بھی نرم مزاج، باوقار اور منصف مزاج رہ سکتا ہے۔ اصل کامیابی یہی ہے کہ ہماری خودداری برقرار رہے، لیکن ہماری انا دوسروں کے لیے تکلیف کا سبب نہ بنے۔
آخر میں، ہمیں اپنے دل سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ کہیں ہماری انا ہماری محبتوں کو تو نہیں نگل رہی؟ کہیں ہماری ضد ہمارے رشتوں کو تو نہیں توڑ رہی؟ کہیں ہمارا غرور ہماری خوبیوں کو تو نہیں چھپا رہا؟ اگر ایسا ہے تو ہمیں آج ہی اپنی اصلاح کا آغاز کرنا چاہیے، کیونکہ زندگی بہت مختصر ہے اور محبتیں بہت قیمتی ہیں۔ کسی معمولی اختلاف کو اتنا بڑا نہ بنائیں کہ برسوں کی محبت ایک لمحے کی ضد کی نذر ہو جائے۔ کسی چھوٹی سی غلطی کو اتنا نہ بڑھائیں کہ ایک خوب صورت رشتہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔
یاد رکھیے! سمندر اپنی گہرائی کی وجہ سے عظیم ہوتا ہے، شور مچانے کی وجہ سے نہیں؛ درخت اپنے پھلوں کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے، اپنی اونچائی پر اترانے کی وجہ سے نہیں؛ اور انسان اپنے اخلاق کی وجہ سے دلوں میں جگہ بناتا ہے، اپنی انا کی وجہ سے نہیں۔ لہٰذا اپنی عزتِ نفس کو قائم رکھیے، مگر انا کو اپنے دل پر حاوی نہ ہونے دیجیے؛ اختلاف کیجیے، مگر نفرت نہ پھیلائیے؛ اپنی بات کہیے، مگر دوسروں کی عزت کا خیال رکھیے۔ کیونکہ کبھی کبھی انا کا ایک قطرہ محبت، اعتماد اور تعلقات کے پورے سمندر کو ڈبو دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں غرور و تکبر سے محفوظ فرمائے، ہمارے دلوں کو کینہ اور ضد سے پاک کرے، ہمیں اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے، دوسروں کو معاف کرنے اور محبت و احترام کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
------------------
✍️محرر: محمد فداء المصطفیٰ قادری
پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرلا انڈیا