اسلامی عقیدے کی سب سے مضبوط اور بنیادی عمارت *عقیدۂ توحید* پر قائم ہے اسلام انسانی زندگی کے تمام شعبوں ( اخلاقیات معاشرت اور ادب) کو توحید کے تابع رکھتا ہے شاعری اور ادب کو انسان کے جذباتی اظہار کا ذریعہ مانا گیا ہے
لیکن جب بات عقائد اور عبادت کے مفہوم کی آئے تو شریعت نے سخت حدود متعین کئے ہیں

زیرِ بحث شعر
 *اے میرے پیرو مرشد جلوہ دکھا دے اپنا*
*میں بت بنا کے تیری پوجا کروں گا ورنہ*
(رہنما گیاوی) 


اسلام میں بندگی. عبادت. سجدہ صرف اور صرف اللہ رب العزت کا حق ہے قرآن کریم میں صراحت سے بیان کیا گیا ہے اللہ کے سوا کسی کی عبادت یا پوجا کرنا شرکِ اکبر کے زمرے میں آتا ہے

*اللہ کا فرمان ہے*

*وَإِلٰهُكُمْ إِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۖ لَّا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيمُ*
ترجمہ اور تمہارا ایک ہی معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے 
*سورۃ البقرہ، آیت 1٦٣*

کسی انسان کے سامنے پوجا کا اقرار کرنا یا بت تراشنے کی بات کرنا خواہ وہ انسان کتنا ہی بڑا بزرگ ہو 
توحید الوہیت پر حملہ ہے 

*تصوف اور ادب میں پیر کی تعظیم* 

اسلام میں تصوف کا مقصد تزکیہ نفس اور شریعت پر استقامت اور اتباعِ رسول ہے 
پیر یا مرشد کا مقام استاد اور رہبر کا ہوتا ہے معبود کا نہیں 

اسلام نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ بابرکت کے بارے میں غلو سے منع فرمایا ہے تو پھر کسی پیر یا بزرگ کے معاملہ میں حد سے تجاوز کیسے جائز ہوسکتا ہے 

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے 
مجھے اس طرح حد سے نہ بڑھاؤ جس طرح عیسائیوں نے ابن مریم کو بڑھایا میں تو بس اللہ کا بندہ ہوں 
 لہذا مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہی کہو 
*صحیح البخاری*

شاعری میں محبتِ مرشد کا اظہار جائز ہے لیکن جب یہ اظہار پوجا اور بت تراشی کے الفاظ تک پہنچ جائے تو یہ تصوف کے روح اور شریعتِ مطہرہ دونوں کے خلاف ہے

*اس شعر میں دو شرعی خرابیاں پائی جاتی ہیں*

*پوجا اور بت تراشی کا اقرار* بت بناکر پوجا کرنے کا ذکر کرنا کفر و شرک کے شعائر اور بت پرستی کے ظاہری اعتبار سے جائز یا ممکنہ راستہ دکھاتا ہے جو کہ اسلام کے بنیادی پیغام *لَااِلہَ الااللہ کے خلاف ہے

*اظہارِ عقیدت میں نامناسب اسلوب* شعر کے دوسرے مصرعے میں پیر سے جلوہ مانگنے کے لئے ایک شرط رکھی گئی ہے :ورنہ میں بت بنا کے تیری پوجا کروں گا : شریعت میں معصیت یا کفر کی دھمکی دینا بھی سنگین جرم ہے

*علامہ ابن تیمیہ* فرماتے ہیں عبادت ہر اس ظاہری و باطنی قول اور عمل کا جامع نام ہے جسے اللہ پسند فرمائے پس جس نے کسی مخلوق کی عبادت کی یا اس کی ایسی تعظیم کی جو صرف اللہ کے لیے سزا وار ہے، اس نے شرک کیا
*کتاب العبودیۃ*

*اہم وضاحت*
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس شعر کو شرکیہ قرار دینے سے مقصود شاعر کی ذات پر کفر کا فتویٰ لگانا ہرگز نہیں ہے بلکہ الفاظ کی شرعی خامی کی نشاندہی ہے کلام کے مصرعۂ ثانی اپنے ظاہری تعبیرات کے اعتبار سے توحید کے منافی ہے تاہم کلام کی شرعی تعبیر اور قائل کے شخصی عقیدے پر حکم لگانا دو الگ امور ہیں  

*حاصلِ کلام* شاعرانہ تخیل یا مبالغہ آرائی کے نام پر عقائد و توحید کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں مذکورہ شعر اسلامی نقطۂ نظر سے مکمل طور پر باطل اور شرکیہ مفہوم پر مبنی ہے

ایک مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے عقیدے کو خالص رکھے اور ایسے تمام الفاظ اور اشعار سے اجتناب کرے جو اللہ کی الوہیت میں کسی کو شریک ٹھہراتے ہوں

✍️ ایم ایس انجم دربھنگوی