محبوب الحسن محبوؔب مظفرنگری
ایک طرف کھلی مسلم دشمنی، دوسری طرف سیکولرزم کے لبادے میں چھپی سیاسی منافقت! ایک طرف نفرت کے کھلے نعرے، دوسری طرف محبت اور بھائی چارے کے دعوے، مگر جب مسلمانوں کے حقوق پر ضرب پڑتی ہے تو اکثر زبانیں خاموش اور ضمیر مصلحتوں کا اسیر نظر آتا ہے۔ ایسے میں ایک عام مسلمان آخر کس سے امید رکھے اور کس پر بھروسا کرے؟
مسلمانوں کو کبھی ووٹ بینک سمجھا جاتا ہے، کبھی سیاسی مفاد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور کبھی ان کی مذہبی شناخت کو نفرت کی سیاست کا ہتھیار بنایا جاتا ہے۔ افسوس کہ جو جماعتیں خود کو سیکولرزم اور آئین کی محافظ کہتی ہیں، وہ بھی کئی مواقع پر مسلمانوں کے مسائل پر دوٹوک موقف اختیار کرنے سے گریز کرتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر انصاف کے وقت بھی مصلحت غالب رہے، تو سیکولرزم کے دعووں کا آخر کیا مطلب رہ جاتا ہے؟
لیکن اب وقت صرف شکوہ کرنے کا نہیں، خود احتسابی کا بھی ہے۔ مسلمانوں کو جذباتی نعروں اور سیاسی وعدوں سے آگے بڑھ کر تعلیم، اتحاد، معاشی خود کفالت اور آئینی شعور پر توجہ دینی ہوگی۔ اپنی قیادت کا انتخاب بھی نعروں پر نہیں، کردار اور کارکردگی کی بنیاد پر کرنا ہوگا۔
یاد رکھیے! نہ ہر مخالف مستقل دشمن ہے، نہ ہر ہمدرد حقیقی خیرخواہ۔ اصل پہچان مشکل وقت میں ہوتی ہے، جب سیاسی مفادات اور اصول آمنے سامنے کھڑے ہوں۔
بیچارہ مسلمان جائے تو جائے کہاں؟
جواب واضح ہے: کسی کی اندھی مخالفت میں نہیں، کسی کی اندھی حمایت میں نہیں؛ بلکہ اپنے آئینی حقوق، قومی خودداری، تعلیم اور اتحاد کے راستے پر!
کیونکہ مسلمان کو خیرات نہیں، انصاف چاہیے؛ کھوکھلے وعدے نہیں، برابری چاہیے؛ اور سیاسی ہمدردی نہیں، آئین کے مطابق اپنے حقوق کا تحفظ چاہیے۔
یاد رکھیے! جمہوریت نعروں سے نہیں، انصاف سے زندہ رہتی ہے؛ اور سیکولرزم تقریروں سے نہیں، مظلوم کے حق میں کھڑے ہونے سے ثابت ہوتا ہے۔