انسان کے اندر بلند و ترقی کے راستے پر چلنے کی سب سے بڑی وجہ مستقل محنت ہے، جس کو بزرگانِ دین نے مختلف مثالوں کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ استقامت اور محنت ہی ہمیں ایک طویل سفر کرنے میں آسانیاں پیدا کرتی ہیں اور پھر بڑے عظیم نتائج سامنے آتے ہیں۔

آج کچھ لوگوں کے لیے نہیں، بلکہ ہر انسان کے لیے ہی مسئلہ ہے کہ وقت کی کمی ہے۔ واقعی، وقت کی قلت بہت ہے، لیکن کامیابی کے راستے پر چلنے کے لیے صرف وقت ہی نہیں بلکہ مستقل محنت اور حوصلے کی بھی ضرورت ہے۔ اگر کوئی شخص روزانہ صرف ایک آیت کی تفسیر، ایک حدیث مبارکہ اور اس کی شرح، اور ایک فقہی مسئلہ سیکھ لے تو ایک سال کے اندر اس کے پاس 360 آیات کی تفسیر، 360 احادیث کی شرح اور 360 فقہی مسائل جمع ہو جائیں گے۔

جب ایک سال میں اتنی علمی باتیں جمع ہو رہی ہوں، تو صرف سوچیں کہ پانچ یا دس سال کے اندر انسان کس قدر علمی خزانے سے مالا مال ہو جائے گا۔ اس لیے مستقل محنت کے ساتھ کام کریں اور یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اگر ہم عمل کے میدان میں کامیابی کی راہ پر گامزن ہونا چاہتے ہیں، تو اپنے حوصلوں کو بلند رکھنا ہوگا۔

کیوں کہ اگر کوئی شخص کاہلی اور سستی اختیار کرتا ہے، تو اس کا نتیجہ جہالت کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس لیے آج سے ہی شروع کر دیں۔ بڑی کامیابیاں حاصل کرنے کے لیے بڑے مواقع کا انتظار کرنا دانش مندی نہیں، بلکہ چھوٹے چھوٹے قدموں کو مسلسل اٹھا کر روزانہ علم حاصل کرنے کی عادت بنانا دانش مندی ہے۔

ایک دن یہ مسلسل اقدامات انسان کو ایک بڑے عالم یا کسی میدان میں ماہر مقام تک لے جا سکتے ہیں۔

اس لیے اٹھیں اور آج سے ایک سفر کا آغاز کریں! اور اس پر مستقل مزاجی کے ساتھ گامزن رہیں سب پہلے سلسلہ قرآن سے شروع کریں۔

اللہ رب العزت ہم سب کو اس دوام عطا فرمائے اور مستقل مزاجی کہ توفیق عطا فرمائے

آمین یا رب العالمین


9/فروری2025

8 شعبان المعظم 1446