الحمدللہ!
زندگی کی ابتدا سے آج تک میں جس سفرِ علم سے گزرا ہوں، اس کے ہر موڑ پر میرے سامنے ایک چراغ روشن رہا، اور وہ چراغ میرے اساتذہ کی صورت میں ہے۔ یہ وہ نفوسِ قدسیہ ہیں جن کی پیشانیوں پر اخلاص کی روشنی جھلکتی ہے، جن کی زبانوں سے نکلنے والا ہر لفظ محبت اور خیرخواہی کی خوشبو لیے ہوتا ہے، اور جن کے دل اپنی شفقت سے میرے جیسے بے بس طالب علموں کے لیے دھڑکتے ہیں۔
میرے یہ اساتذہ محض درس دینے والے نہیں بلکہ روحانی رہنما ہیں۔ ان کے دلوں میں دنیاوی غرض یا نام و نمود کا شائبہ تک نہیں، بلکہ ان کی ہر بات میں اخلاص، ہر نصیحت میں محبت اور ہر رہنمائی میں شفقت جھلکتی ہے۔ انہوں نے اپنے عمل سے یہ سکھایا کہ علم صرف کتابوں کے اوراق میں نہیں بلکہ کردار کی روشنی میں چھپا ہوا ہے۔
میں اپنے ان تمام اساتذہ کے لیے دل کی گہرائیوں سے دعا گو ہوں:
اے اللہ! جیسے انہوں نے مجھے علم کے سمندر سے قطرہ قطرہ سیراب کیا، ویسے ہی انہیں اپنی رحمت کے سمندر سے سیراب فرما۔ ان کی عمروں میں برکت دے، ان کے علم میں اضافہ فرما، ان کی نسلوں کو بھی علم و عمل کا چراغ عطا فرما، اور روزِ قیامت ان کے مراتب کو بلند سے بلند تر فرما۔
میرے یہ اساتذہ ہی اصل سرمائے ہیں
جن کی روحانیت نے میری فکر کو جلا دی،
جن کے اخلاص نے میرے دل کو مطمئن کر دیا،
جن کی محبت نے مجھے سہارا دیا،
اور جن کی شفقت نے میری راہوں کو آسان کر دیا۔
اے میرے پروردگار!
انہیں دین و دنیا کی سربلندی نصیب فرما،
اور ہمیں ہمیشہ ان کے فیوض و برکات سے مستفیض ہونے والا بنا۔ آمین یا رب العالمین۔