ایک شام گنگا جمنی تہذیب کے نام!

سیمانچل کے نام ایک دردمندانہ پیغام: ادب کی آڑ میں بے پردگی اور بے راہ روی کی ترویج کیوں؟

تحریر: محمد معصوم ارریاوی

دو ایک روز قبل کی بات ہے کہ حسبِ معمول موبائل نکالا، ایک ضروری کام سے فارغ ہوا تو فرصت کے چند لمحات میں فیس بک کی طرف نظر چلی گئی۔ اسی دوران ایک بینر پر نگاہ پڑی، جس پر لکھا تھا: ’’ایک شام گنگا جمنی تہذیب کے نام‘‘۔ مزید تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ہمارے گاؤں کے بالکل قریب ککوڑا باغنگر میں 17 /اکتوبر کو ایک آل انڈیا مشاعرہ منعقد ہونے جا رہا ہے۔
ابتدا میں خیال ہوا کہ شاید یہ محض ایک ادبی پروگرام ہو، جس میں شعر و ادب کے ذریعے لوگوں کو اچھی باتیں سننے اور سمجھنے کا موقع ملے گا؛ لیکن جب اس پروگرام کی نوعیت اور اس میں شرکت کرنے والے افراد کے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو دل میں کئی سوالات پیدا ہوئے۔ اگر اس محفل میں بے پردگی، غیر شرعی اختلاط اور عشقِ مجازی پر مبنی ایسے اشعار کو فروغ دیا جائے گا جو نوجوان نسل کے جذبات کو غلط سمت میں لے جائیں، تو کیا ہمیں خاموش تماشائی بنے رہنا چاہیے؟
یہ تحریر کسی فرد، ادارے یا منتظم کی مخالفت میں نہیں، نہ کسی کی نیت پر حکم لگانا مقصود ہے؛ بلکہ یہ اپنے علاقے، اپنی تہذیب، اپنی نوجوان نسل اور اپنی دینی و اخلاقی اقدار کے تعلق سے ایک ادنیٰ طالب علم کی دردمندانہ گزارش ہے۔
ہمارا علاقہ، ہماری شناخت اور ہماری ذمہ داری
ضلع ارریہ، جو سیمانچل کے اہم اضلاع میں سے ایک ہے، اپنی مخصوص تہذیب، دینی وابستگی، سادگی اور محنت کش عوام کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہاں کے لوگوں میں صلاحیتوں کی کمی نہیں، یہاں کے نوجوانوں میں آگے بڑھنے کا جذبہ بھی ہے، اور یہاں کے علماء، ائمہ، اساتذہ اور اہلِ خیر کے اندر ملت کی خدمت کا درد بھی موجود ہے۔
لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہمارے علاقے کو تعلیمی پسماندگی، معاشی مشکلات، بے روزگاری، نشہ آور اشیاء کے استعمال، نوجوانوں میں موبائل کے نامناسب استعمال اور مختلف سماجی و اخلاقی مسائل کا سامنا ہے۔ ان حالات میں ہماری ترجیحات کیا ہونی چاہئیں؟ کیا ہمیں اپنی اجتماعی صلاحیتوں کو ایسے کاموں میں صرف کرنا چاہیے جو واقعی ہمارے معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنیں، یا ہمیں ایسی سرگرمیوں کو فروغ دینا چاہیے جن کے فوائد کے مقابلے میں اخلاقی نقصانات کا اندیشہ زیادہ ہو؟
یہ سوال صرف منتظمین سے نہیں، ہم سب سے ہے۔
کسی علاقے کی ترقی محض بڑے بڑے پروگرام منعقد کرنے، مشہور شخصیات کو بلانے اور مجمع جمع کرنے کا نام نہیں؛ حقیقی ترقی یہ ہے کہ وہاں علم بڑھے، کردار سنورے، نوجوانوں کو صحیح سمت ملے، بچیوں اور بچوں کی تعلیم بہتر ہو، غریبوں کی مدد ہو، مساجد و مکاتب آباد ہوں اور معاشرے میں حیا، شرافت اور ذمہ داری کا ماحول پیدا ہو۔
کیا اسلام میں شاعری اور مشاعرے کی ممانعت ہے؟
یہاں ایک بات واضح کرنا ضروری ہے کہ اسلام شاعری کا مخالف نہیں ہے، نہ ہر مشاعرہ شرعاً ناجائز ہے۔ شاعری ایک فن ہے، اور اس فن کے ذریعے انسان حق بات، حکمت، نصیحت، اخلاق، وطن و ملت کی خدمت اور اصلاحِ معاشرہ کے پیغامات عام کر سکتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً
ترجمہ: ’’بعض شاعری میں حکمت ہوتی ہے۔‘‘
دارالعلوم دیوبند کے دارالافتاء میں بھی شاعری کے متعلق واضح کیا گیا ہے کہ ایسی شاعری جس میں حکیمانہ مضامین، وعظ و نصیحت، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اسلام سے محبت کا بیان ہو، پسندیدہ ہے؛ جب کہ فحش کلام، اللہ کی نافرمانی کی ترغیب اور بے حیائی کی طرف مائل کرنے والے مضامین قابلِ مذمت اور ناجائز ہیں۔
حوالہ: دارالعلوم دیوبند، دارالافتاء، فتویٰ نمبر 1176=1016/ل، "شاعری کے شرعی حکم سے متعلق فتویٰ" 
اس لیے ہماری گفتگو کا موضوع شاعری کی مخالفت نہیں، بلکہ شاعری کے نام پر پیش کیے جانے والے ان غیر شرعی امور کی نشان دہی ہے جو ہمارے دینی و اخلاقی ماحول کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
اگر کسی مشاعرے میں حمد و نعت، حکمت و دانائی، اصلاحِ معاشرہ، تعلیم، اخلاق، وطن کی تعمیر اور ملت کی بیداری پر مشتمل اشعار پیش کیے جائیں، اور پروگرام میں شرعی حدود کی رعایت ہو، تو ایسا مشاعرہ مثبت اور مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
لیکن اگر اسی فن کو فحش گوئی، بے حیائی، نامناسب عشق و عاشقی، کسی زندہ عورت کے حسن و جمال کی ایسی توصیف جس سے شہوانی میلان پیدا ہو، یا دیگر غیر شرعی امور کے لیے استعمال کیا جائے، تو محض اسے ’’ادبی پروگرام‘‘ کا نام دے دینے سے اس کی قباحت ختم نہیں ہو جاتی۔
مشاعرے کی شرعی حیثیت: اصل معیار کیا ہے؟
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کے دارالافتاء نے مروجہ مشاعروں کے متعلق اپنے فتویٰ میں وضاحت کی ہے کہ جن محافل میں مرد و عورت کا غیر شرعی اختلاط، بے پردگی یا ممنوعہ مضامین پر مشتمل شاعری ہو، ان کے انتظام اور ان میں شرکت کا حکم ان قباحتوں کے اعتبار سے ناجائز ہے۔ اس کے برعکس، ایسی ادبی محفل جس میں یہ خرابیاں نہ ہوں اور عمدہ، اصلاحی و حکیمانہ اشعار پیش کیے جائیں، اصولاً جائز ہو سکتی ہے۔
حوالہ: "مروجہ مشاعرے کا حکم — دارالافتاء، جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن" 
اس اصول کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں کسی پروگرام کے نام، اشتہار یا شہرت سے متاثر ہونے کے بجائے اس کے حقیقی مشمولات، ماحول اور انتظامات کو دیکھنا چاہیے۔
’’گنگا جمنی تہذیب‘‘، ’’ادبی شام‘‘، ’’ثقافتی پروگرام‘‘ اور ’’آل انڈیا مشاعرہ‘‘ جیسے خوب صورت عنوانات اپنی جگہ؛ لیکن کسی پروگرام کی حقیقی قدر و قیمت اس کے عنوان سے نہیں، بلکہ اس کے مقاصد، مواد اور نتائج سے متعین ہوتی ہے۔
بے پردگی اور بے حیائی کو تفریح کا نام نہ دیجیے!
ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں والدین اپنی اولاد کو دینی و اخلاقی تربیت دینے کے لیے فکرمند ہیں، جہاں بہت سے گھرانے اپنے بچوں کو غلط صحبت اور بے راہ روی سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں، اور جہاں علماء و اساتذہ نسلِ نو کے کردار کی تعمیر میں مصروف ہیں۔
ایسے میں ہماری اجتماعی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔
اگر کسی تقریب میں خواتین و مردوں کے درمیان شرعی حدود کا لحاظ نہ رکھا جائے، بے پردگی کو معمول بنایا جائے، اور اشعار کے ذریعے نامناسب جذبات و خیالات کو ہوا دی جائے، تو ہمیں سنجیدگی سے سوچنا چاہیے کہ اس کا ہماری نوجوان نسل پر کیا اثر پڑے گا۔
اسلام نے حیا کو بڑی اہمیت دی ہے۔ حیا صرف لباس کا نام نہیں؛ یہ نگاہ، زبان، رویے، گفتگو اور طرزِ زندگی میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔ اسی طرح معاشرے کی پاکیزگی صرف چند افراد کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہر اس شخص کی ذمہ داری ہے جو اپنی استطاعت کے مطابق اصلاح کی کوشش کر سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا
ترجمہ: ’’اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، بے شک وہ بے حیائی ہے اور بہت برا راستہ ہے۔‘‘
(سورۃ الإسراء: 32)
اس آیت میں صرف ایک برے عمل سے بچنے کا حکم نہیں، بلکہ ان راستوں سے بھی دور رہنے کی تعلیم ہے جو انسان کو اس گناہ کے قریب لے جا سکتے ہیں۔ البتہ کسی خاص تقریب کے بارے میں یہ فیصلہ کہ وہ ان ممنوعہ امور پر مشتمل ہے یا نہیں، اس کی حقیقی صورتِ حال معلوم کیے بغیر نہیں کرنا چاہیے۔
سیمانچل کی ترجیحات کیا ہونی چاہئیں؟
ذرا اپنے علاقے کی صورتِ حال پر غور کیجیے!
ہمارے علاقے کے کتنے بچے ایسے ہیں جنہیں معیاری تعلیم میسر نہیں؟ کتنے نوجوان مناسب رہنمائی کے منتظر ہیں؟ کتنے گھرانے معاشی پریشانیوں سے دوچار ہیں؟ کتنے مکاتب ایسے ہیں جنہیں بہتر نظام، کتابوں، اساتذہ اور مالی تعاون کی ضرورت ہے؟ کتنی مساجد میں دینی و تعلیمی سرگرمیوں کو مزید مضبوط بنانے کی گنجائش موجود ہے؟
اگر ہمارے پاس وسائل ہیں، ہمارے پاس وقت ہے، ہمارے پاس باصلاحیت افراد کو جمع کرنے کی صلاحیت ہے، تو کیوں نہ ان وسائل کو ایسے کاموں میں بھی استعمال کیا جائے جن کے اثرات دیرپا ہوں؟
مثلاً:
- غریب طلبہ کی تعلیم اور وظائف کے لیے ایک منظم نظام قائم کیا جائے۔
- نوجوانوں کے لیے علمی، ادبی اور اخلاقی تربیت کے پروگرام منعقد کیے جائیں۔
- ایسے اصلاحی مشاعرے ہوں جن میں حمد و نعت، اخلاقی اشعار، قومی و سماجی شعور اور ملت کی تعمیر کے موضوعات کو اہمیت دی جائے۔
- مکاتب، مدارس اور تعلیمی اداروں کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کی جائے۔
- نشہ، بری صحبت اور موبائل کے نامناسب استعمال کے خلاف بیداری پیدا کی جائے۔
- معاشرے میں حیا، شرافت، تعلیم اور خدمتِ خلق کو فروغ دیا جائے۔
ہمیں کسی مثبت سرگرمی کی مخالفت کرنے کے بجائے یہ سوچنا چاہیے کہ اسے زیادہ مفید، بامقصد اور شرعی حدود کے مطابق کیسے بنایا جا سکتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَٰلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ۔
ترجمہ: ’’تم میں سے جو شخص کسی برائی کو دیکھے، اسے چاہیے کہ اسے اپنے ہاتھ سے بدلے؛ اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو اپنی زبان سے، اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو اپنے دل سے برا سمجھے، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔‘‘
(صحیح مسلم، کتاب الإيمان، حدیث: 49)
یہ حدیث ہمیں اپنی ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے؛ لیکن برائی کی اصلاح بھی علم، حکمت، استطاعت اور شرعی حدود کے مطابق ہونی چاہیے۔ اس کا مقصد فساد، ذاتی دشمنی یا کسی کی تحقیر نہیں، بلکہ خیر خواہی اور اصلاح ہے۔
میں خود بھی ایک ادنیٰ طالب علم ہوں۔ نہ میرے پاس کوئی بڑا منصب ہے، نہ کوئی اجتماعی قوت، اور نہ ہی میں یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ میرے لکھنے سے لازماً حالات بدل جائیں گے۔ لیکن اتنا ضرور سمجھتا ہوں کہ اگر کسی بات کو غلط سمجھتا ہوں تو کم از کم حکمت اور خیر خواہی کے ساتھ اپنی بات لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کر سکتا ہوں۔
ہماری کمزوری یہ نہیں ہونی چاہیے کہ ہم اصلاح کی کوشش ہی چھوڑ دیں؛ بلکہ ہمیں اپنی استطاعت کے مطابق صحیح بات کہنے، خود اس پر عمل کرنے اور دوسروں کے لیے خیر خواہی کا جذبہ رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
منتظمینِ مشاعرہ سے چند مخلصانہ گزارشات
ککوڑا میں منعقد ہونے والے اس مشاعرے کے منتظمین سے میری مؤدبانہ گزارش ہے کہ آپ کی کوشش، وقت اور وسائل اگر ادب و ثقافت کے فروغ کے لیے صرف ہو رہے ہیں تو اسے ایک بہترین اور مفید مقصد کے لیے استعمال کیجیے۔
ایسا پروگرام ترتیب دیجیے جس سے ہمارے علاقے کی نئی نسل کو علم، اخلاق، زبان و ادب اور سماجی ذمہ داری کا شعور ملے۔ ایسے شعراء کو ترجیح دیجیے جن کا کلام معاشرے کو جوڑنے، کردار سنوارنے اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ پیدا کرنے والا ہو۔
پروگرام کے تمام انتظامات میں شرعی حدود کا لحاظ رکھیے۔ اگر کسی حصے میں بے پردگی، غیر شرعی اختلاط یا فحش و نامناسب شاعری کا اندیشہ ہے تو اس کی اصلاح کیجیے۔ محض شہرت، تفریح یا مجمع جمع کرنے کے بجائے اس بات کو اہمیت دیجیے کہ پروگرام سے معاشرے کو کیا فائدہ پہنچے گا۔
آپ کے پاس اگر وسائل ہیں تو انہیں غریب طلبہ، تعلیم، مکاتب، مدارس، نوجوانوں کی تربیت اور دیگر فلاحی و اصلاحی کاموں کے لیے بھی استعمال کیجیے۔ ایک کامیاب پروگرام وہ نہیں جس کا چرچا چند روز رہے، بلکہ وہ ہے جس کے اچھے اثرات برسوں تک باقی رہیں۔
یہ گزارش کسی کی نیت پر شک کی بنیاد پر نہیں، بلکہ ایک مسلمان کی حیثیت سے خیر خواہی کے جذبے کے تحت ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو صحیح فیصلہ کرنے، نیک نیتی کے ساتھ کام کرنے اور اپنے وسائل کو مفید مقاصد میں لگانے کی توفیق عطا فرمائے۔
اہلِ علاقہ، بالخصوص نوجوانوں اور والدین کے نام
میرے عزیز بھائیو، بزرگوں، نوجوانوں اور محترم والدین!
کسی پروگرام میں شرکت کا فیصلہ کرتے وقت صرف اس کی شہرت، اشتہار، مشہور شعراء کی آمد یا دوستوں کے اصرار کو معیار نہ بنائیے۔ یہ بھی دیکھیے کہ وہاں کیا پیش کیا جائے گا، ماحول کیسا ہوگا اور اس میں شرکت سے آپ کو کیا حاصل ہوگا۔
اگر تحقیق سے معلوم ہو کہ کسی محفل میں بے پردگی، غیر شرعی اختلاط یا فحش و ناجائز مضامین پیش کیے جائیں گے، تو ایسی محفل سے اجتناب کیجیے اور دوسروں کو بھی نرمی، حکمت اور خیر خواہی کے ساتھ اس کی ترغیب دیجیے۔
اسی لیے ککوڑا میں ہونے والے اس مشاعرے کے سلسلے میں میری اپنے اہلِ علاقہ سے گزارش ہے کہ اگر اس پروگرام میں مذکورہ غیر شرعی امور پائے جاتے ہوں اور ان کی اصلاح نہ کی گئی ہو تو اس میں شرکت سے اجتناب کریں۔ محض نام و شہرت کی خاطر ایسے ماحول کا حصہ نہ بنیں جو ہمارے دینی و اخلاقی اصولوں کے خلاف ہو۔
البتہ کسی کے خلاف غیر مصدقہ باتیں پھیلانا، کسی کی عزت کو نقصان پہنچانا یا بغیر تحقیق کے الزام لگانا بھی درست نہیں۔ ہمارا مقصد لوگوں کی تذلیل نہیں، بلکہ اپنی اور اپنے معاشرے کی اصلاح ہے۔
آخری گزارش: یہ مخالفت نہیں، خیر خواہی ہے!
مجھے معلوم ہے کہ بعض احباب میری اس تحریر کو کسی کی مخالفت، حسد یا ذاتی اختلاف پر محمول کر سکتے ہیں۔ لیکن میں پوری ذمہ داری کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ مقصد کسی کی دل آزاری نہیں، بلکہ اپنے علاقے کے دینی و اخلاقی مستقبل کے بارے میں فکرمندی کا اظہار ہے۔
ہم پہلے ہی بہت سے مسائل سے دوچار ہیں۔ ہماری نوجوان نسل کو اچھی تعلیم، بہتر تربیت، مثبت سرگرمیوں اور روشن مستقبل کی ضرورت ہے۔ ایسے میں ہمیں ہر اس سرگرمی کا جائزہ لینا چاہیے جو ہماری اجتماعی زندگی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
اگر کسی جگہ کوئی اچھا کام ہو رہا ہے تو ہمیں اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، اور اگر کسی سرگرمی میں واقعی شرعی یا اخلاقی قباحت پائی جاتی ہے تو اسے دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ نہ اندھی مخالفت درست ہے، نہ ہر نئی چیز کو بغیر سوچے سمجھے قبول کر لینا دانش مندی ہے۔
آئیے! ہم سب مل کر اپنے سیمانچل کو علم، ادب، اخلاق، حیا، تعلیم اور خدمتِ خلق کا مرکز بنانے کی کوشش کریں۔ ہماری محفلیں ایسی ہوں جن سے دلوں میں نیکی کا جذبہ پیدا ہو، ہمارے اشعار ایسے ہوں جو سوئے ہوئے ضمیر کو بیدار کریں، اور ہمارے اجتماعی پروگرام ایسے ہوں جن سے غریبوں کو سہارا، نوجوانوں کو رہنمائی اور معاشرے کو صحیح سمت ملے۔
ہمیں مشاعروں سے نہیں، مشاعرے کے نام پر بے حیائی کی ترویج سے اختلاف ہے؛ ہمیں ادب سے نہیں، ادب کی آڑ میں شرعی حدود پامال کرنے سے اختلاف ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے علاقے کو ہر طرح کی برائی سے محفوظ فرمائے، ہمارے علماء، ائمہ، اساتذہ، نوجوانوں اور ذمہ داران کو اخلاص و حکمت عطا فرمائے، اور ہمیں محض کہنے سننے والا نہیں، بلکہ اپنی بات پر عمل کرنے والا بنائے۔

آمین یا رب العالمین۔