عجیب بات ہے کہ ہم کسی کے آنسو دیکھ کر اس کے غم کا اندازہ تو لگا لیتے ہیں، مگر کسی کی خاموشی کے پیچھے چھپی اذیت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔
کیا میت والے گھر میں آہ و بکا اور چیخ و پکار ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ اہلِ خانہ غم زدہ ہیں؟
ہم اکثر کسی کے غم کو اس کے آنسوؤں سے ناپنے لگتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ جو شخص زیادہ رو رہا ہے، اسے زیادہ تکلیف ہے، اور جو خاموش ہے، شاید اسے اتنا دکھ نہیں۔ مگر کیا واقعی ایسا ہے؟
بعض اوقات انسان پر ایسا صدمہ گزرتا ہے کہ وہ رو بھی نہیں پاتا۔ وہ بس خاموش بیٹھا رہتا ہے، جیسے اس کے اردگرد جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اسے سمجھ ہی نہیں آ رہا۔ سوچنے، سمجھنے اور اپنے جذبات کو لفظوں میں ڈھالنے کی صلاحیت جیسے کہیں گم ہو جاتی ہے۔ آنکھوں میں آنسو نہ ہوں تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ دل میں درد نہیں۔
کچھ لوگ چیخ کر اپنا غم بیان کرتے ہیں، کچھ آنسوؤں میں بہا دیتے ہیں، کچھ اپنے دکھ کو لفظوں میں ڈھال لیتے ہیں، اور کچھ خاموشی اوڑھ لیتے ہیں۔ مگر غم تو غم ہے، اس کا اظہار ہر انسان کا اپنا الگ انداز ہے۔
ہم میت والے گھر کیوں جاتے ہیں؟؟
کیا واقعی ان کے غم میں شریک ہونے کے لیے جاتے ہیں یا ان کے غم اور ان کی تکلیف کا تماشہ دیکھنے جاتے ہیں؟ کیا ہم صرف یہ دیکھنے کے لیۓ جاتے ہیں کہ کون کتنا رو رہا ہے؟ کون کتنی دیر سے رو رہا ہے؟ اور کون خاموش بیٹھا ہے؟
ہم کسی کو چند لمحوں کے لیے دیکھتے ہیں اور اس کے پورے غم کا فیصلہ سنا دیتے ہیں۔
اس تکلیف کا کیا جب وہ شخص دن بھر خود کو سنبھالنے کے بعد رات کی خاموشی میں پھر انہی تکلیف دہ لمحات کو جیتا ہے؟
اس تکلیف کا کیا جب وہ مہینوں اس جدائی کو اپنے اندر لیے پھرتا ہے، تنہائی میں روتا ہے، مگر لوگوں کے سامنے خاموش رہتا ہے؟
کیا اس کے آنسو کم ہو گئے صرف اس لیے کہ وہ آپ کے سامنے نہیں بہے؟
ہمیں کیا معلوم کہ جس شخص کو ہم سب کے درمیان خاموش بیٹھا دیکھ رہے ہیں، وہ اپنے اندر کیا کچھ سمیٹے ہوئے ہے؟ ہمیں کیا معلوم کہ رات کی تنہائی میں اس پر کیا گزرتی ہے، کون سی یاد اسے بے چین کرتی ہے، کس آواز کو سننے کے لیے اس کا دل ترستا ہے اور کس لمحے اسے اپنے بچھڑے ہوئے عزیز کی کمی سب سے زیادہ محسوس ہوتی ہے؟
کیا کسی کے آنسو دیکھ کر ہی اس کے غم کی تصدیق کی جا سکتی ہے؟ کیا جدائی صرف اسی وقت تکلیف دیتی ہے جب تک آنکھوں سے آنسو بہتے رہیں؟
کچھ جدائیاں انسان کی زندگی میں ایسی خاموشی چھوڑ جاتی ہیں جو ہنستے ہوئے چہروں کے پیچھے بھی موجود رہتی ہے۔ انسان لوگوں کے ساتھ بیٹھ سکتا ہے، باتیں کر سکتا ہے، مسکرا سکتا ہے اور اپنے روزمرہ کے کام بھی کر سکتا ہے، مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ اپنے دکھ سے آزاد ہو گیا ہے۔
زندگی کے معمولات جاری رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ دل بھی معمول پر آ گیا ہے۔
کچھ لوگ اپنے غم کے ساتھ جینا سیکھ لیتے ہیں، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ غم سے نکل چکے ہیں۔ کچھ زخم وقت کے ساتھ دکھائی دینا چھوڑ دیتے ہیں، مگر ان کی تکلیف باقی رہتی ہے۔
اس لیے کسی کے آنسو دیکھ کر اس کے غم کی شدت کا فیصلہ مت کیجیے، اور کسی کی خاموشی کو اس کے بے غم ہونے کی دلیل مت بنائیے۔
میت والے گھر جائیں تو یہ دیکھنے نہ جائیں کہ کون کتنا رو رہا ہے۔
یاد رکھیں یہ میت والا گھر ہے شادی کی محفل نہیں جہاں آپ یہ ذہن بنا کے بیٹھی ہوں کہ شور و غل نہ ہو تو محفل میں رونق نہیں ہوتی_
یہ سوچ کر جائیں کہ ایک گھر سے کسی کا اپنا بچھڑ گیا ہے، کسی کا سہارا چھن گیا ہے، کسی کی زندگی میں ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جسے کوئی دوسرا پُر نہیں کر سکتا۔
اور سب سے اہم بات یہ کہ کسی کے دکھ کو پرکھنے سے پہلے ایک لمحے کے لیے خود کو اس کی جگہ رکھ کر سوچیے۔
اگر کل یہی صدمہ آپ کے دروازے پر دستک دے، اگر آپ کا کوئی اپنا آپ سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ جائے، تو کیا آپ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ آپ اپنے غم کا اظہار بالکل اسی طرح کریں گے جس طرح آج دوسروں سے توقع کر رہے ہیں؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ اس صدمے کے وقت آپ کا ردِعمل کیا ہوگا؟ کیا آپ رو سکیں گے یا خاموش رہ جائیں گے؟ کیا آپ لوگوں کے سامنے اپنا درد بیان کر پائیں گے یا تنہائی میں اسے سہنا پسند کریں گے؟
جب آپ خود اپنے ردِعمل کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے، تو دوسروں کے غم کا فیصلہ اتنے یقین سے کیسے کر لیتے ہیں؟
یاد رکھیے، ہر شخص کا غم اس کا اپنا ہوتا ہے۔ اس کی شدت، اس کا اظہار اور اسے سہنے کا طریقہ بھی اپنا ہوتا ہے۔ ہمیں کسی کے دکھ کو اپنی سوچ کے پیمانے پر تولنے کے بجائے اس کے احساسات کا احترام کرنا چاہیے۔
ہر آنسو دکھائی نہیں دیتا، ہر درد بیان نہیں ہوتا، ہر ٹوٹا ہوا انسان بکھرتا نہیں، اور ہر خاموش شخص بے غم نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی انسان کے چہرے پر خاموشی ہوتی ہے، مگر اس کے اندر ایک پوری دنیا اجڑ چکی ہوتی ہے۔
اس لیے کسی کے غم کا فیصلہ کرنے سے پہلے رک جائیے، سوچیے اور اپنے دل سے پوچھیے: کیا واقعی آپ کسی دوسرے انسان کے دل میں اتر کر اس کی تکلیف جان سکتے ہیں؟
ہو سکتا ہے جسے آپ معمول کے مطابق زندگی گزارتے دیکھ رہے ہوں، وہ ہر روز اپنے اندر کسی بچھڑے ہوئے شخص کی کمی محسوس کرتا ہو۔
اور ہو سکتا ہے جس کی خاموشی کو آپ بے فکری سمجھ رہے ہوں، وہ اپنے اندر ایک ایسا شور لیے بیٹھا ہو جس کی آواز کسی دوسرے تک نہیں پہنچتی۔
کچھ لوگ اپنے پیاروں کے بچھڑنے پر دنیا کے سامنے روتے ہیں، اور کچھ دنیا کے سامنے خود کو سنبھال کر تنہائی میں بکھر جاتے ہیں-
تو پھر کسی کے آنسوؤں کی گنتی کیوں؟ کسی کی خاموشی پر سوال کیوں؟
خدارا! اپنی سوچ کو بدلیں غمزدہ انسان کے غم میں شریک ہونے جائیں،
اس کے غم کا مذاق اڑانے مت جائیں-
ذرا سوچیں! ایک شخص پہلے ہی غم کی شدت سے نڈھال ہے اور ایسے میں آپ کی تکلیف دہ باتیں اس کے کانوں تک پہنچ گئیں اور اس کے غم میں مزید اضافہ ہو گیا آپ کے کسی لفظ، کسی جملے پر اس کی آنکھوں سے آنسو گر گیا اور وہ آنسو اللہ کے یہاں ایک غمزدہ اور بے بس انسان کی آہ بن کر پہنچ گیا تو پھر؟ کیا کرینگے؟ کہاں جائیں گے؟ کیسے بچیں گے اللہ کی پکڑ سے؟
اپنا محاسبہ کریں اور خود کو اس جگہ رکھ کر سوچیں_
میت والے گھر جائیں تو تماشائ بن کر نہیں ہمدرد اور غمگسار بن کر جائیۓ۔ کسی کے چہرے پر آنسو تلاش کرنے کے بجائے اس کے دل کا خیال رکھیے، اس کی خاموشی کا احترام کیجیے۔
ایک درد جیسے میں نے محسوس کیا اپنے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں آپ تک پہنچا دیا اگر آپ کو اس درد کا احساس ہو جاے تو آگے شیئر کر دیں شاید یہ تحریر کسی کی رہنمائ کا سبب بن
جاے_