سفرِ سیرت
قسط نمبر ۳
*مکہ کی سرزمین پر طلوعِ آفتابِ نبوت صلی اللّٰہ علیہ وسلم*
✍🏻*محمد عادل ارریاوی*
_______________________________
دنیا جب جہالت شرک اور ظلم کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی انسانیت ہدایت کی روشنی سے محروم تھی ایسے پُرآشوب دور میں اللہ ربّ العزت نے اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں تشریف لا کر انسانیت کو ہدایت و رحمت سے سرفراز فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت تاریخِ انسانیت کا ایک عظیم واقعہ ہے جس نے دنیا کو ایک نئی روشنی عطا کی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے دنیا کے بڑے حصے میں جہالت شرک بت پرستی ظلم و ستم ناانصافی زنا بیہودگی اور اخلاقی پستی کا دور دورہ تھا۔ انسان اپنے حقیقی مقصدِ زندگی سے غافل تھا طاقت ور کمزوروں کے حقوق پامال کرتے تھے معاشرے میں طبقاتی تفریق پائی جاتی تھی اور بہت سے لوگ اپنی خواہشات کو ہی زندگی کا مقصد سمجھ بیٹھے تھے۔ عرب کی سرزمین بھی ان حالات سے محفوظ نہ تھی۔ وہاں بت پرستی عام تھی قبائلی عصبیت نے لوگوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا تھا اور معمولی باتوں پر کئی کئی سال جنگیں جاری رہتی تھیں۔
ایسے ماحول میں اللہ ربّ العزت نے اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں تشریف لانے کا شرف عطا فرمایا جن کی تعلیمات نے انسان کو اس کے رب سے جوڑا اخلاق و کردار کو سنوارا عدل و انصاف کی بنیادیں مضبوط کیں اور انسانیت کو زندگی گزارنے کا ایک پاکیزہ راستہ دکھایا۔
یہ وہ مبارک ولادت تھی جس کے ذریعے اللہ ربّ العزت نے انسانیت کے لیے ہدایت و رحمت کے ایک عظیم دور کا آغاز فرمایا۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے پہلے ہی آپ کے والدِ محترم حضرت عبداللہ بن عبدالمطلب کا انتقال ہو چکا تھا۔ حضرت عبداللہ قریش کے معزز خاندان بنو ہاشم سے تھے اور اپنے والد حضرت عبدالمطلب کو بہت محبوب تھے۔ آپ کی والدہ حضرت آمنہ بنت وہب بھی قبیلۂ بنو زہرہ کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔
حضرت عبداللہ کی شادی حضرت آمنہ سے ہوئی لیکن ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف نہیں لائے تھے کہ حضرت عبداللہ تجارت کی غرض سے سفر پر روانہ ہوئے اور مدینہ منورہ میں بیمار ہو کر وفات پا گئے۔ یوں حضرت آمنہ کے لیے یہ آزمائش کا وقت تھا کہ وہ اپنے ہونے والے بچے کی پیدائش سے پہلے ہی شوہر کی جدائی کا صدمہ برداشت کر چکی تھیں۔
اس وقت کسی کو معلوم نہ تھا کہ یہ آنے والا بچہ آگے چل کر پوری انسانیت کا رہبر اللہ ربّ العزت کا آخری رسول اور تمام انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات کی تصدیق کرنے والا ہوگا۔ بظاہر ایک یتیم بچے کی آمد متوقع تھی لیکن اللہ ربّ العزت کی حکمت کے مطابق اسی بچے کے ذریعے دنیا کو وہ ہدایت ملنے والی تھی جس کی روشنی قیامت تک باقی رہے گی۔
واقعۂ فیل کا مختصر قصہ یہ ہے کہ یمن کے بادشاہ ابرہہ نے یمن کے دارالسلطنت صنعاء میں ایک گرجا گھر بنوایا تاکہ لوگوں کا رخ خانۂ کعبہ کے بجائے اس گرجا گھر کی طرف ہو جائے۔ دھیرے دھیرے وہ اس مقصد میں کامیاب ہوتا جا رہا تھا کہ اسی درمیان مکہ کے ایک شخص نے اس میں قضائے حاجت کر دی۔ ابرہہ کو اس فعل پر بہت غصہ آیا اور وہ ایک بہت بڑی فوج لے کر خانۂ کعبہ پر حملے کے لیے یمن سے مکہ روانہ ہوا لیکن اللہ ربّ العزت نے ابابیل پرندوں کے ذریعے ابرہہ اور اس کے لشکر کو ہلاک و برباد کر دیا۔ اسی مناسبت سے اس واقعے کو واقعۂ فیل اس سال کو عام الفیل اور حملہ کرنے والوں کو اصحابِ فیل کہا جاتا ہے۔ (دلائل النبوۃ، ۱/۱۱۵)
یہ واقعہ عرب کے لوگوں کے حافظے میں محفوظ تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت اسی سال ہوئی جسے عام الفیل کہا جاتا ہے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت واقعۂ فیل کے ۵۰ یا ۵۵ دنوں کے بعد مشہور قول کے مطابق ۱۲ ربیع الاول مطابق ۲۰ یا ۲۲ اپریل ۵۷۱ء پیر کے دن صبح صادق کے بعد اور طلوعِ آفتاب سے پہلے عرب کے مشہور شہر مکہ میں حضرت ابو طالب کے مکان میں ہوئی۔
(سیرۃ المصطفیٰ، ۱/۵۲ رحمۃ للعالمین، ۱/۶۹)
بالآخر وہ مبارک وقت آگیا جس میں حضرت آمنہ کے گھر وہ عظیم ہستی تشریف لائی جسے اللہ ربّ العزت نے تمام انسانوں کے لیے رسول بنا کر بھیجنا تھا۔
بعض اہلِ علم نے بارہ ربیع الاول کو مشہور قول قرار دیا ہے جب کہ بعض مؤرخین نے آٹھ ربیع الاول اور بعض نے نو ربیع الاول کو ترجیح دی ہے۔ اس کے علاوہ بھی دیگر اقوال ملتے ہیں۔
علامہ محمود پاشا مصری کی تحقیق کے مطابق ولادتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم نو ربیع الاول مطابق بیس اپریل ۵۷۱ء کو ہوئی۔(ماخوذ ۔ سیرت کے دیگر کتب)۔
اس لیے علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ بارہ ربیع الاول کو مشہور قول کے طور پر بیان کیا جائے لیکن یہ واضح رہے کہ ولادت کی متعین تاریخ پر اتفاق نہیں ہے۔ البتہ پیر کے دن ولادت ہونے کی بات صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر کے روزے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی۔
(صحیح مسلم حدیث ۱۱۶۲)۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مکہ مکرمہ میں ہوئی جو عرب کا ایک معروف اور محترم شہر تھا۔ اسی شہر میں خانۂ کعبہ واقع ہے جس کی نسبت حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام سے ہے۔
مکہ مکرمہ اگرچہ مذہبی اور تجارتی اعتبار سے اہمیت رکھتا تھا لیکن اس وقت معاشرے میں بت پرستی اور بہت سی جاہلانہ رسمیں رائج تھیں۔ لوگ خانۂ کعبہ کی عظمت سے واقف ہونے کے باوجود اس کے حقیقی مقصد سے غافل ہو چکے تھے۔ ایسے حالات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت اس عظیم مشن کی تمہید تھی جس کے ذریعے توحید کی دعوت کو پوری دنیا تک پہنچنا تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک آمد صرف کسی ایک خاندان یا قبیلے کے لیے خوشی کا باعث نہیں تھی بلکہ اللہ ربّ العزت کی حکمت کے مطابق آپ کی بعثت پوری انسانیت کے لیے رحمت بننے والی تھی۔ قرآن مجید نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرمایا۔
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ
اور آپ کو ہم نے تمام جہانوں کے لیے رحمت ہی بنا کر بھیجا ہے۔
(سورۃ الانبیاء: ۱۰۷، اضواء البیان)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے بعد آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب کو جب اس خوش خبری کی اطلاع ملی تو وہ بہت خوش ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے محبوب فرزند حضرت عبداللہ کی یادگار تھے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام محمد اور احمد ہیں۔ محمد نام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے اور احمد نام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ حضرت آمنہ نے رکھا تھا۔
(رحمۃ للعالمین، ۲/۳۵۱)۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مشہور کنیت ابوالقاسم ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت قاسم کی طرف منسوب ہے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابو ابراہیم اور ابوالمؤمنین بھی کہا جاتا ہے۔
(دلائل النبوۃ، ۱/۱۶۲؛ سبل الہدیٰ والرشاد، ۱/۵۳۶)
محمد اور احمد یہ دونوں عربی نام ہیں جو حمد سے مشتق ہیں جس کے معنی تعریف کرنے کے آتے ہیں۔ محمد کا مطلب ہے جس کی بہت زیادہ تعریف کی جائے۔ چوں کہ کائنات میں سب سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف بیان کی جاتی ہے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم محمد ہیں۔ اور احمد کا مطلب ہے جو اللہ ربّ العزت کی بہت زیادہ تعریف کرنے والا ہو۔ چوں کہ تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ ربّ العزت کی حمد و ثنا بیان کی ہے اس لیے آپ علیہ السلام احمد بھی ہیں۔
(از ماخوذ۔ سیرت کے سنہرے نقوش)
یہ نام اپنے معنی کے اعتبار سے نہایت خوب صورت ہیں۔ اللہ ربّ العزت نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ مقام عطا فرمایا کہ دنیا بھر میں آپ کا ذکر عزت و محبت کے ساتھ کیا جاتا ہے آپ پر درود و سلام بھیجا جاتا ہے اور آپ کی سیرت سے ہر دور کے انسان رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے بعد دنیا نے ایک ایسا نبی دیکھا جس نے انسان کو بت پرستی سے نکال کر توحید کی طرف بلایا ظلم کے مقابلے میں عدل و انصاف کا درس دیا کمزوروں کے حقوق کی حفاظت کی عورتوں کو عزت و مقام عطا کیا یتیموں اور محتاجوں کی خبرگیری کی اور اخلاقِ حسنہ کو انسانی زندگی کی بنیاد قرار دیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانوں کو بتایا کہ حقیقی فضیلت مال خاندان رنگ یا نسل کی بنیاد پر نہیں بلکہ تقویٰ اور نیک اعمال کی بنیاد پر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات نے معاشرے میں اخوت رحم دلی دیانت داری اور امانت داری کو فروغ دیا۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت تاریخِ انسانیت کا ایک عظیم باب ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے تو بظاہر ایک یتیم بچے کی حیثیت سے لیکن اللہ ربّ العزت نے آپ کو وہ مقام عطا فرمایا کہ آپ کی تعلیمات نے دنیا کے گوشے گوشے کو متاثر کیا۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی مائیں۔
مشہور قول کے مطابق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی مائیں دو ہیں (۱) حضرت ثویبہ (۲) حضرت حلیمہ سعدیہ۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے پہلے آپ کی والدہ حضرت آمنہ نے سات دنوں تک دودھ پلایا۔ اس کے بعد چند دنوں تک حضرت ثویبہ نے دودھ پلایا پھر مکمل دو سال تک حضرت حلیمہ سعدیہ نے دودھ پلایا۔
حضرت ثویبہ ابولہب کی آزاد کردہ باندی تھیں اور صحیح قول کے مطابق مسلمان ہو گئی تھیں۔ ہجرت کے ساتویں سال ان کا انتقال ہوا۔
حضرت حلیمہ سعدیہ کے والد کا نام عبداللہ کنیت ابو ذویب بن حارث ہے اور ان کے شوہر کا نام حارث بن عبدالعزیٰ ہے۔ صحیح قول کے مطابق حضرت حلیمہ سعدیہ اور ان کے شوہر دونوں مسلمان ہو گئے تھے۔ دونوں کی تاریخِ وفات محفوظ نہیں۔
(تفصیل کے لیے دیکھیے رسول اکرم کی رضاعی مائیں، ص ۷۷، ۲۸؛ سیرت النبی، ۱/۱۳۷، ۱۳۸)
اللہ ربّ العزت ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت اتباعِ سنت اور آپ کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔