مجھے حیرت ہوتی ہے اُن لوگوں پر جو زندگی میں طرح طرح کی پریشانیوں، مسائل اور آزمائشوں میں گھرے ہوے ہوتے ہیں، جن کے دل سکون کی تلاش میں بھٹک رہے ہوتے ہیں، مگر اس سکون کے لیے اُس در پر دستک نہیں دیتے جہاں سے حقیقی سکون ملتا ہے۔ آخر کیوں ہم ہزاروں مسائل اور پریشانیوں میں گھرے ہوے ہونے کے باوجود نماز سے دور اور غفلت میں ہیں، جبکہ پریشان حال شخص کو تو اور بھی اللہ سے اپنا تعلق مضبوط بنانا چاہیے، نماز تو خود پریشان حال انسان کے لیے اللہ کی طرف سے ایک سہارا ہے؟

اللہ رب العزت قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ

ترجمہ: اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے مدد حاصل کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (سورۃ البقرہ: 153)

غور کیجیے! اللہ تعالیٰ ہمیں پریشانیوں کے وقت صبر اور نماز کے ذریعے مدد حاصل کرنے کا حکم دے رہا ہے، مگر افسوس کہ ہم میں سے بہت سے لوگ مشکل وقت آتے ہی نماز سے مزید دور ہو جاتے ہیں۔ صبر کا دامن تھامنے کے بجائے بے صبری کا شکار ہو جاتے ہیں اور اللہ کی بارگاہ میں دعا کرنے کے بجائے شکوے شکایتیں شروع کر دیتے ہیں۔

یہ غربت ہمارے ہی حصے میں کیوں آئی؟
 یہ بیماری ہمیں ہی کیوں ملی؟ پریشانیاں ہمارے ہی دروازے پر کیوں دستک دیتی ہیں؟

لیکن کبھی ہم نے خود سے یہ سوال کیا کہ جب اللہ تعالیٰ ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازتا ہے، تب ہم کتنی بار اُس کا شکر ادا کرتے ہیں؟ جب صحت میسر ہوتی ہے، رزق ملتا ہے، اپنوں کا ساتھ نصیب ہوتا ہے اور زندگی معمول کے مطابق گزر رہی ہوتی ہے، تب کیا ہم کبھی یہ سوچتے ہیں کہ یہ سب اللہ کا کتنا بڑا احسان ہے؟

ہم نعمتوں کے ملنے پر اکثر خاموش رہتے ہیں، مگر آزمائش آتے ہی سوال کرنے لگتے ہیں۔ ہمیں یہ تو یاد رہتا ہے کہ ہماری زندگی میں کیا نہیں ہے، مگر یہ یاد نہیں رہتا کہ ہمارے پاس اب بھی کتنا کچھ ہے جس پر ہمیں اپنے رب کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

یاد رکھیے! آزمائش میں مبتلا ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ اللہ نے ہمیں تنہا چھوڑ دیا ہے۔ زندگی میں مشکلات آتی ہیں، کبھی حالات ہمارے اختیار سے باہر ہو جاتے ہیں اور کبھی دل تھک کر رہ جاتا ہے۔ مگر ایسے وقت میں ہمیں اللہ سے دور نہیں، بلکہ اُس کے اور قریب ہونا چاہیے۔

پریشانی آئے تو اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ آپ کی مشکل آسان فرما دے، بیماری سے شفا عطا کرے، تنگی کو کشادگی میں بدل دے اور دل کو سکون نصیب فرمائے۔ اپنی تکلیف اُس کے سامنے بیان کیجیے، اُس سے مدد مانگیے، مگر یہ نہ بھولیے کہ دعا کرنا اور اپنی تکلیف بیان کرنا ایک بات ہے، جبکہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہو جانا دوسری بات۔

صبر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کو تکلیف محسوس نہ ہو، وہ روئے نہیں یا اپنے دکھ کا اظہار نہ کرے۔ صبر یہ ہے کہ تکلیف کے باوجود اللہ سے اپنا تعلق قائم رکھے، اُس کی رحمت سے امید نہ توڑے اور مشکل وقت میں بھی اُس کی طرف رجوع کرتا رہے۔

اور سب سے بڑھ کر، نماز کو صرف اُس وقت کا سہارا نہ بنائیے جب زندگی میں کوئی مشکل آ جائے۔ نماز تو ہماری زندگی کا حصہ ہونی چاہیے؛ خوشی میں بھی، غم میں بھی، آسانی میں بھی اور آزمائش میں بھی۔ کیونکہ ہم صرف مشکل وقت میں اللہ کے محتاج نہیں ہوتے، بلکہ ہماری ہر سانس، ہر نعمت اور زندگی کا ہر لمحہ اُس کی عطا ہے۔

ذرا سوچیے! جب پریشانیاں ہمیں گھیر لیتی ہیں تو ہم سکون کی تلاش میں نہ جانے کتنے راستے اختیار کرتے ہیں، کتنے لوگوں سے اپنی بات کہتے ہیں اور کتنی چیزوں میں دل بہلانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر کیا ہم نے کبھی پوری توجہ کے ساتھ نماز میں اپنے رب کے سامنے کھڑے ہو کر اُس سے مدد مانگی؟

جس رب نے ہمیں بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں، مشکل وقت میں اُسی کی طرف رجوع کیوں نہ کریں؟ جس کے حکم سے امید کے دروازے کھلتے ہیں، اُسی سے امید کیوں نہ رکھیں؟

آئیے! اپنی زندگی میں نماز کو جگہ دیجیے، نعمتوں پر شکر ادا کیجیے، آزمائشوں میں صبر سے کام لیجیے اور ہر حال میں اللہ سے اپنا تعلق مضبوط رکھیے۔ پریشانیوں سے نجات مانگنا ہمارا حق ہے، مگر ان پریشانیوں کے دوران اپنے رب کو یاد رکھنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔

یاد رکھیے، زندگی ہمیشہ ہماری خواہش کے مطابق نہیں گزرتی، لیکن ہر حال میں اللہ کی طرف رجوع کرنے کا راستہ ہمارے لیے کھلا رہتا ہے۔ اس لیے جب زندگی مشکل ہو جائے تو نماز سے منہ نہ موڑیے، بلکہ نماز کے ذریعے اپنے رب سے مدد مانگیے۔

شکوے میں الجھ کر اپنے رب سے دور نہ ہوں، بلکہ دعا کے ذریعے اُس کے
قریب ہو جائیں۔
بنت شہاب💫