تبصرہ بر کتاب " غبارہ راہ" 
صفحات : 168
مصنف : جناب محمد ڈاکٹر ارشد ہمراز  

پیش کش : *گل رضا راہی ارریاوی* 

       ارریہ کی سرزمین علم وادب اور شعر وسخن سے عبارت ہے ،یہاں" ظہور الحسن " مظہر القیوم ،زبیر الحسن غافل " ہارون رشید غافل جیسے شاعر و ادیب پیدا ہوۓ اور یہیں کی خاک میں پیوست ہوگیے مگر علم وادب شعرو سخن کا ذوق ومزاج نسل نو میں منتقل کرگیےـ

 چنانچہ آج" حقانی القاسمی " "اسلم حسن " شاہد عادل "عبد الباری زخمی "ارشد ہمراز" اور شاہی ارریاوی جیسے شاعر و ادیب موجود ہیں جو اپنے بزرگوں کی وراثت کو آگے لے جارہے ہیں -

زیر نظر کتاب "غبار راہ " اسی علم و ادب کے سلسلے کی ایک کڑی ہے، یہ ایسا حسین و معطر گلدستہ ہے جس میں علم و ادب کی لطافت اور شعر وسخن کی نزاکت بھر پور انداز میں ملتی ہے -

یہ کتاب ارشد ہمراز کی تخلیق ہے،اس کے منظر عام پہ آنے کی اطلاع فسبک کے ذریعے پہلے ملی تھی ؛لیکن ہردن ایک نئی کتاب کے منظر پہ آنے کی وجہ سے راقم اس کی طرف توجہ مبذول کرنے سے عاجز رہا ؛مگر برادرم نوزاش صاحب نے مصنف کا کچھ تعارف کرایا اور اس کتاب کے منظر عام پر آنے کی دوبارہ اطلاع دی اور یہ بھی کہا کہ یہ کتاب میں منگوا رہاہوں تو سن کر خوشی ہوئی اور مصنف کے تئیں قدر و منزلت محبت و احترام کا جذبہ دل میں پیدا ہوگیا ،اسی دوران" امروہہ" کا سفر درپیش ہوا ، جب" امروہہ" کے سفر سے واپسی ہوئی تو یہ کتاب نوازش بھائی کے پاس آچکی تھی اور وہ اس کا مطالعہ تقریبا کرچکے تھے ، جب وہ مطالعہ مکمل کرچکے تو مجھے یہ کتاب مطالعہ کےلیے دیا اور یہ بھی کہا کہ آپ اس پر کچھ لکھیں میں نے ان شاء اللہ کہا اور کتاب لےآیا ،جب مطالعہ شروع کیا تو مکمل پڑھے بغیر نہ رہ سکا کیوں کہ ایک مضمون کا دوسرے مضمون سے اس قدر ربط تھا کہ پہلا مضمون دوسرے کے بغیر ناقص معلوم ہورہاتھا اس لیے ایک دن میں ہی اس کو نمٹادیا-

یہ کتاب ارشد ہمراز صاحب کا سفر نامہ ہے جو مختلف موقع سے انہوں نے کیے- 
پہلی مرتبہ ریل کا سفر انہوں نے 2011 میں مشاعرہ سننے کےلیے ارریہ سے کٹیہار کا کیا، اس کی روداد کا ابتدائی حصہ نہایت دلچسپ ہے کیوں کہ اس میں سیمانچل کی تہذیب کا نقشہ کھینچا گیا ہے،کھیت کھلیان، نہر اور کسانوں کا تذکرہ اس انداز سے کیا گیا ہے جو حقیقت کی عکاسی کرتاہے -
علی گڑھ سے لکھنؤ کے سفر نامہ میں لکھنؤ شہر کی خصوصیات اور اس کی تاریخی مقامات " ندوہ "،"بھول بھلیا " امام باڑہ اور مختلف مقامات کا ذکر ہے ، میسور کے سفر کا ذکر بھی بہت شاندار ہے ، شہر میسور شیر میسور ٹیپو سلطان کا شہر ہے ان کی حکومت ضرب المثل ہے ،ان کا تذکرہ مصنف نے جس انداز سے کیا ہے وہ دیدنی ہے، ان کی شجاعت و بہادری کا ذکر، ان کی دور حکومت کی روداد ،ان کے مزارات کی خصوصیات وغیرہ کو نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ تحریر کیا -

یہ کتاب صرف ایک سفرنامہ نہیں بلکہ علم وادب شعر وسخن اور تاریخ کا حسین مرقع ہے،موصوف جہاں بھی گیے جو بھی دیکھا سب کو تاریخی زاویے سےدیکھا اور اس کو اسی انداز میں قلمبند کیا ، ادب و لطافت سے پر سفر نامہ کی یہ خصوصیت ہے کہ موقع موقع سے مناسب ومعتبر اشعار ناموں کے ساتھ ذکر کیاہے یہ خوبی کی بات ہے کہ آدمی اپنی بات کو شعر کی پیرایہ میں پیش کرے ،اس سے بات کو تقویت ملتی ہے- 
اس کتاب کے پڑھنے سے ان مقامات کی زیارت ہوگئی جو اب تک مقدر نہ ہوسکی ،بس اس شعر کے ساتھ رخصت ہوا چاہتاہوں 

ابھی چند لفظوں میں سمیٹا ہے تجھے میں نے 
ابھی میری کتابوں میں تیری تفسیر باقی ہے

 اللہ تعالی اس کتاب کو شرف قبولیت بخشے ، مصنف اور برادرم نوازش کو جزاۓ خیر دے جن کی وجہ سے مجھے بھی علم و ادب کے دریا میں غوطہ زنی کا موقع ملا ،