تحریر: محمد سعد


آج جس دور سے ہم اور آپ گزر رہے ہیں، یہ سوشل میڈیا کا دور ہے، جہاں ملکی و عالمی خبریں ہمہ وقت ہمارے سامنے ہوتی ہیں۔ ہر شخص کی انگلیاں ہر آن موبائل اور اسمارٹ فون کی اسکرین سے کھیل رہی ہیں، ہر زبان سے رائے نکل رہی ہے، اور ہر ذہن اپنے خیالات و نظریات کو دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے۔ چند سال پہلے مفکرین، ادباء اور دانشور مخصوص لوگ ہوا کرتے تھے، لیکن آج ہر شخص خود کو مفکر سمجھ رہا ہے، اور علمی، عملی، عالمی، مذہبی، معاشرتی اور سیاسی مسائل پر اپنی رائے اور تجزیے پیش کر رہا ہے۔

قلم اب صرف مخصوص طبقے کے ہاتھوں میں نہیں رہا، اب ہر شخص کے ہاتھ میں ڈیجیٹل قلم کے طور پر موبائل فون موجود ہے۔ یہ بظاہر ایک آزادی ہے، مگر اس کے اثرات زیادہ مثبت نظر نہیں آتے۔ سوشل میڈیا پر ہزاروں لوگ اپنی بات اپنے انداز میں رکھ رہے ہیں، لیکن ان میں اکثریت شعور سے نابلد ہے، اور بغیر کسی تحقیق و تفتیش کے اپنی رائے کو دوسروں پر تھوپنا چاہتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں تحقیق اور تصدیق کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا" (اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لیا کرو)(سورۃ الحجرات: 6) لیکن افسوس کہ آج یہی تعلیم فراموش کر دی گئی ہے۔ لوگ سنی سنائی باتوں کو دلیل بنا کر پیش کرتے ہیں، اور اس پر گھنٹوں بحث کرتے ہیں، مگر نتیجہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ تحقیق کے فقدان کی وجہ سے جھوٹ اور سچ کا فرق مٹتا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر مفکرین کے اس جمِ غفیر نے نوجوان نسل کے ذہنوں کو منتشر کر دیا ہے، ان کے پاس صرف سطحی علم رہ گیا ہے۔ ان کی رائے میں عجلت اور جذباتیت عام ہو چکی ہے۔ شہرت اور مقبولیت کے لیے رائے دینا اب فیشن بن گیا ہے، چاہے وہ حقیقت سے میل کھائے یا نہ کھائے۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے بارہا غور و فکر کی دعوت دی ہے:"أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ" (کیا وہ قرآن میں غور نہیں کرتے؟) (سورۃ محمد: 24) مگر آج کا انسان بولنے پر زیادہ زور دیتا ہے، سوچنے پر نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اصل مفکری اور حقیقی دانشوری دھندلا گئی ہے۔

آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا ایک ایسا میدان ہے جہاں مفکرین کا ہجوم تو بہت ہے، مگر ہر آواز معتبر نہیں، یہ دور "بولنے والوں" کا ہے، "سوچنے والوں" کی کمی بڑھتی جا رہی ہے، اگر ہم اس پلیٹ فارم کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں، تحقیق، صداقت اور اخلاق کو بنیاد بنائیں، تو یہی سوشل میڈیا علم ایک علمی انقلاب کا ذریعہ بن سکتا ہے، ورنہ یہ مفکرین کا جمِ غفیر صرف شور تو پیدا کرے گا، مگر روشنی نہیں۔

نئی عمروں کی خود مختاریوں کو کون سمجھائے

کہاں سے بچ کے چلنا ہے کہاں جانا ضروری ہے