*ایسے تھے ہمارے حاکم۔*
تاریخِ اسلام کے صفحات جب کھولے جاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے حکمرانی کو اقتدار عیش و عشرت اور ذاتی مفاد کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے ایک امانت اور جواب دہی قرار دیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کا ایک واقعہ اسی حقیقت کی ایسی تصویر پیش کرتا ہے کہ آج کے حکمران اور صاحبِ اقتدار لوگ بھی اسے پڑھیں تو شاید انہیں اندازہ ہو کہ کرسی کتنی بڑی ذمہ داری ہے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ کو حمص کا والی مقرر فرمایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ وہ اپنے مقرر کردہ عُمَّال اور والیوں کی نگرانی کرتے اور رعایا سے براہِ راست پوچھتے کہ ان کا حاکم کیسا ہے۔ جب ایک مرتبہ اہلِ حمص سے پوچھا گیا کہ تم اپنے والی کو کیسا پاتے ہو تو انہوں نے کہا کہ وہ نیک ہیں لیکن ہمیں ان سے چار شکایتیں ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ چار شکایتیں کیا ہیں؟ *اہلِ حمص نے عرض کیا کہ وہ دن چڑھنے کے بعد ہمارے پاس آتے ہیں۔ رات کو ہماری شکایت نہیں سنتے۔ مہینے میں ایک دن ہمارے درمیان نہیں آتے۔ اور کبھی کبھی لوگوں کے درمیان بیٹھے بیٹھے ان پر ایسی کیفیت طاری ہوتی ہے کہ بے ہوش ہوجاتے ہیں۔* حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور لوگوں کے سامنے ان شکایات کی حقیقت دریافت کی۔
حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ نے پہلی شکایت کے جواب میں فرمایا کہ میرے گھر میں کوئی خادم نہیں ہے۔ صبح اٹھ کر گھر کے کام خود کرتا ہوں۔ آٹا گوندھتا اور روٹی تیار کرتا ہوں پھر لوگوں کے پاس آتا ہوں اس لیے دیر ہوجاتی ہے۔ دوسری شکایت کے بارے میں فرمایا کہ میں نے دن لوگوں کے لیے اور رات اپنے رب کے لیے مقرر کر رکھی ہے۔ دن بھر رعایا کے مسائل سنتا ہوں اور رات اپنے رب کی عبادت اور اپنے نفس کے محاسبے میں گزارتا ہوں۔ تیسری شکایت کے جواب میں بتایا کہ میرے پاس صرف ایک ہی لباس ہے۔ میں اسے دھوتا ہوں جاڑے کا موسم ہے پورا دن میں خشک ہوتا ہے تو جب تک وہ خشک نہیں ہوجاتا گھر سے باہر نہیں نکلتا۔
*اور چوتھی شکایت کا جواب تو دلوں کو ہلا دینے والا تھا۔ حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ میں نے اسلام قبول کرنے سے پہلے حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا وہ منظر دیکھا تھا جس میں قریش نے ان کے ساتھ انتہائی ظلم کیا۔ جب کبھی وہ منظر یاد آتا اور مجھے اپنا وہ زمانہ یاد آتا کہ میں اس وقت مسلمان نہیں تھا تو مجھے خوف ہوتا کہ کہیں اللہ تعالیٰ اس گناہ پر میری گرفت نہ فرمائے۔ یہی سوچ کر مجھ پر ایسی کیفیت طاری ہوجاتی ہے کہ میں بے ہوش ہوجاتا ہوں۔*
ذرا غور کیجیے: یہ ایک والیِ حکومت کا حال تھا۔ نہ سرکاری محل کی خواہش نہ آسائشوں کا انبار نہ خادموں کی فوج نہ دولت جمع کرنے کی فکر۔ گھر میں بیوی کے ساتھ خود کام کرنا بھی عار نہیں اور رات کو اللہ کے سامنے کھڑے ہوکر اپنے اعمال کا حساب لینا بھی معمول ہے۔ یہاں تک کہ اگر حکومت کی طرف سے مال بھی پہنچا تو اسے اپنی ذات پر خرچ کرنے کے بجائے محتاجوں یتیموں مسکینوں اور ضرورت مندوں تک پہنچانے کو ترجیح دی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب ان کے حالات دیکھے تو اللہ کا شکر ادا کیا کہ ان کے بارے میں ان کا حسنِ ظن غلط ثابت نہیں ہوا۔
یہی اسلام کا تصورِ حکمرانی ہے۔ قرآنِ کریم نے فرمایا *{أِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ} یعنی اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچاؤ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا {کُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ}تم میں ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔*
یہاں سے آج کے ہندوستان کے حکمرانوں، وزراء، افسران، عوامی نمائندوں اور ہر اس شخص کے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے جس کے ہاتھ میں کسی بھی درجے کی طاقت اور اختیار ہے۔ کرسی ملکیت نہیں امانت ہے۔ عہدہ عزت کا تمغہ نہیں بلکہ جواب دہی کا بوجھ ہے۔ سرکاری منصب ذاتی شان و شوکت بڑھانے کے لیے نہیں بلکہ عوام کے حقوق ادا کرنے کے لیے ہے۔آج ہندوستان میں مرکزی حکومت سے لے کر ریاستی حکومتوں، ضلعی انتظامیہ اور نچلی سطح کے سرکاری عہدوں تک جو لوگ عوام کے ٹیکس، سرکاری وسائل اور اختیارات کے امین ہیں انہیں اس تاریخی واقعے سے یہ سبق لینا چاہیے کہ حاکم اور عوام کے درمیان فاصلہ جتنا کم ہوگا انصاف اتنا ہی مضبوط ہوگا۔ عوام کی شکایت سننے کے لیے دروازے کھلے ہوں غریب کی آواز دولت مند کے مقابلے میں کمزور نہ ہو سرکاری منصب ذاتی مفاد کا ذریعہ نہ بنے اور قانون طاقتور و کمزور دونوں کے لیے یکساں ہو۔ یہ صرف سیاسی نعرہ نہیں بلکہ اسلامی عدل کا بنیادی تقاضا ہے۔افسوس یہ ہے کہ آج بعض اوقات معمولی سا اختیار ملتے ہی انسان اپنے آپ کو عوام سے بلند سمجھنے لگتا ہے۔ سرکاری دفتر میں بیٹھنے والا معمولی ملازم بھی سائل کو احسان مند سمجھنے لگتا ہے اور بڑے عہدے پر پہنچنے والا شخص تو کبھی کبھی یہ بھول جاتا ہے کہ جس عوام کے ووٹ، ٹیکس اور اعتماد سے اسے اختیار ملا ہے وہ عوام اس کے ماتحت نہیں بلکہ اس کی ذمہ داری ہیں۔
حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ کی گورنری ہمیں بتاتی ہے کہ حکمران وہ نہیں جو لوگوں سے اپنے لیے راستے صاف کروائے بلکہ حکمران وہ ہے جو لوگوں کے راستے کی رکاوٹیں دور کرے۔ حکمران وہ نہیں جو محل میں بیٹھ کر رعایا کے حالات بھول جائے بلکہ وہ ہے جو رعایا کے حال سے بے چین رہے۔ حکمران وہ نہیں جو اپنی دولت بڑھائے بلکہ وہ ہے جو اللہ کے سامنے اپنے حساب سے ڈرے۔اے اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے والو اسلام کی تاریخ پڑھو۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا نظامِ احتساب پڑھو۔حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ کی سادگی پڑھو۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی امانت پڑھو۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کا عدل پڑھو۔تب معلوم ہوگا کہ اسلام میں حکومت تاج پہننے کا نام نہیں بلکہ حقوق ادا کرنے کا نام ہے۔آج دنیا حکمرانی کے نئے نئے اصول بناتی ہے لیکن اسلام نے صدیوں پہلے یہ اصول دے دیا تھا کہ اقتدار کے ساتھ جواب دہی لازم ہے۔ جس دن ہندوستان سمیت دنیا کے تمام صاحبِ اقتدار لوگ اس حقیقت کو سمجھ لیں گے کہ عوام پر حکومت کرنے سے پہلے اللہ کے سامنے جواب دینا ہے اس دن اقتدار ظلم کا ذریعہ نہیں بلکہ خدمت کا وسیلہ بن جائے گا۔
یہ تھے ہمارے وہ حاکم جن کی سادگی تاریخ آج بھی بیان کرتی ہے۔یہ تھے ہمارے وہ والی جن کے پاس حکومت تھی مگر دنیا کی محبت نہیں تھی۔یہ تھے ہمارے وہ حکمران جنہیں رعایا کے حقوق سے زیادہ اپنے رب کے سامنے اپنے حساب کی فکر تھی۔آج ضرورت حکمران بدلنے سے پہلے حکمرانی کا مزاج بدلنے کی ہے۔ کیونکہ اسلام ہمیں صرف یہ نہیں سکھاتا کہ حاکم کون ہو بلکہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ حاکم کیسا ہو۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ ✍️*