باپ بچھڑا تو یوں لگا مجھ کو.....
جیسے دنیا میں کچھ بھی میرا نہ رہا۔
کچھ جدائیاں انسان سے صرف ایک شخص نہیں چھینتیں، اُس کے ساتھ اُس کی دنیا کا ایک پورا حصہ بھی لے جاتی ہیں۔ کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جن کے جانے کے بعد زندگی ختم تو نہیں ہوتی، مگر زندگی پہلے جیسی بھی نہیں رہتی۔
لوگ کہتے ہیں وقت بڑے سے بڑا زخم بھر دیتا ہے، لیکن کچھ زخم شاید بھرنے کے لیے ہوتے ہی نہیں۔ کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ اور گہرے ہوتے جاتے ہیں، میرے بابا کی جدائی بھی میرے لیے ایسا ہی ایک زخم ہے۔
موت نے ہمارے گھر دستک دی اور ہم سے اس انسان کو لے گئی جو مجھے دنیا میں سب سے زیادہ عزیز تھا💔😭 دن ہفتے اور مہینے گزر گئے کیلینڈر پر تاریخیں بدل گئیں لیکن میری دنیا آج بھی وہیں 18 اگست کی رات پر رکی ہوئی ہے جس رات میں نے اپنے والدِ عزیز کو کھویا تھا...
باپ جاتا ہے تو بس ایک شخص نہیں جاتا..
ساتھ خوشیاں بھی کہیں دور چلی جاتی ہیں۔
اس رات کے بعد سے سکون جیسے کہیں کھو سا گیا، خوشیاں جیسے روٹھ گئیں، دل کا ایک حصہ ہمیشہ خالی اور ویران رہتا ہے، ایک گھٹن ہے جو پیچھا نہیں چھوڑتی....
18 اگست کی وہ خاموش مگر بھیانک رات جب بابا جان نے بیماری سے جنگ لڑتے لڑتے 5 ماہ کی طویل علالت کے بعد خاموشی سے ہم سے رخصت لے لی جس میں صرف ہماری سسکیاں اور چیخیں تھیں مگر بابا نہیں تھے،
اس رات اور اس دن کا ہر منظر میری آنکھوں میں قید ہو کے رہ گیا ہے میں آج بھی اسی لمحے اور اسی تکلیف میں جیتی ہوں جس لمحے بابا نے میرے سامنے آخری ہچکی لی اور میں نادان ان کے پاس ان کو پکڑے بیٹھی رہی جان نہ سکی کہ یہ میرے بابا کی زندگی کی آخری سانس تھی لیکن اگلے ہی لمحے سب کے چہرے کے تاثرات نے مجھے یہ سمجھا دیا کہ بابا نہیں رہے، میرے سر پر جیسے آسمان گر پڑا ہو، جیسے ساری دنیا تاریک ہو گئی ہو اور پھر مجھے زبردستی ان کے پاس سے یہ کہہ کر ہٹا دیا گیا کہ میت کو ہاتھ نہیں لگاتے انہیں تکلیف ہوتی ہے، جن ہاتھوں نے ہمیں پروان چڑھانے کے لئے نہ جانے کیا کچھ سہا تھا وہ بے حس و حرکت پڑے تھے جو جسم پوری زندگی ہمارے لئے تھکتا رہا وہ بے جان ہو چکا تھا... آہ
ان للہ وانا الیہ راجعون
میرے پیارے بابا!💔
اللہ آپ کی مغفرت فرمائے، آپ کے درجات بلند فرمائے، آپ کو قبر کے عذاب سے محفوظ رکھے، آپ کی قبر کو کشادہ اور روشن کر دے، آمین۔
وہ رات ہم پہ بہت بھاری تھی بابا... وہ آخری رات تھی جو ہم نے آپ کے ساتھ گزاری آپ کی زندگی کا سورج ڈوبنے کے بعد کی صبح بھی عجیب تھی بابا۔ 19 اگست کی وہ روشن لیکن بے رونق صبح جس کی فضاء میں آپ کے انتقال اور آپ کی نمازِ جنازہ کا اعلان گونجا اور میری زندگی جیسے وہیں ٹھہر سی گئی... 💔
دل ڈوبنے لگا لیکن پھر بھی یہ سوچ کر دل کو تسلی دی کہ بے جان ہی صحیح مگر ابھی تو آپ میرے پاس ہی ہیں ہمارے گھر میں ہمارے ساتھ... پھر کھڑکی سے قبرستان کی طرف جانے والوں کو دیکھا جو آپ کا نیا گھر بنانے جا رہے تھے ایسا گھر جس میں نا روشنی کا انتظام تھا نا ہوا کا۔
کسی نے پوچھا:
"گھر تیار ہو گیا؟"
دل پھر سے ڈوبنے لگا آنکھوں نے برسنا شروع کر دیا کہ اب آپ کچھ ہی گھنٹوں میں ہم سے الگ ہم سے بہت دور چلے جائیں گے اتنی دور جہاں سے نہ آپ کی آواز آے گی اور نہ آپ کا چہرہ نظر آے گا،
اور پھر کچھ دیر بعد آپ سفید چادر میں لپٹے میری آنکھوں کے سامنے میرے بہت قریب ایسے سوۓ ہوۓ تھے جیسے آپ مجھے دیکھ رہے ہوں، جیسے ابھی میں آپ کو آواز دونگی اور آپ میری باتوں کا جواب دینگے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔🥹
میں نے آخری بار کانپتے ہاتھوں سے آپ کو ہاتھ لگانے کی کوشش کی، آپ کو پکارنا چاہا، آپ سے بات کرنی چاہی لیکن... سارے لفظ اندر ہی رہ گۓ اس وقت زبان نے ساتھ چھوڑ دیا صرف آنسوؤں نے بات کی،
اور پھر وہ وقت بھی آ گیا جب آپ کا جنازہ اٹھا،
جب آپ ہمیں ہمیشہ کے لئے تنہا چھوڑ کر جانے لگے نہ ہمیں شفقت کی نظر سے دیکھا نہ ہم سے بات کی بس خاموشی سے چلے گئے، گھر کو ویران کر کے قبرستان جا بسے۔
لیکن آپ اکیلے نہیں گئے بابا میری خوشیاں، میرے خواب، میری خواہشات، میرا سکون، سب آپ کے ساتھ چلا گیا...
آپ کے جنازے کا اٹھنا گویا ہمارے سروں پر آسمان کا گرنا تھا،
وہ گھر جس کی دیواریں بھی مجھے عزیز تھیں اب وہ اجنبی سا معلوم ہوتا ہے اب اس گھر سے اپنے پن کا وہ احساس باقی نہیں رہا
وہ گھر جہاں کبھی آپ کی آواز کا شور ہوتا تھا اور اکثر میرا نام گونجتا تھا
چاے لا دو..
کپڑے دے دو..
کھانا دے دو..
بازار سے کچھ لانا ہے؟
اور کبھی ہمارا ساتھ بیٹھ کر ہنسنا
مسکرانا اور قہقہے لگانا
آپ کی خالی جگہ اور گھر کی ہر چیز آپ کی یاد دلاتی ہے
اب گھر خالی خالی سا ہو گیا ہے اور اس سے کہیں زیادہ خالی ہمارا دل ہو چکا ہے_
آپ کی بیماری کے دوران جب میں آپ کو شدید بے بسی کی حالت میں دیکھتی جب آپ کو روتا ہوا دیکھتی دل خون کے آنسو روتا تھا لیکن میں مضبوط بنی رہی لوگوں کے سامنے مسکراتی رہی میں نے بارہا اپنے آنسوؤں کو اپنے اندر ہی پی لیا کبھی چھپ کر رو لیتی کہ آپ مجھے روتا دیکھ کر مزید تکلیف میں نہ پڑ جائیں یا کوئی اور مجھے کمزور پڑتا نہ دیکھ لے آپ کی موجودگی میری ہمت تھی،
آپ ہی میری ہمت تھے بابا آپ ہی میرا حوصلہ تھے،
لوگوں کی باتوں کے سامنے آپ ہی میری ڈھال تھے۔
اب میں وہ ہمت وہ حوصلہ کہاں سے لاؤں؟
کبھی کبھی دل چاہتا ہے بس ایک بار آپ کی آواز سن لوں
ایک بار آپ کو دیکھ لوں
ایک بار آپ کے پاس بیٹھ کر وہ سب کہہ دوں جو آپ کے جانے کے بعد دل میں رہ گیا ہے،
مگر اب صرف یادیں ہیں، دعائیں ہیں اور ایک ایسا خلاء جو کوئ بھر نہیں سکتا۔
بابا آپ تو چلے گئے لیکن آپ کی بیٹی آج بھی اسی تاریک رات اور روشن دن کی تلخیوں میں جی رہی ہے،
آنکھ ہر بار اشکبار ہو جاتی ہے لیکن دل اب بھی بے یقین سا ہے،
میرے ذہن میں آپ کے ساتھ گزارا ہوا ہر ہر لمحہ ہر منظر زندہ ہے۔
بچپن کی بہت سی باتیں بہت سی یادیں...
وہ آپ کے کندھے کی سواری،
وہ آپ کے سینے پہ بیٹھ کر کھیلنا
وہ میرا ضد کرنا اور آپ کا میری ہر ضد کو پورا کرنا
وہ میرا آپ کے ساتھ ہر جگہ جانا
میری غلطی ہونے پر بھی میری بے جا حمایت کرنا
ہر بار امی کی ڈانٹ سے مجھے بچانا
میری نادانیوں پہ مسکرانا
میری شرارتوں پہ ہنسنا
سر پہ شفقت بھرا ہاتھ اور آپ کا پیار سے میری بیٹی کہنا،
اور ایسی بہت سی باتیں جو اب بس ایک یاد بن کر رہ گئ ہیں_
میں آپ کے سائے میں ہر خوف سے آزاد رہتی تھی بابا لیکن اب آپ کے جانے کے بعد زندگی ایک خوفناک خواب کی مانند ہو گئی ہے ہر تیز آواز خوف زدہ کر دیتی ہے دل میں ایک عجیب سا ڈر بیٹھ گیا ہے
مجھ پہ میری ہی سانسیں بوجھ محسوس ہوتی ہیں آپ کے بغیر ایک طویل عرصہ کیسے گزارونگی بابا اتنی جلدی تو نہیں جانا تھا آپ کو... 😭
کبھی کبھی دل بے اختیار پوچھتا ہے...
اب کون کہے گا: "بیٹی؟" 💔
دردِ نہاں💔✍🏻