آنکھوں کی تباہی - بدنگاہی کا انجام
اللہ تعالیٰ نے انسان کے ہر عضو و جزو کو بہت قیمتی بنایا ہے، اور ان میں خصوصاً آنکھیں اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں میں سے ہیں کہ جن کے فوائد کو ہم شمار نہیں کر سکتے۔
لیکن جب ہم ان کے نقصان کی طرف دیکھتے ہیں تو دل گھبرا نے لگ جاتا ہے کیونکہ بدنگاہی زنا کا پیش خیمہ ہے۔ بدنگاہی سے انسان دین سے بہت دور چلا جاتا ہے اور اسی بدنگاہی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ رزق میں تنگی فرما دیتا ہے۔
اوربدنگاہی ایسی تباہی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہیں کہ جس تباہی سے انسان ایسی کھائی میں گر سکتا ہے کہ جس کی ابتدا تو ہے لیکن انتہا نہیں۔
اب یہ سمجھیے کہ اس تباہی کی وجہ کیا ہے؟ اس بارے میں ہمیں قرآن نے بتا دیا ہے:
﴿قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ﴾
ترجمہ: آپ مومنوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نظریں جھکا کر رکھیں۔
کیونکہ آنکھوں کے ذریعے انسان بہت سے مراحل طے کرتا ہے تو ان میں بعض ایسی چیزوں کا سامنا ہوتا ہے کہ جب نظر جم جائے تو پھر انسان بڑے گناہ میں مبتلا ہو سکتا ہے۔
اور ان آنکھوں کے غلط استعمال کی بہت بڑی سزا ہے، جیسا کہ ایک روایت میں آتا ہے:
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ الْفَضْلُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ، فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ، وَجَعَلَ النَّبِيُّ ﷺ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ۔
اس روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما آپ ﷺ کے پیچھے سواری پر بیٹھے تھے، ایک عورت آئی تو وہ انہیں دیکھنے لگی اور وہ اسے دیکھنے لگے، تو آپ ﷺ نے ان کے چہرے کو دوسری طرف پھیر دیا۔
اب اسی سے اندازہ ہوتا ہے کہ بدنگاہی کتنی بڑی تباہی ہے، کیونکہ وہ جگہ بھی مقدس، فریضہ بھی مقدس یعنی حج، اور ساتھ دو جہانوں کے سردار ﷺ کی سواری پر بیٹھے ہونا، ان سب کے باوجود آپ ﷺ نے چہرہ پھیر دیا۔
امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"النَّظْرُ سَهْمٌ مَسْمُومٌ مِنْ سِهَامِ إِبْلِيسَ"
بدنگاہی ابلیس کے زہر آلود تیروں میں سے ایک تیر ہے۔
ابن القیم الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "بدنگاہی دل میں شہوت کا بیج بو دیتی ہے اور پھر یہ بڑھ کر پورے انسان کو ہلاک کر دیتی ہے، جیسے چھوٹی سی چنگاری بڑھ کر بستیوں کی بستیاں اور گاؤں کے گاؤں جلا دیتی ہے۔"
بدنگاہی بہت بڑا گناہ ہے، لیکن دوسری طرف اگر کوئی اپنے آپ کو اس سے بچائے اور اپنی حفاظت کرے تو اللہ تعالیٰ اس پر بہت بڑے انعام سے نوازتا ہے۔
یہ بات یاد رکھیں کہ ہم جہاں بھی ہوں، جو بھی کریں، اللہ تعالیٰ کو سب کا علم ہے، کیونکہ:
﴿يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ﴾
اللہ تعالیٰ آنکھوں کی خیانت اور دلوں کے بھید کو جانتا ہے، لہٰذا اپنی نظروں کی حفاظت کیجیے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ ہماری نظروں کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔
قلم بند اعجاز الحق فیضی