وفیات:
حضرت مولانا سعید الرحمن ندوی رو پڑے
(ناصرالدین مظاہری)
جن شخصیات کی دیرینہ علمی و قلمی خدمات نے مجھے ہمیشہ متاثر کیا، ان میں ایک تابندہ نام حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی رحمہ اللہ کا بھی ہے۔ ان کی کتابیں ہوں یا ’’البعث الاسلامی‘‘ کے مضامین، ان کا اسلوب عالمانہ بھی تھا، فاضلانہ بھی، محققانہ بھی اور ایسا دل نشیں کہ آدمی ایک مضمون پڑھ کر دوسرا مضمون تلاش کرنے لگتا تھا۔
ایک مرتبہ دل میں داعیہ پیدا ہوا کہ حضرت سے ملاقات کے لیے لکھنؤ جاؤں۔ ٹکٹ بنوایا، ندوہ پہنچا اور حضرت کے دفتر کے باہر بیٹھ کر اجازت کا انتظار کرنے لگا۔ اجازت ملی تو اندر حاضر ہوا، سلام و مصافحہ کیا اور بیٹھ گیا۔
حضرت نے دریافت فرمایا: ’’کس لیے آنا ہوا؟‘‘
میں نے مختصراً عرض کیا:
’’میرا نام ناصرالدین مظاہری ہے۔ میں مظاہرعلوم وقف سہارنپور سے صرف آپ سے ملاقات کے لیے لکھنؤ آیا ہوں۔ ندوہ میں بھی کسی اور سے ملنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ آپ سے ملاقات کے بعد چارباغ ریلوے اسٹیشن جاؤں گا، وہاں سے ٹرین ہے، واپسی کا ٹکٹ بھی بنا ہوا ہے۔‘‘
حضرت نے تعجب سے پوچھا: ’’کوئی اور کام تو ہوگا ہی؟‘‘
میں نے عرض کیا: ’’بالکل نہیں۔ کسی سے ملنے کا نہ تقاضا ہے نہ ارادہ۔ صرف آپ سے ملاقات کے لیے دل بے قرار ہوا، اس لیے بلا اجازت حاضر ہوگیا۔ مجھے آپ کے وقت کی قدر کا احساس ہے۔ باہر میری طرح اور بھی بہت سے لوگ ملاقات کے منتظر ہوں گے، اس لیے اجازت عنایت فرمادیں۔"
میری بات ابھی پوری بھی نہ ہوئی تھی کہ حضرت کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ آپ نے آنسو پونچھے، ہاتھ کے اشارے سے مجھے رکنے کو کہا اور سر جھکا لیا۔ جسم کی حرکت سے محسوس ہورہا تھا کہ آپ اپنے جذبات پر قابو پانے کی کوشش کررہے ہیں۔
اسی دوران گرما گرم سبز چائے آگئی۔ چائے واقعی لذیذ، مفرح اور سکون آور تھی، مگر کپ اتنے چھوٹے کہ ہم سہارنپور والوں کے لیے شاید نمونے کے کپ معلوم ہوتے تھے۔ دو چار چسکیوں میں کپ خالی کرکے پرچ میں رکھ دیا۔
پھر عرض کیا: ’’حضرت! آپ کا وقت بہت قیمتی ہے، اجازت دے دیجیے۔‘‘
حضرت مسکرائے اور فرمایا: ’’نہیں، اتنی جلدی کیسے اجازت دے دوں؟ ٹرین کا وقت کیا ہے؟‘‘
میں نے وقت بتایا تو فرمایا: ’’ابھی تو کافی دیر باقی ہے، اتنا وقت کہاں رکو گے؟‘‘
میں نے عرض کیا: ’’کچھ نہ کچھ ترتیب بن جائے گی، ان شاء اللہ۔‘‘
پھر حضرت نے فرمایا: ’’آپ کا نام جانا پہچانا لگتا ہے۔‘‘
میں نے عرض کیا: ’’ماہنامہ آئینہ مظاہرعلوم کے نام سے مدرسہ مظاہرعلوم وقف کا رسالہ بھی نکلتا ہے، شاید اسی وجہ سے ذہن میں ہو؟‘‘
فرمایا: ’’ہاں، صحیح کہتے ہو۔‘‘
پھر کچھ توقف کے بعد فرمایا:
’’جس طرح آپ صرف میری ملاقات کے لیے آئے ہیں، کوئی نہیں آتا۔ لوگ آتے ہیں تو دس دوسری ضرورتیں ہوتی ہیں۔ کوئی مجھ سے تصدیق لینے آتا ہے، کوئی تاریخ پوچھنے، کوئی کسی اور کام سے۔ اس لیے آپ کا آنا قابل قدر ہے۔‘‘
حضرت نے دوبارہ چائے منگوائی اور فرمایا: ’’اگر قیام کرنا ہو تو میں اپنے گھر نظم کردوں؟‘‘
میں نے عرض کیا: ’’نہیں حضرت! مجھے واپسی کا تقاضا ہے۔‘‘
تقریباً آدھا گھنٹہ حضرت کی خدمت میں بیٹھا رہا۔ محبتیں ملیں، شفقت ملی، اور سب سے بڑھ کر یہ احساس ملا کہ ایک بڑے عالم کے سینے میں علم کے ساتھ کتنا نرم اور حساس دل بھی ہوسکتا ہے۔
لوگوں سے سنا تھا کہ حضرت بڑے ’’خطرناک‘‘ ہیں، ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتے؛ مگر میری ملاقات نے اس تصور کو بالکل بدل دیا۔ مجھے تو حضرت بڑے شفیق، بڑے کریم، بڑے ملنسار اور نہایت رقیق القلب محسوس ہوئے۔
بڑی مشکل سے رخصت کی اجازت ملی۔ باہر نکلا تو حضرت کا حاجب مجھے گھور گھور کر دیکھ رہا تھا۔ شاید سوچ رہا ہوگا کہ ایک معمولی ملاقات کے لیے اتنا وقت آخر کس لئے ضائع کردیا!
لیکن آج سوچتا ہوں تو لگتا ہے، وہ وقت ضائع نہیں ہوا تھا؛ وہ وقت تو میری زندگی کے ان قیمتی لمحات میں شامل ہوگیا جنہیں آدمی عمر بھر سنبھال کر رکھتا ہے۔
پھر لاک ڈاؤن سے پہلے تاجپور ضلع بجنور میں محترم مولانا سراج الدین ندوی مدظلہ کے عظیم الشان ادارے میں ادب عربی پر ایک سیمینار ہوا۔ مجھے بھی شرکت کا پیغام ملا، حاضری ہوئی اور حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی رحمہ اللہ کی زیارت و ملاقات کا ایک اور موقع مل گیا۔
پروگرام میں میرا مقالہ بھی پیش ہوا۔ میں نے مقالہ پڑھ کر سنایا اور صدارت حضرت ہی فرما رہے تھے۔
بعد میں حضرت مولانا سراج الدین ندوی مدظلہ کئی گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ ایک ادارے کے سنگ بنیاد کے لیے ہمیں کسی مقام پر لے گئے۔ وہاں حضرت نے سنگ بنیاد رکھا۔ اسی دوران میری طرف نظر پڑی، مسکرائے اور سب کے سامنے بلند آواز سے فرمایا:
’’آپ نے مقالہ بہت اچھا پڑھا۔‘‘
حضرت کے یہ چند الفاظ میرے لیے محض تعریف نہیں تھے؛ ایک سند تھے، حوصلہ افزائی تھی اور ایک بزرگ عالم کی طرف سے ملنے والی ایسی دولت تھی جسے آدمی دل میں محفوظ کرلیتا ہے۔
حضرت مولانا نہایت نیک، شریف، خلیق اور اصول و ضوابط کے پابند انسان تھے۔ بے اصولی آپ کو بالکل پسند نہ تھی۔ ایک مرتبہ کسی بھنگی یا چپراسی کی کسی غلطی پر آپ نے اسے ’’تم‘‘ کہہ دیا۔ اگلے دن اسے بلایا اور فرمایا:
’’مجھے معاف کردینا، میں نے آپ کو تم کہہ دیا تھا۔‘‘
یہ معمولی واقعہ نہیں۔ یہ اس مزاج کی علامت ہے جس میں بڑائی کے باوجود اپنے سے چھوٹے انسان کے احترام کا احساس زندہ رہتا ہے۔
حضرت کی حیات، خدمات، علمی مقام، تدریسی کمالات، انتظامی بصیرت، عربی زبان و ادب سے شغف اور ان کے تربیتی اسلوب پر ان شاء اللہ بہت کچھ لکھا جائے گا۔ امید ہے ہفتہ دس دن میں ہی ان کی شخصیت پر کئی سو مضامین سامنے آجائیں گے، کیونکہ ان کی دل ربا شخصیت میں وہ کشش اور تربیتی انداز میں وہ ندرت تھی جو طلبہ کے قلب و ذہن پر نقش ہوجاتی تھی۔
میں حضرت کا شاگرد نہیں رہا، ان کی بار بار ملاقاتوں سے فیض یاب ہونے کا موقع نہیں ملا، ان کی مجالس میں بیٹھنے اور ان کے تربیتی و روحانی فیضان سے بہرہ ور ہونے کی دولت بھی مجھے نصیب نہیں ہوئی۔ اس لیے ان کی شخصیت پر لکھنے کا میرا حق بھی بہت محدود ہے۔
جو کچھ لکھا ہے، وہ ایک عقیدت مند کی دو ملاقاتوں کی یاد ہے؛ بس!
باقی ان کے معاصرین لکھیں گے، ان کے رفقاء لکھیں گے، دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے اساتذہ لکھیں گے، ان کے شاگردان رشید لکھیں گے، اہل تعلق لکھیں گے، اور وہ لوگ لکھیں گے جنہوں نے ان کی زندگی کے شب و روز کو قریب سے دیکھا اور ان کے علم، عمل، اخلاق اور تربیت سے فیض پایا۔
اللہ پاک دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کو اس کی شایان شان مہتمم عطا فرمائے۔حضرت کو جنت الفردوس میں اعلی و بالا مقام عطا فرمائے۔
(پچیس ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری بعد العشاء)