ہر خاندان ایک درخت ہوتا ہے۔ اس کی جڑیں ماضی میں دفن ہوتی ہیں اور اس کی شاخیں مستقبل کی طرف پھیلتی ہیں۔ ماضی مضبوط ہو تو درخت سرسبز رہتا ہے، اور اگر جڑیں کمزور پڑ جائیں… تو پوری نسل خزاں کا شکار ہوجاتی ہے۔ ایمان کا درخت بھی بالکل ایسا ہی ہے۔ یہ وراثت صرف نام سے نہیں چلتی، اسے علم، تربیت اور مسلسل محنت چاہیے—ورنہ چند نسلوں کے بعد درخت خزاں رسیدہ ہوجاتا ہے۔


ذرا دیکھیے… جاوید اختر کے خاندان کو۔


پردادا علامہ فضلِ حق خیرآبادی—جنگِ آزادی کے مردِ مجاہد، علمی عظمت کے چراغ، جنہوں نے انگریز کے خلاف جہاد کا تاریخی فتویٰ دیا۔

پھر دادا مضطر خیرآبادی—علم و ادب کے وارث، جن کے اشعار میں ایمان کی مہک تھی۔

پھر والد جانثار اختر—ذہانت اور شاعری کے شہزادے، مگر سوشلزم کی ہواؤں نے انہیں مذہب سے دور کردیا۔

اور پھر…

چوتھی پیڑھی میں جاوید اختر—جو اپنے آپ کو علانیہ مُلحد کہتا ہے، خدا کے وجود کا انکار اس کی فکر کا حاصل بن چکا ہے۔


دیکھا…؟

کچھ ہی نسلوں میں ایمان سے الحاد تک کا سفر۔


یہ کہانی صرف ایک شخص کی نہیں، ہر اُس گھر کی آئینہ دار ہے جہاں دین کی شمع کمزور پڑ جائے۔


قرآن پاک کی صدا ہے:


يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا

اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔ (التحریم: 6)


یعنی اولاد کے ایمان کا تحفظ بھی تمہاری ذمہ داری ہے۔

محض نام رکھ دینا کافی نہیں، نہ ہی دینی ماحول کا دھندلا سا سایہ انہیں بچا سکتا ہے۔


رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ”

تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے، اور اس کی رعیت (ما تحتوں) کے بارے میں اس سے سوال ہوگا۔ (بخاری)


یہ حدیث ہر ماں کو جھنجھوڑتی ہے، ہر باپ کا گریبان پکڑتی ہے کہ: اگر تم نے اپنی اولاد کو قرآن نہ سکھایا، نماز سے نہ جوڑا، دین کا شعور نہ دیا تو تمہاری نسل کہاں جاکر ٹھہرے گی؟

آج گھر میں اسکرین ہے، مگر قرآن نہیں۔

مغربی نظریات کا شور ہے، مگر حدیث کی آواز نہیں۔

خواہشات کی آزاد فضا ہے، مگر اللہ کا خوف معدوم۔

پھر والدین حیران ہوتے ہیں کہ: "ہمارا بچہ دین سے دور کیوں ہوگیا؟"


اے وہ لوگ جنہیں اللہ نے ایمان کی دولت عطا فرمائی ہے— یاد رکھو، اگر تم نے اپنے بچوں کو دین سے نہیں جوڑا اور اسلامی تعلیمات سے آشنا نہ کیا تو پھر چاہے تم عالم ہو، مفتی ہو، خطیب ہو، کوئی بعید نہیں کہ تمہاری آئندہ نسلیں دین و ایمان سے ہی ہاتھ دھو بیٹھیں۔

آج ایمان کی شمع اگر مدھم پڑ رہی ہے… تو اسے آج اور ابھی ایمان و قرآن کی لو دے کر مضبوط کیجیے۔

ورنہ آنے والی نسلیں شاید الحاد کو فخر اور ایمان کو جرم سمجھنے لگیں۔


مسلمانو! 

اپنے گھروں میں ایمان کے چراغ روشن کرو…

ورنہ کل تمہاری نسلیں اندھیروں کی اس انتہا تک پہنچ سکتی ہیں کہ واپس پلٹنے کی راہ ہی نہ بچے۔


از: آفتاب اظہر صدیقی

کشن گنج، بہار